کارپٹ پائتھن: آسٹریلیا میں ایک گھر کی چھت پھاڑ کر گرنے والے دو غیر معمولی لمبے اژدھے

،تصویر کا ذریعہNORTH BRISBANE SNAKE CATCHERS AND RELOCATIOn
آسٹریلیا میں کوئنزلینڈ کے ایک رہائشی اس وقت حیران و پریشان رہ گئے جب گھر واپس لوٹنے پر انھوں نے دیکھا کہ دو سانپ گھر کی چھت پھاڑ کر اندر گرنے کے بعد گھوم پھر رہے تھے۔
ڈیویڈ ٹیٹ کو ایک سانپ ان کی بیڈ روم میں ملا جب کہ دوسرا گھر کے عام استعمال کے کمرے میں پھر رہا تھا۔ ان دونوں کا مجموعی وزن تقربیاً 22 کلو گرام تھا۔
سانپ پکڑنے والے سٹیون براؤن کا کہنا تھا یہ سانپ غیر معمولی حجم کے تھے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں نر سانپ کسی مادہ سانپ کے پیچھے تھے جس کو اب تک تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہNORTH BRISBANE SNAKE CATCHERS AND RELOCATIOn
کارپٹ پائتھن نسل والے ایک سانپ کی لمبائی 2 عشارہہ 8 میٹر جبکہ دوسرا 2 عشاریہ 5 میٹر لمبا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گھر کے رہائشی ڈیویڈ ٹیٹ نے کہا کہ وہ اس سے پہلے سانپوں کو اپنی چھت پر دھوپ سینکتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔
انھوں نے آسٹریلوی اخبار دی کوریئر میل کو بتایا کہ جب وہ گھر واپس آئے تو انھوں نے باورچی خانے کی میز پر چھت کے اندرونی حصے کا ایک ٹکڑا گرا دیکھا۔ ٹوٹی ہوئی چھت دیکھ کر انھوں نے گھر کے دوسرے حصوں کی تلاشی لینا شروع کی اور انھیں یہ دو سانپ نظر آئے۔
اس کے بعد انھوں نے سانپ پکڑنے والوں کو بلایا اور یہ ساری پریشانی جلد ہی ختم ہو گئی۔
انھوں نے کہا کہ وہ خود سانپوں کو پکڑنا نہیں چاہتے تھے۔
سانپ پکڑنے والے مسٹر براؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دونوں سانپوں کا حجم غیر معمولی تھا اور عام طور پر جو سانپ وہ پکڑتے ہیں ان سے کہیں زیادہ تھا۔
اپنے فیس بک کے صفحے پر انھوں نے لکھا کہ اس گھر میں پہنچنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ سانپ گھر کی چھت سے گھر میں گرے تھے۔
انھوں نے کہا کہ سانپوں کا موسم شروع ہونے والا ہے اور آج ان کی افزائش نسل کے مہینوں کا پہلا دن ہے اور جب درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوتا ہے تو سانپ زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر کوئی سانپ دیکھے تو اپنی جگہ ساکت کھڑا رہے اور جب سانپ کو ان سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوگا تو وہ خود ہی چلا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ سانپ خود کسی بھی خطرے کو محسوس کرتے ہی بچنا چاہتے ہیں۔











