اسلام آباد: جج کے گھر میں کمسن ملازمہ پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درج، ’بچی کے سر پر زخم تھے جن میں کیڑے پڑ چکے تھے‘

file

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, محمد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

انتباہ: اس تحریر میں درج تفصیلات بعض قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کی ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

بچی کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ بچی اسلام آباد میں تعینات ایک سول جج کے گھر میں گذشتہ 6 ماہ سے بطور گھریلو ملازمہ کام کر رہی تھیں۔

متاثرہ بچی کا تعلق پنجاب کے شہر سرگودھا سے ہے۔ ایف آئی آر میں والد کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب وہ گذشتہ روز (پیر) اپنی بیٹی سے ملاقات کرنے اپنی اہلیہ سمیت اسلام آباد آئے تو جج کے گھر میں وہ انھیں زخمی حالت میں ملی جبکہ بچی لگاتار رو رہی تھی۔

والد کے مطابق بچی کی حالت کو دیکھتے ہوئے اسے فوراً طبی امداد کی غرض سے سرگودہا لے گئے جہاں کے سرکاری ہسپتال نے انھیں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد لاہور کے جنرل ہسپتال ریفر کر دیا کیونکہ بچی کے زخم خراب ہو چکے تھے۔

درج مقدمے کے متن کے مطابق بچی کا دعویٰ ہے کہ اس پر سول جج کی اہلیہ کی جانب بدترین تشدد کیا جاتا رہا ہے۔

سرگودھا کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) فیصل کامران نے بتایا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کے سر سمیت جسم پر 15 جگہ پر زخموں کے نشانات ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’بچی کے سر پر متعدد جگہ گہرے زخم ہیں اور بروقت علاج نہ ہونے کے باعث یہ زخم خراب ہو چکے ہیں اور ان میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

میڈیکل رپورٹ کے مطابق ’15 ظاہری چوٹوں کے علاوہ بچی کے اندرونی اعضا بھی متاثر ہیں۔‘

اسلام آباد پولیس کے سربراہ ڈاکٹر اکبر ناصر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس ملزمہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی کیونکہ جن دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے وہ ناقابل ضمانت دفعات ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس مقدمے کی تفتیش کے دوران سول جج کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا کیونکہ گھریلو ملازمہ پر تشدد اُن کے گھر پر ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تفتیش میں تعاون نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل سنہ 2017 میں اسلام آباد کے ایک ایڈیشنل سیشن جج اور ان کی اہلیہ کے خلاف کمسن ملازمہ پر گھریلو تشدد کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا اور جرم ثابت ہونے پر انھیں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اس سزا کو سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

بی بی سی سے کے ساتھ بچی کی والدہ کا ایک کلپ شیئر کیا گیا ہے جس میں وہ انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ’ظلم آپ سب کے سامنے ہے، مجھے انصاف چاہیے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ برس لاہور میں ایک کمسن گھریلو ملازم کامران کو مبینہ طور پر ’فریج سے کھانا چوری کرنے‘ کے الزام میں قتل کر دیا گیا تھا۔

’جج کی اہلیہ روزانہ اس پر تشدد کرتی تھی‘

pakistan

،تصویر کا ذریعہsocial media

،تصویر کا کیپشنمتاثرہ بچی کے لواحقین سرگودہا میں ہسپتال کے باہر احتجاج کر رہے ہیں

اسلام آباد میں درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق بچی کی والد کی جانب سے مذکورہ سول جج کی اہلیہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھیں ان کی بیٹی نے بتایا ہے کہ ’وہ (جج کی اہلیہ) روزانہ ان پر ڈنڈوں اور چمچوں سے تشدد کرتی تھیں اور کمرے میں بھوکا پیاسا پھینک دیتی تھیں۔‘

مقدمے کے مطابق بچی نے یہ بھی بتایا ہے کہ انھیں سول جج کے گھر ملازمت کے بعد سے زیادہ تر عرصہ ایک کمرے میں بند کر کے رکھا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد نے پولیس کو بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی بچی کو ایک جاننے والے کی وساطت سے اسلام آباد کے جج کے گھر کام کے لیے رکھوایا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق جب بچی کے والد اور والدہ کئی ماہ صرف فون پر بات کرنے کے بعد گذشتہ روز بچی سے ملنے جج کے گھر پہنچے تو انھیں ایک کمرے سے اس کے رونے کی آواز آئی۔

’جب ہم نے اس کمرے کا رخ کیا تو وہاں سے بچی زخمی حالت میں موجود تھی اور زارو قطار رو رہی تھی۔‘

ایف آئی آر میں بچی کے جسم پر موجود زخموں کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ’بچی کے سر پر جگہ جگہ زخم تھے جن میں چھوٹے کیڑے پڑ چکے تھے۔ ان کا بازو، دونوں ٹانگیں اور ایک دانت بھی ٹوٹا ہوا تھا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’بچی کے جسم کے دیگر حصوں پر زخموں کے علاوہ ان کے گلے پر بھی نشانات تھےجیسے کسی نے گلا گھونٹنے کی کوشش کی ہو۔‘

child

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بچوں پر تشدد کے حوالے سے پاکستان کے قوانین کیا کہتے ہیں؟

خیال رہے کہ اس معاملے میں ایف آئی آر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 506 اور 342 کے تحت درج کی گئی ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 342 حبسِ بے جا میں رکھنے کے حوالے سے ہے جس کی سزا ایک سال تک قید اور تین ہزار روپے جرمانہ ہے جبکہ دفعہ 506 کے تحت جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے حوالے سے ہے جس میں دو سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

آئیے پہلے تعزیرات پاکستان میں موجود قوانین کا ذکر کر لیتے ہیں۔

تاہم ماضی میں کمسن بچوں کے تحفظ کے حوالے سے قوانین بنانے میں معاونت کرنے والے وکیل شرافت علی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 328 (اے) موجود ہے جس کے تحت طیبہ تشدد کیس میں جج اور ان کی اہلیہ کو سزا دی گئی تھی۔

اس قانون کے تحت بچوں کے ساتھ تشدد، برا سلوک، ان کے بنیادی حقوق نظرانداز کرنے یا انھیں جسمانی یا ذہنی طور پر نقصان پہنچانے کی صورت کم سے کم ایک سال جبکہ زیادہ سے تین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے جبکہ اس ضمن میں پچیس سے پچاس ہزار جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

وکیل شرافت علی کا کہنا ہے کہ اسی طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ 336 اے اور بی اور 337 اس وقت لگائی جاتی ہے جب متاثرہ شخص کا میڈیکل کر لیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق سیکشن 336 اے میں بچوں کو کسی ایسی چیز سے ضرر پہنچانے جیسے اقدام سے نقصان پہنچانا شامل ہوتا ہے جس سے ان کے جسم کے کسی عضو کو نقصان پہنچایا جائے۔ تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 336 اے میں ایسے مواد کی فہرست موجود ہیں جس کے ذریعے کسی بچے کے جسم کے عضو کو نقصان پہنچا کر اس کی ہیت بدل دی جائے۔

اسی طرح سیکشن 336 بی کے مطابق ایسی صورت میں ملزم کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے یا ایسی سزا جو 14 سال سے کم نہ ہو اور اس ضمن میں جرمانہ 10 لاکھ ہو۔

انھوں نے بتایا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 337 میں بہت تفصیل سے درج ہے کہ کس قسم کے تشدد پر کتنی سزا دی جاتی ہے اور یہ بھی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد شامل کی جا سکتی ہے۔ اس بارے میں متاثرہ شخص کے سر پر لگنے والے زخموں کے حوالے سے خصوصاً سخت سزا کا ذکر ہے۔

’مسئلے کی جڑ بچے کی تعریف ہے جو مختلف قوانین میں مختلف ہے‘

اس حوالے سے جو ایک متنازع امر پاکستان کے قوانین میں موجود ہے وہ ’بچے‘ کی تعریف ہے یعنی کتنی عمر سے کم کسی انسان کو کمسن قرار دیا جا سکتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر لیگل ایڈ سیل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ندا علی کا کہنا ہے کہ مسئلے کی جڑ بچے کی تعریف ہے جو مختلف قوانین میں مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ نے کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ پر دستخط کیے ہیں تو ہر قانون میں ایک عمر ہونی چاہیے اور وہ 18 سے کم نہیں ہونی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قوانین پر عمل درآمد کرنا اس لیے بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کو ملازمتوں پر رکھنا پاکستان میں ایک غیر رسمی شعبہ ہے۔

’گھریلو ملازمین کے حوالے سے قوانین 18 برس سے زیادہ عمر کے لیے ریگولرائز کرنا مشکل ہے تو پھر بچوں کے لیے تو یہ اور بھی مشکل ہے۔‘

وکیل شرافت علی بتاتے ہیں کہ ’پاکستان کے کچھ قوانین میں تو ایک 18 سال سے کم عمر بچے کو جووینائل قرار دیا جاتا ہے تاہم پاکستان کے لیبر قوانین اس بارے میں ابہام کا باعث بنتے ہیں۔

’اس وجہ سے گھریلو ملازمت یا بچوں سے مزدوری کروانے کے حوالے سے اکثر اوقات گنجائش نکل آتی ہے۔‘

انھوں نے اس بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’خیبوپختونخوا کے قوانین کے مطابق کم سے کم عمر جس پرایک بچے کو ملازمت دی جا سکتی ہے وہ 12 سال سے زیادہ ہےاور پنجاب میں یہ عمر 15 سال سے زیادہ ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اسی طرح کچھ قوانین کے تحت 14 سال سے زیادہ عمر کے بچے کو کام پر لگایا جا سکتا ہے۔‘

شرافت علی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جب تک پاکستان کے لیبر قوانین میں بچے کی تعریف یکساں نہیں ہو گی تو انھیں کام پر رکھنے کی گنجائش نکالی جاتی رہے گی۔‘

بلوچستان نے اپنے سنہ 2016 کے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ میں بچے کی تعریف 18 سال سے کم عمر کے طور پر کی گئی ہے۔

file

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

پاکستان میں گھریلو ملازمت پر رکھنے کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟

وکیل شرافت علی نے بتایا کہ پاکستان کے قوانین میں گھریلو ملازمت کے حوالے سے بہت ابہام بھی پایا جاتا ہے اور اس ضمن میں موجود قوانین میں متعدد مسائل موجود ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کچھ لیبر قوانین میں کمسن بچوں سے خطرناک نوعیت کے کام کروانے کی تو ممانعت ہے لیکن اس کے علاوہ کاموں کی نوعیت کے حوالے سے قانون خاموش ہے۔

’یہی وجہ ہے کہ کمسن بچوں کو گھریلو ملازمت پر رکھنے کے حوالے سے گنجائش نکل آتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اسلام آباد کے امپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991 میں گھریلو کام کو بھی خطرناک نوعیت کام قرار دیا گیا تھا۔ تاہم باقی صوبوں میں فی الحال ایسا نہیں ہے۔

شرافت علی نے بتایا کہ گذشتہ برس آئی سی ٹی ڈومیسٹک ورکز بل 2021 پاس کیا گیا تھا جس میں گھریلو ملازمین کو ریگلولرائز کرنے اور بچوں کی گھریلو ملازمت کے حوالے سے تفصیلات درج تھیں تاہم وہ قانون بن تو گیا تاہم اس پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اسی طرح پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 بھی موجود ہے جس میں کسی بھی 15 سال سے کم عمر بچے کو گھریلو ملازمت پر رکھنے کی ممانعت ہے۔

تاہم اس قانون میں بھی ایک گنجائش موجود ہے جب اس میں 18 سے کم عمر بچوں کو گھریلو ملازمت میں ’لائٹ ورک‘ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

’لائٹ ورک‘ وہ گھریلو کام ہے جو پارٹ ٹائم نوعیت کا ہوتا ہے اور اس سے صحت کو نقصان، جان کا تحفظ اور پڑھائی متاثر نہیں ہوتی۔

اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی سنہ 2021 میں گھریلو ملازمین کی فلاح اور تحفظ کے حوالے سے قانون پاس ہوا تھا جس میں 14 سال سے کم عمر بچے کو گھریلو ملازمت یا زبردستی کام کرنے پر پابندی ہے تاہم شرافت علی کے مطابق اس پر بھی عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ یہ شعبہ ریگولرائز نہیں ہے اور مکمل طور پر انفارمل ہے۔

اسی طرح سنہ 2018 میں سندھ میں گھریلو ملازمین کے تحفظ حوالے سے قانون پاس ہوا تھا میں بچے کی تعریف 14 برس اور اس سے کم بتائی گئی ہے اور بل کا مقصد بچوں کی گھریلو کام میں شرکت کی حوصلہ شکنی کرنا بتایا گیا تھا۔

سندھ کی طرح بلوچستان میں بھی گھریلو ملازمت کے لیے بچے کی کم سے کم قانونی عمر 14 سال سے زیادہ ہے۔