لاہور: 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر چوری کا الزام لگانے والے شخص پر تشدد کا کیس

لاہور پولیس (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتاہم پولیس کی جانب سے ملازمہ کا میڈیکل کروا کر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور ملازمہ کو اس کے گھر بھیج دیا گیا ہے (فائل فوٹو)
    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں عمران نامی شخص نے اپنی 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر چوری کا الزام عائد کر کے مقدمہ درج کروایا تھا جبکہ دوران تفتیش خود ان پر تشدد کرنے کا جوابی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

لاہور کے علاقے ڈیفنس کے رہائشی عمران نامی شخص نے اپنی 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر ایک سال کے عرصے کے دوران گھر سے سات لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور نقدی چرانے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کروایا تھا۔

لاہور پولیس کے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کے ترجمان عمران انور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں ریسکیو 15 پر ایک کال موصول ہوئی جس پر ایک شخص نے یہ شکایت کی کہ میری ملازمہ نے میرے گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کی ہے۔ جس کے بعد انھوں نے اس بچی کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔‘

مقدمے میں ان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ ملازمہ گذشتہ سوا سال سے ان کے گھر پر کام کر رہی ہے اور اس نے وقتاً فوقتاً قیمتی سامان چوری کیا جس میں ایک سونے کی چین، پانچ انگوٹھیاں اور نقدی شامل ہیں۔ مقدمے میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہ سارا سامان اور نقدی چوری کر کے اپنے بھائی اور ایک کزن کو دیتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران نامی شخص نے مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا کہ انھوں نے شک کی بنیاد پر اپنی جیب میں پیسے گن کر رکھے جو مبینہ طور پر ملازمہ نے چوری کیے اور جب انھوں نے ملازمہ سے اپنے طور پر پوچھ گچھ کی تو ان کے دعوے کے مطابق اس نے پیسے چرانے کا اعتراف کیا۔

عمران نے مقدمے میں یہ بھی موقف اپنایا کہ ڈی ایچ اے سکیورٹی نے بھی اس ملازمہ سے تحقیق کی تو اس نے مبینہ طور پر ان کے سامنے اپنی تمام چوریوں کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ اس کا بھائی بھی اس کے ساتھ ملوث تھا۔

عمران کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے ان کو پولیس کی تحویل میں دے رہے ہیں تاکہ ’ہمارے چوری کیے گئے سامان کو برآمد کروایا جا سکے‘۔

مالک مکان تین ماہ تک تشدد کرتا رہا

ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کے ترجمان عمران انور نے بتایا کہ ایف آئی آر کے بعد ’ہم نے اس ملازمہ کو گرفتار کر لیا اور ہمیں تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اس بچی پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ہے‘۔

انھوں نے بتایا کہ 14 سالہ بچی نے اپنے بیان میں یہ الزام لگایا کہ مالک مکان نے تین ماہ تشدد کے بعد چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کروا کر اسے پولیس سٹیشن میں بند کروا دیا ہے۔

پولیس کی جانب سے اس 14 سالہ بچی کی لی گئی تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کے سر پر چوٹوں کے زخم ہیں اور سر کے بال بھی اتارے گئے ہیں۔ جبکہ زخم پر مرہم پٹی نہ ہونے کے باعث سر کا زخم خراب ہو چکا ہے۔

سی سی پی او ذوالفقارحمید کا تشدد کے واقعہ پر نوٹس

اس واقعے کا علم ہونے کے بعد سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کینٹ فرقان بلال سے واقعے کے تمام پہلوﺅں کو جانچتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

ترجمان ڈی آئی جی انوسٹیگیشن عمران انور نے بتایا کہ ’ہم نے ملازمہ کے بھائی کہ مدعیت میں عمران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ جس کے بعد ہم نے اس کی گرفتاری کے لیے ملزم کے گھر پر چھاپہ بھی مارا لیکن وہ وہاں سے اپنے پورے اہلخانہ سمیت فرار ہو چکا ہے۔ ہمیں یہ بھی اطلاع موصول ہوئی کہ وہ اپنے کسی رشتے دار کے گھر پر چھپے ہوئے ہیں جس پر ہم نے وہاں بھی چھاپہ مارا لیکن ملزم وہاں سے بھی میں ملا۔‘

انھوں نے مزيد کہا کہ ’ہم ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا‘۔

تاہم پولیس کی جانب سے 14 سالہ بچی کا میڈیکل کروا کر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور بچی کو اس کے گھر بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق جب ’فرار‘ ملزم گرفتار ہو جائے گا تو دونوں سے تحقیقات کر کے دونوں مقدموں پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔