انڈیا: دوجڑواں بہنوں کی ایک ہی شخص سے شادی، مقدمہ درج

twin sister marriage

،تصویر کا ذریعہBBC Hindi

انڈیا کی ریاست مہارشٹر کے ضلع سولا پور میں دو جڑواں بہنوں نے ایک ہی مرد سے شادی کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک ساتھ ہی پلی بڑھی ہیں اور ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔

رنکی اور پنکی نامی بہنیں ممبئی میں آئی ٹی شعبے میں کام کرتی ہیں اور مقامی پولیس کے مطابق دونوں نے بچپن میں ہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایک ہی شخص سے شادی کریں گی اور ایک ہی گھر میں جائیں گی۔ دولہا اتل ٹریول ایجنسی کا کاروبار کرتے ہیں۔

ارون سوگاونکر نے بتایا کہ دونوں کی شادی گھر والوں کے مرضی سے ہوئی ہے۔ لیکن شادی اب متنازع ہو چکی ہے۔

انڈین قانون کیا کہتا ہے؟

شادی کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک مقامی شخص نے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں ان کے خلاف پولیس میں ایک رپورٹ درج کرائی ہے۔

انڈین قانون کے مطابق ہندو مذہب میں اس طرح کی شادی جرم ہے۔ قانون کے مطابق جب تک ایک شریک حیات زندہ ہے، کوئی شخص دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنے پر سات سال کی قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

البتہ وکیل عاصم سروڑے نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر دونوں خواتین اپنی مرضی سے ایسی شادی کر رہی ہیں تو اسے ایک جرم نہیں مانا جا سکتا۔

وہ کہتے ہیں، ’ملک کے کئی حصوں میں دو شادیوں کا رواج ہے۔ لڑکیاں ایک شوہر کے ساتھ رہنے کو تیار ہیں تو دوسرے لوگ اس میں کچھ نہیں کر سکتے، کوئی مداخلت نہیں کر سکتے۔‘

شادی کی خبر پھیلنے کے بعد ریاست کی خواتین کمیشن کی روپالی چاکنکر نے بھی انکوئری اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے ٹوئئڑ پر لکھا کہ ’انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 496 کے مطابق یہ ایک جرم ہے۔۔۔ اس کی فوری طور پر تحقیقات کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

ہم بھی حیران تھے

اس بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے ہوٹل کے مالک نانا گالانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ شادی 2 دسمبر کی دوپہر کو ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’انہوں نے شادی کی تقریب کے انعقاد کے لیے ابتدائی طور پر ہم سے رابطہ کیا تھا۔ اس وقت ہم بھی حیران تھے۔‘

شادی کی منصوبہ بندی کے بعد انہوں نے ایک ہوٹل کے مالک کے طور پر سب سے پہلے لڑکیوں سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ’دونوں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ لڑکیوں نے کہا کہ ہم نے اس لڑکے سے اپنی مرضی سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے بعد کہ وہ دونوں اپنی مرضی سے شادی کر رہی ہیں، ان کے تمام شناختی کارڈ کی تفصیلات حاصل کیں اور پھر اپنے ہوٹل میں شادی کی اجازت دی۔

twin sister marriage

،تصویر کا ذریعہBBC Hindi

دونوں لڑکیوں کی شادی ایک ہی منڈپ میں ہوئی

لڑکیاں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کی اتل سے جان پہچان ہوئی۔ ایک دفعہ جب ماں اور دنوں بیٹیاں بیمار تھیں، تب وہ اتل کی گاڑی میں ہسپتال جایا کرتی تھیں۔ کیوں کہ اتل نے اس برے وقت میں فیملی کی مدد کی تھی، یہ قربت دھیرے دھیرے محبت میں تبدیل ہوگئی۔

ان کے خلاف رپورٹ کے بعد پولیس نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ ’ہم واقعے کی تحقیق کر رہے ہیں اور اس کے بعد ہی اس پر کچھ کہنا بہتر ہو گا۔‘