پولینڈ: ’جان بوجھ کر میزائل حملہ کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں‘

- مصنف, اولیور سلو
- عہدہ, بی بی سی نیوز
پولینڈ کے صدر ایندرز دودا نے کہا ہے کہ یوکرین کی مغربی سرحد کے قریب ایک فارم ہاؤس میں ایک میزائل گرنے سے دو افراد کی ہلاکت میں جان بوجھ کر میزائل حملہ کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔
اس سے قبل امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے کہا کہ اس بات کے امکان کم ہیں کہ یہ میزائل روس سے داغا گیا ہے۔ کریملن کا مؤقف ہے کہ ان کا اس میزائل میں ہونے والی اموات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ابتدا میں پولینڈ کا کہنا تھا کہ سرحد سے محض چھ کلومیٹر کی دوری پر جو میزائل پرزوڈو کے علاقے میں گرا ہے وہ روسی ساختہ ہے۔
مغربی ممالک پر ایک بغیر سوچے سمجھے ردعمل کا الزام عائد کرتے ہوئے روسی صدر کے پریس سیکریٹری دمرتی پیسکاؤ کا کہنا ہے کہ وارسا کو فوری طور پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ یہ ملبہ یوکرین کے 300 ایئرڈیفنس سے گرا ہے۔
پولینڈ کے ایک تفتیش کار نے ایک ایسے وقت پر اس حملے کی جگہ کا معائنہ کیا ہے جب نیٹو فوجی اتحاد کے سفرا کا برسلز میں اجلاس ہو رہا ہے جس میں وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایک رکن ملک پر ممکنہ روسی جنگی جنون کا جواب کیسے دیا جائے۔
کیئو کے مطابق منگل کو یوکرین پر 90 سے زیادہ روسی میزائل داغے گئے۔ اگرچہ یوکرائنی فوج نے کہا ہے کہ 77 کو مار گرایا گیا لیکن کچھ میزائلوں نے لیوائیو کو نشانہ بنایا۔ یہ علاقہ پولینڈ کے ساتھ ملک کی مغربی سرحد سے زیادہ دور نہیں ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی افواج کی طرف سے داغے گئے زیادہ تر راکٹوں کا مقصد ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا۔
دھماکے کے بعد پولینڈ کی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بُدھ کو صدر ڈوڈا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جان بوجھ کر حملے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ روسی ساختہ ایس-300 میزائل پر سب نظریں مرکوز ہیں، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسے روس کی طرف سے فائر کیا گیا ہو۔ وزیر اعظم ماؤتیوز موراویکی نے مزید کہا کہ آرٹیکل چار، جس میں سکیورٹی کے خطرے کے پیش نظر مشاورت کا مطالبہ کیا گیا ہے، ضروری نہیں ہو سکتا۔
ایک بیان میں بالی سربراہی اجلاس میں مغربی رہنماؤں نے یوکرین کے شہروں اور شہری انفراسٹرکچر پر روس کے ’وحشیانہ میزائل حملوں‘ کی مذمت کی اور پڑوسی ملک پولینڈ کو اپنی مکمل حمایت کی پیشکش کی۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں امریکی صدر جو بائیڈن، برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں اور یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین شامل تھے۔
یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے پہلے کہا تھا کہ کوئی بھی دعویٰ کہ یوکرین پولینڈ کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے ایک روسی ’سازشی نظریہ‘ ہے اور جو بھی اس پیغام کو بڑھاوا دے رہا ہے وہ ’روسی پروپیگنڈا‘ کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPolish Police
بی بی سی کے پال ایڈمز نے کہا ہے کہ یوکرین کا ایئرڈیفنس سٹسم روسی میزائلوں کو مار گرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا تھا اور یہ ممکن تھا کہ فائر کیے گئے میزائلوں میں سے ایک کو گرا دیا گیا ہو۔
پولینڈ کے فارم ہاؤس کی اس جگہ سے پولیس کی ایک تصویر سامنے آئی ہے، جہاں راکٹ گرا ہے۔ اس میں ایک بڑا گڑھا اور اس گڑھے کے ایک طرف فارم کا ٹرالی ایک طرف پڑی ہوئی ہے، جس سے میزائل سے ہونے والے نقصان کے بارے میں پتا چلتا ہے۔ ایک اور تصویر میں میزائل کا ایک ٹکڑا دکھایا گیا ہے۔
بی بی سی کے رپورٹر ڈین جانسن نے بتایا کہ گاؤں میں پولیس کے گھیرے کے ساتھ ایک چھوٹا پرائمری سکول تھا جو جنوب مشرقی پولینڈ کے ایک زرعی علاقے میں ہے۔
خیال رہے کہ روس کے حملے کے بعد سے یوکرین کو قرض دینے کے باوجود نیٹو نے احتیاط برت رکھی ہے کہ وہ تنازعات میں بہت زیادہ ملوث نہ ہو تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیے
لیتھوانیا کے صدر گیتاناس نوسیدا نے بُدھ کے روز نیٹو کی فضائی حدود کے دفاع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ پولینڈ کی سرحد کے ساتھ ساتھ نیٹو کے بقیہ مشرقی حصے پر فضائی دفاع کی تعیناتی کی کھل کر حمایت کریں گے۔
ایک جرمن ترجمان نے کہا ہے کہ برلن پولینڈ کے فضائی دفاع میں مدد کی پیشکش کرے گا لیکن نیٹو کے تمام اتحادی اس بات پر متفق ہیں کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ انھوں نے پولینڈ کے صدر دودا سے بات کی ہے اور فوجی اتحاد کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی کہا ہے کہ وہ پولینڈ میں ہونے والے دھماکے پر ’بہت حیران‘ ہیں اور اس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے ترجمان فرحان حق نے کہا کہ ’یوکرین میں جنگ کو بڑھانے سے گریز کرنا بہت ضروری ہے‘۔











