یوکرین جنگ: موسم سرما اور یوکرینی باشندوں کی مشکلات و برداشت کی تلخ کہانیاں

یوکرین جنگ
    • مصنف, جیرمی براؤن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
    • مقام, یوکرین

یوکرین کے مشرقی شہر باخمت کے مرکزی ہپستال کے باہر خون آلود سٹریچر کا انبار لگا ہوا ہے۔ اور یہ تمام سٹریچر نئے آنے والے زخمیوں کے لیے تیار رکھے گئے ہیں۔

ہسپتال کا طبی عملہ زخمیوں کی آمد سے قبل وقفہ لے رہا ہے اور زخمی سپاہیوں کو لانے والے ان کے ساتھی دروازے پر کھڑے ہو کر تمباکو نوشی کر رہے ہیں اور وہ موسم خزاں کی شدید بارش کے مسلسل شور کے ساتھ ساتھ زور دار دھماکوں اور دور ہونے والی گولہ باری کی آواز سن رہے ہیں۔

باہر گلیوں میں کاروں اور ویگنوں کے جلے ہوئے ڈھیر پڑے ہیں۔ گولہ باری سے متاثر ہونے والی عمارتوں کے سامنے ٹوٹے ہوئے شیشے اور بکھری ہوئی اینٹوں کے ڈھیر پڑے ہیں۔

 کچھ آوارہ کتے جو کبھی پالتو جانور تھے، اب انسانی صحبت کی تلاش میں پورچ کے کونوں میں سہمے بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک لیٹے ہوئے کتے کو سپاہیوں نے جو کھانا دیا، اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

 باخمت کے زیادہ تر شہری طویل عرصے سے محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ جنگ زدہ علاقے میں موجود افراد اب ایک خاص یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ تھکے ہوئے دکھائی دینے والے ہسپتال کے عملے میں سے ایک نے وضاحت کی کہ کتے گولہ باری اور دھماکوں کی آوازوں سے صدمے کا شکار ہوئے ہیں۔

 مشرقی علاقے ڈونباس کے شہر باخمت سے خیرسون اوبلاست تک اگلے محازوں کے سفر کے دوران یہ واضح تھا کہ یوکرینی باشندے تھکے ہوئے، شکستہ، جنگ کے نامساعد حالات سے تنگ ہیں، لیکن پھر بھی وہ اپنی آزادی کی خاطر روسیوں سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے فروری میں یوکرین پر حملہ نے یوکرینی عوام میں قومیت کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔

یوکرین جنگ

سرجن کی کہانی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

باخمت کے جنگی ہسپتال کے سرجنوں میں سے ایک، ولادیمیر پھلیوسکی نے ہم سے بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ وہ 24 مارچ کو یہاں آنے سے قبل تک ایک شہری ہسپتال میں شعبۂ حادثات میں کام کر رہے تھے۔

 ہم نے ان سے دو میزوں کو جوڑ کر بنائے گئے ایک عارضی آپریشن تھیٹر میں بات کی۔ تاہم یہ آپریشن تھیٹر بہت صاف ستھرا اور یہاں ادویات کی فراہمی تھی۔ مگر یہاں زندگی بچانے والے آلات اور مانیٹر وغیرہ بنیادی ہی تھے۔

اس وقت ہسپتال میں خاموشی تھی اور باہر کالے سیاہ بادلوں سے زور دار بارش ہو رہی تھی اور ایسے موسم میں عموماً گولہ باری کم ہوتی ہیں۔ لہذا ہسپتال کا آپریشن تھیٹر اس وقت استعمال میں نہیں تھا، اس لیے سرجن ولادیمیر نے ہم سے بات کر لی۔

انھوں نے بتایا کہ ’خوش قسمتی سے آج صبح سے اتنے زیادہ زخمی نہیں لائے گئے ہیں۔ لیکن ایسے دن بھی تھے جب بہت افراد زخمی ہوئے، اور ان زخمیوں میں گولہ باری یا بارودی سرنگ کے دھماکوں کے نتیجے میں ٹانگوں سے محروم ہونے والے اور گولیوں سے زخمی ہونے والے افراد بھی شامل تھے۔

ہمیں 24 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ دو دو دن بیٹھنے کا موقع بھی نہیں ملتا - ہم صرف کھانے یا بیت الخلا کے لیے جاتے ہیں۔‘

 ولادیمیر اگلے محازوں پر بھی اپنا کام کرتے ہیں اور زخمیوں کو فوری طبی امداد دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ بعض اوقات آپ کو اپنی جان اور زخمی سپاہیوں کی جان کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ میں نے کبھی کسی کو مرنے سے ڈرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ گولہ باری کے دوران بھی کوئی بیٹھا اور انتظار نہیں کرتا رہتا۔ ہر کوئی زخمی سپاہیوں کو میدان جنگ سے اٹھانے کے لیے جاتا ہے۔

یہ نفسیاتی طور پر اتنا مشکل نہیں جتنا یہ خوفناک ہے… صرف ذہنی بیمار لوگوں کو خوف محسوس نہیں ہوتا۔‘

سرجن نے بتایا کہ جنگی ہسپتال میں کام کرنے کے دوران انھیں ایسے زخموں کا علاج کرنا پڑا جو وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس سے قبل ایک یا دو بار ہی دیکھ سکے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایمرجنسی ہسپتال میں کام کرتے ہوئے، میں نے بہت سی اموات دیکھی ہیں۔ لیکن یہ امن کے زمانے میں تھیں۔ یہاں میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے لڑکے کس طرح لڑتے ہیں۔ انھیں جو زخم لگتے ہیں وہ ان کی زندگیاں برباد کر دیتے ہیں۔ یہ چیز مجھے بہت زیادہ افسردہ کرتی ہے۔

اپنے فوجیوں کی تکلیف دیکھنا بہت اذیت ناک ہے، انھیں جنگ کے دوران پہنچے والے صدمے کو دیکھنا، سب سے خوفناک چیز اپنے ملک کے دکھوں کو دیکھنا ہے۔ یہ سب سے زیادہ خوفناک ہے۔ باقی صرف ہمارا کام ہے۔‘

چند منٹ بعد ہی ایک سپاہی کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال لایا گیا جس کا ہاتھ سنائپر کی گولی سے بری طرح زخمی تھا۔ ایک اور سپاہی کو کیچڑ اور خون میں لت پت سٹریچر پر لایا گیا۔ سرجن ولادیمیر انھیں طبی امداد دینے کے لیے تیزی سے ان کی جانب چل پڑے۔

 یہ منظر ٹی وی سیریز میں دکھائے جانے والے ایمرجنسی رومز کے مناظر سے بالکل مختلف تھا۔ سرجن ولادیمیر اور طبی عملہ پرسکون تھا، اور وہ دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے۔ اور وہ زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے تیزی سے کام کر رہے تھے تاکہ اگلے محازوں سے لائے جانے والے مزید فوجیوں کے لیے بھی طبی امداد کو ممکن بنایا جا سکے۔

یوکرین جنگ

توپ خانے کے سپاپیوں کی داستان

جنگ کا مطلب بنجر علاقوں میں گہری کیچڑ میں ڈھکی ہوئی پگڈنڈیوں پر مسلسل گاڑی چلاتہ رہنا ہے۔

بی بی سی ٹیم کو ایک وادی میں جنگل کے تنگ حصے میں ایک آرٹلری یونٹ کا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ہم نے وعدہ کیا کہ ان کے مقام کو ظاہر نہیں کیا جائے گا، ماسوائے یہ کہ ان کا کیمپ ڈونباس کے اگلے محازوں میں سے ایک تھا۔

یہاں مسلسل گولہ باری اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، کبھی قریب ہی سے روسی فوجیوں کے ساتھ لڑائی میں گولہ باری تو کبھی محاذ پر دور سے سنائی دیتی آوازیں۔

یوکرینی فوجیوں کا یہ یونٹ بی ایم 21 گراڈ میزائل لانچر سے لیس تھا، اس یونٹ کے انچارج اپنا اصل نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، انھوں نے اپنی فرضی نام لیسی بتایا۔

 سنہ 2019 میں فوج میں شمولیت سے قبل توپ خانے کے انچارج ایک بلڈر تھے، جو رہائشی عمارتوں کی تزئین و آرائش کرتے تھے۔ اب وہ ایک انتہائی تباہ کن ہتھیاروں کے نظام کی کمانڈ کرتے ہیں، جسے 1950 کی دہائی کے آخر میں سوویت یونین میں بی ایم-21 گراڈ کے طاقتور میزائل والے یونٹ کے طور پر بنایا گیا تھا۔ یہ میزائل ایک دھماکے میں تقریباً ایک ہیکٹر (10,000 مربع میٹر) کے رقبے کو تباہ کر سکتا ہے۔

لیسی کی عمر ابھی تیس کے پیٹے میں ہے۔ وہ بی ایم 21 گراڈ میزائلوں کو داغنے کی نگرانی کرتے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ انھیں اس کی کافی مشق ہے۔ یہ کوئی بہت ہائی ٹیک کام نہیں ہے۔ ان کی یونٹ کے جوان ہاتھ سے ان میزائلوں کے فیوز کستے ہیں۔ اور پھر وہ ان میزائلوں کو داغنے کے لیے بیرل میں ڈالتے ہیں۔ اگر کوئی میزائل صحیح طریقے سے بیرل میں نہ بیٹھے تو وہ اسے اپنا بوٹ مار کے ٹھیک کر دیتے ہیں۔

حملے کے بعد سے توپ خانے کے ان سپاہیوں کی زندگیاں ہی بدل گئی ہیں۔

لیسی بتاتے ہیں کہ ’میں 24 فروری کو صبح 4:20 پر اٹھا تھا، اور اس وقت سے آج تک لڑ رہا ہوں، یہ آج بھی شروع جیسا ہی ہے، اس میں کچھ نیا نہیں، بس یہ ہے کہ ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے رہے ہیں۔

میں کیا کرتا ہوں؟ ہمیں وہ جو گولے دیتے ہیں وہ ہم اپنے ہدف پر داغ آتے ہیں، یہ آسان کام نہیں تھا لیکن ہم نے یہ تمام کام سنبھال لیا ہے۔

بی ایم 21 کے دونوں لانچر انھوں نے اپنے یونٹ سے کچھ دور پہاڑیوں میں چھپا کر کھڑے کیے ہیں۔ وہ اپنے کیمپ سے میزائل نہیں داغتے، جب ان کے پاس ہدف کو نشانہ بنانے کے احکامات آتے ہیں تو وہ اسے اونچی جگہ پر لے جا کر داغتے ہیں۔

لیسی اور ان کے جوان تیزی سے کام کرتے ہیں اور آناً فاناً میزائل داغ کر روسیوں کا نشانہ بننے سے قبل اس مقام سے نکل جاتے ہیں۔

اس دوران ہم نے بھی بی ایم 21 لانچر کے ساتھ اس مقام سے نکلنے کی کوشش کی لیکن گہری کیچڑ میں ہماری جیپ پھنس گئی تب لیسی نے ہمیں اپنے ٹرک پر بٹھا کر وہاں سے نکالا۔

 کیمپ میں واپسی پر لیسی نے کہا کہ انھیں مزید جدید آلات چاہیں، لیکن انھیں بی ایم 21 گراڈ سے شدید لگاؤ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا یہ ٹرک 52 یا 53 سال پرانا ہے۔ ہم اسے خود ٹھیک کرتے ہیں، اسے دوسری زندگی دیتے ہیں، کیونکہ اس سے ہماری زندگیاں داؤ پر لگی ہوتی ہیں۔‘

 اب سے کچھ دیر پہلے ہم نے جو فوجی آپریشن دیکھا تھا اس کے بارے میں کیا؟ ایک نصف صدی پرانے ٹرک کو میزائل فائر کرتے ہوئے، گولہ باری کے دوران کیچڑ سے بھرے کھیت میں دوڑتے ہوئے دیکھنا؟

اس پر وہ کہتے ہیں کہ یقیناً، ہر کوئی خوفزدہ ہے۔ لیکن ہم نے اپنے خوف پر قابو پا لیا ہے اور لڑنے کے لیے نکلے ہیں۔ یہ معمول کی گولہ باری تھی کچھ بھی ڈرامائی نہیں تھا۔ ہماری ’بوڑھی گاڑی‘ نے ہماری مدد کی اور ہم گولہ باری سے بچ گئے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایک استاد کی ہولناک داستان

یوکرین

لیوڈمیلا میمریخوا کو اپنے آبائی گاؤں سے محبت ہے۔ مگر اب یہاں زیادہ تر کھنڈرات ہیں، لیکن یہ دیکھنا آسان ہے کہ جنگ سے پہلے میرولیوبیوکا خیرسون شہر کے آس پاس کے کھیتوں میں ایک پرامن نخلستان رہا ہو گا۔

 تمام گھروں کی اپنی اپنی زمین ہے۔ جنگلی پرندے کیڑوں کی تلاش میں لکڑی کے ڈھیروں پر بیٹھتے ہیں۔ بطخ، مرغیاں اور گیز مالکان کے بڑھے ہوئے باغات میں گھومتی ہیں جو مہینوں پہلے یہاں سے جا چکے ہیں۔

یوکرینی فوج نے ستمبر میں اس گاؤں پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔ یہاں چند مکانات کی دیواریں اور چھتیں برقرار ہیں۔ ان میں سے ایک لیؤڈمیلا کا ہے، جہاں اب بھی پھل دار درختوں اور گلاب کے پودوں کی صاف ستھری قطاریں ہیں جنھیں کٹائی کی ضرورت ہے۔

میری ان سے تقریباً دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع ایک محفوظ شہر میں ایک چھوٹے سے گھر میں ملاقات ہوئی جو انھیں ان کے رشتہ داروں نے دیا تھا۔ ان کا پڑپوتا اناتولی جو ایک چھوٹا بچہ ہے، ساتھ والے کمرے میں کھیل رہا تھا۔ لیوڈمیلا نے مجھے بتایا کہ وہ گھر جانا چاہتی ہیں اور جب مارچ میں روسیوں نے ان کے گاؤں پر قبضہ کر لیا تو ان کا پیارا گاؤں کیسے جہنم بن گیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کیسے مہینوں کی دہشت گردی سے زندہ بچیں اور کیسے انھیں اپنے ہی کمرے میں مارا، پیٹا اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

لیوڈمیلا 75 سال کی ایک مضبوط اعصاب والی خاتون ہیں، ایک بیوہ جو ریٹائر ہونے تک ٹیچر تھیں، اور مقامی طور پر گاؤں کی مورخ کے طور پر مشہور ہیں۔

سال کے آغاز میں انھیں یقین نہیں تھا کہ صدر پوتن اپنے فوجیوں کو یوکرین پر حملے کا حکم دیں گے، جس کے ایسے وحشیانہ نتائج برآمد ہوں گے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم انھیں ایک برادرانہ قوم سمجھتے تھے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ (وہ) لوگوں کے ساتھ ایسا کچھ کر سکتے ہیں۔‘"

 روسی فوجی 24 مارچ کو ان کے گاؤں پہنچے۔ لیوڈمیلا کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ کریمیا سے ہوتے ہوئے آئے تھے اور انھوں نے اچھا برتاؤ کیا تھا۔ اکثر جنگوں میں اگلے محازوں پر سپاہی اپنے پیچھے آنے والے دستوں سے زیادہ نظم و ضبط کے حامل ہوتے ہیں۔

لوہانسک اور ڈونیٹسک میں سب سے زیادہ خرابی مشرق سے آئی جب علیحدگی پسند، ماسکو نواز یوکرینی حکومتوں میں پیدا ہونے والے ملیشیا گروہوں یہاں آیے۔۔ انھوں نے گاؤں میں خوف و ہراس پھیلایا، ووڈکا اور شراب کا مطالبہ کیا، کاریں اور ایندھن چوری کیا اور گھروں کو لوٹا۔ ملیشیا والے مردوں کو کیمپوں میں لے گئے، اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

لیوڈمیلا کا کہنا ہے کہ روسی فوجی، جو کافی خوفزدہ تھے، ’ملیشیاؤں کو انسان نہیں سمجھتے تھے۔‘ نام نہاد اتحادی نشے میں دھت آپس میں جھگڑا کرتے اور یہاں تک کہ گولیوں کا تبادلہ بھی ہوتا تھا۔‘

ان کے گاؤں پر روسی فوجوں کے قبضے کے ایک ماہ بعد لیوڈمیلا کو اپنی بیٹی اولہا کے ساتھ وہاں سے نکل جانے کا موقع ملا، لیکن انھوں نے اولہا کی درخواست پر وہاں سے جانے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ اپنی جائیداد اور خاص طور پر اپنے گاؤں اور اپنے خاندان کی تاریخ کے بارے میں جمع کی گئی دستاویزات کی حفاظت کرنا چاہتی تھیں۔

جب ان کی بیٹی اولہا اور ایک قریبی دوست وہاں سے نکل گئے تو لیوڈمیلا اکیلی تھیں اور ہمیشہ خوفزدہ رہتی تھیں، وہ ہائی بلڈ پریشر کی دوا لیتی تھیں۔

جب بھی کوئی اجنبی افراد ان کے گھر کے قریب آتے تو ان کے کتے بھونکتے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’13 جولائی کی رات ساڑھے گیارہ بجے میں نے اپنی کھڑکی پر ایک بہت زوردار دستک سنی۔ میرا جسم لرز گیا کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے، مجھے ایسے لگا جیسے میرے ہاتھوں پیروں میں فالج ہو گیا ہے، میں نے گھر کی تمام کھڑکیاں بند کر رکھی تھیں، ایک میں سے باہر جھانکا تو مجھے ایک فوجی کھڑا دکھائی دیا۔ میں اسے اندر بلانے سے ہچکچا رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اب میں کیا کروں؟ میرے پاس اس کو مارنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ کیا میں اس پر قابو پاسکتی ہوں؟ ایسے سوالات میرے ذہن میں گھوم رہے تھے ۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا تو اس نے میرے منھ پر مکا دے مارا، اس سے میرے دو دانت اور ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ میں خون میں لت پت تھی اور اس نے میرے سر پر مارنا شروع کر دیا اور اس نے میرے جسم اور سینے پر بندوق کے بٹ مارنے شروع کر دیے، مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں نے کیا غلط کیا ہے۔ ‘ 

 ’اس نے میرے بال کھینچے اور جونکہ کچن میں اندھیرا تھا تو وہ یہ جان نہیں سکا کہ وہ کہاں ہے اور وہ فرنیچر کے پاس آ کر رک گیا اور مجھے صوفے پر پٹخ دیا اور میرا گلا گھونٹا شروع کر دیا۔ میں دو ہفتوں تک پانی تک نہیں نگل سکی تھی۔ ‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’پھر اس نے میرے کپڑے اتارے اور مجھے ریپ کیا۔ اس نے میرے پیٹ پر چاقوں چلایا اور اب بھی ان میں سے ایک گھاؤ بھرا نہیں ہے۔‘

لیوڈمیلا نے اس شخص کو پہچان لیا، جس کی عمر 60 سال کے لگ بھگ تھی اور اس سے شراب کی بدبو آ رہی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ اس کا تعلق علیحدگی پسند ملیشیا سے تھا۔ وہ پہلے بھی ان کے گھر ڈیزل چوری کرنے آ چکا تھا۔ اور ان سپاہیوں کو بھی لایا تھا جو وہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔

یوکرین

ریپسٹ نے ان سے تمباکو کا مطالبہ کیا اور نہ ملنے پر انھیں دوبارہ اپنی بندوق سے پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ اس نے کمرے میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی۔ اور لیوڈمیلا کو لگا کہ ان کی موت کا وقت آ گیا ہے، انھیں اپنے خاندان کا خیال آیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے بچوں کو، نواسے، نواسیوں پڑپوتوں کو خداحافظ کہہ دیا، میں نے سوچا کہ اب میں زندہ نہیں رہوں گی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ اگلی صبح 05:20 تک وہاں سے نہیں نکلا اور اس نے ان سے کہا کہ اگر اسں نے روسیوں کو بتایا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے تو وہ اسے مارنے واپس آ جائے گا۔ وہ پڑوسیوں کے ساتھ یہ بہانہ کرتی رہیں کہ وہ تہہ خانے میں گر گئی تھی۔‘

فون پر اپنی بیٹی اولہا سے بات کرتے ہوئے ان کی آواز میں خوف نے بیٹی کو یہ احساس دلایا کہ ان کے ساتھ کچھ بہت برا ہوا ہے۔ انھوں نے اپنی والدہ پر زور ڈالا کہ کیا ہوا جس پر انھوں نے اپنی بیٹی کو سب کچھ بتا دیا۔

 ریپ کے چار دن بعد، وہ دوسرے یوکرینیوں کے ساتھ ایک مقامی قصبے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھیں، جو ابھی تک روسیوں کے قبضے میں ہے لیکن ان کے حملہ آور سے دور ہے، اور وہاں سے اپنی بیٹی اور خاندان کے دوسے افراد سے ملنے کے لیے سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

اپنے عارضی گھر کے باورچی خانے میں اپنے بیٹی اولہا کے ساتھ بیٹھے لیوڈمیلا نے بتایا کہ وہ کیوں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے متعلق بات کرنا چاہتی ہیں۔ اور اس بات چیت کے دوران ان کی آنکھیں بھر آئی۔ ان کے ہاتھ میں وہ گولی بھی تھی جو ان کے مطابق وہ شخص ان کے گھر پر انھیں دھمکی دیتے ہوئے چھوڑ گیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں پوری دنیا کو چیخ چیخ کر بتانا چاہتی ہوں کہ یہ سب کچھ بند کیا جائے، اس خونی جنگ کو جلد از جلد روکا جائے۔ میں چاہتی ہوں کہ روسی جانیں کہ ان کے شوہر، ان کے بیٹے، ان کے والدین یوکرینیوں کو کس طرح تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہم کیسے قصور وار ہیں؟ ہم محنتی پرامن لوگ ہیں۔ ہم کسی کو پریشان نہیں کرتے۔‘

میں نے لیوڈمیلا سے پوچھا کہ انھوں نے اتنے برے حالات کا مقابلہ کیسے کیا؟

وہ کہتی ہیں کہ ’میں مضبوط کیسے رہی؟ اپنی زمین، اپنے آبائی گاؤں اور میرے لوگوں سے محبت کی وجہ سے۔ ہم پرامن اور محنتی لوگ ہیں اور قبضے کے دوران ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ انھوں نے روٹی کا آخری ٹکڑا بھی بانٹ دیا۔ لوگ بھوکے مر رہے تھے۔ ہم نے گندم کو کافی گرائنڈر میں پیس کرکیک بنائے کیونکہ کھانے کو کچھ نہیں تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ خوفناک اور ہولناک تھا، پوتن اور روسی فوجیوں کو دنیا کے خاتمے تک کبھی معاف نہیں کیا جائے گا… جو انھوں نے یوکرینیوں کے ساتھ کیا، اس کے لیے کوئی معافی نہیں ہو گی۔‘