یوکرین جنگ کی ہولناک تصویر: جب حاملہ ماں نوزائیدہ بچے کے ساتھ ہلاک ہوئیں

ماریوپل، یوکرین جنگ، سٹریچر، بیوی، حاملہ

،تصویر کا ذریعہAP

    • مصنف, میٹ مورے
    • عہدہ, بی بی سی ویلز نیوز

یوکرین کے شہر ماریوپل میں جب ایک زچہ بچہ کے ہسپتال پر بمباری ہوئی تو اس کے بعد جاری کی گئیں تصاویر میں دیکھا گیا کہ ملبے کے بیچ و بیچ ایک حاملہ خاتون کو سٹریچر پر لے جایا جا رہا ہے۔ یہ یوکرین جنگ کی سب سے معنی خیز تصاویر میں سے ایک تھی۔

یہ تصویر جنگ کی بربریت کی عکاسی کرتی ہے۔

طویل عرصے تک کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ خاتون کون ہیں۔ اب ان کا نام معلوم ہوا ہے، ان کا نام ارینا کلینینا ہے۔ وہ نو مارچ کے فضائی حملے میں زخمی ہوگئی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی اپنے بچے سمیت موت ہوئی ہے۔ شہر کے ایک مقامی ہسپتال میں سی سیکشن آپریشن کے ذریعے ان کی ڈیلیوری ہوئی تھی۔

پینوراما کی ایک نئی دستاویزی فلم میں ارینا اور ماریوپل کے بارے میں مزید بتایا گیا ہے۔

ان کے شوہر ایون نے ویلز میں بریجنڈ کاؤنٹی کے علاقے پورثکول میں محفوظ پناہ لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بیوی اور نوزائیدہ بیٹے کی موت کے بعد وہ ’بالکل ٹوٹ‘ گئے ہیں۔

ایون اپنی بیوی ارینا کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ارینا کو زندگی پسند تھی۔ وہ خوش تھی۔ وہ ہر موقع کو تلاش کرتی تھیں اور وہ میرے لیے بہترین ہمسفر تھیں۔‘

ارینا ماریوپل میں ایک کپڑوں کی دکان کی مینیجر تھیں۔ جوڑے کے پہلے بچے کے لیے حاملہ ہونے پر وہ بہت خوش تھیں۔ ایون نے کہا کہ ’ہم بہت خوش تھے۔ ہم طویل عرصے سے اپنے بچے کے منتظر تھے۔‘

ماریوپل، یوکرین جنگ، سٹریچر، بیوی، حاملہ

،تصویر کا ذریعہFamily Photo

’غم اور نقصان‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس جوڑے نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے بچے کا نام میرن رکھیں گے۔ وہ اس روسی لفظ سے متاثر تھے جس کے مطلب امن ہے۔

ایون میریوپل کے سٹیل ورکس میں کام کرتے تھے۔ جب انھیں ڈاکٹروں نے اپنی بیوی کی موت کی خبر دی تو وہ انتہائی غمگین ہوگئے۔ ’میں اس درد اور نقصان کو بیان نہیں کرسکتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں بالکل ٹوٹ گیا۔ میں ہر چیز سے مایوس تھا۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ ارینا وفات پا چکی ہیں۔‘

بی بی سی پینوراما نے ان تین ڈاکٹروں سے بات کی جو ارینا اور ان کے بچے کو بچانے کی کوششیں کر رہے تھے۔

یہ جوڑا طویل عرصے سے بچے کا خواہاں تھا۔ جب ارینا کو بتایا گیا کہ بچے کی زندگی خطرے میں ہے تو انھوں نے کہا کہ ان کی بجائے بچے کی زندگی بچائی جائے۔

ماریوپل کے ہسپتال سے وابستہ انیستھیٹسٹ اوکسانا نے بتایا کہ ’جب بچے کو نکالا گیا تو اس نے زندہ ہونے کی کوئی علامت ظاہر نہ کی۔ ’یہ میری زندگی کے سب سے خوفناک مناظر تھے۔ ایک نوجوان خاتون کو اس کے بچے کے ساتھ سیاہ بستے میں بند کرنا جو اس کے سینے پر پڑا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ماریوپل، یوکرین جنگ، سٹریچر، بیوی، حاملہ

،تصویر کا ذریعہFamily Photo

دونوں کو ایک ساتھ دفنایا گیا

ایون نے کہا ہے کہ جب وہ سٹریچر پر ارینا کی تصویر دیکھتے ہیں تو ’مجھے درد اور غصے کا احساس ہوتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ آگے کی زندگی کیسے گزارنی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’انھیں ایک ساتھ ماریوپل کے ایک قبرستان میں دفنایا گیا۔ مگر ان کے والدین چاہتے تھے کہ انھیں ان کے قریب دفنایا جائے۔ تو انھوں نے ماں اور بچے کو والدین کے گاؤں میں دوبارہ دفن کیا۔‘

ایون ستمبر میں ویلز آگئے تھے۔ انھیں رہائش کی بایومیٹرک اجازت ملی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہاں زندگی معمول کے مطابق ہے۔ یہاں کے لوگ نرم دل اور مددگار ہیں اور میں خوش قسمت ہوں جو یہاں آ پایا۔‘

’اب نئی نوکری ڈھونڈنے کا پلان ہے۔ میرے پاس پرمٹ ہے اور اب زندگی میں آگے بڑھ سکتا ہوں۔‘

تاہم ایون نے کہا کہ ان کے لیے ارینا کے بغیر اپنے مستقبل کا تصور ناممکن ہے۔ ’اس لمحے میرے پاس زیادہ امید نہیں اور میں اب تک اس کا عادی نہیں ہوا کہ میں تنہا ہوں۔‘

یوکرینی حکام کے مطابق جنگ کے دوران ماریوپل میں لڑائی کے آغاز سے لے کر اب تک کم از کم 25 ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

ماریوپل، یوکرین جنگ، سٹریچر، بیوی، حاملہ

ان میں سے پانچ ہزار سے سات ہزار کی موت اپنے ان گھروں کے ملبے تلے دب کر ہوئی جن پر بمباری کی گئی تھی۔ ماریوپل میں جنگ سے قبل کی آبادی قریب پانچ لاکھ تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ سب کس لیے کیا گیا؟‘

’پوری زندگی ہم سوچتے رہے کہ روسی ہمارے بھائی ہیں۔ انھوں نے ہم پر حملہ کیا، ہمیں قتل کیا، ہمارے رشتہ داروں، دوستوں اور پیاروں کو قتل کیا۔‘

’کس لیے؟ انھوں نے ایسا کیوں کیا؟‘