لانگ مارچ کے دوران فائرنگ: ’عمران خان پر حملہ کرنے والے بظاہر ایک نہیں، دو بندے ہیں‘

عمران خان، فائرنگ، حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو

تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے دوران صوبہ پنجاب کے شہر وزیر آباد میں فائرنگ کے واقعے میں سابق وزیر اعظم عمران خان زخمی ہوئے ہیں تاہم ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

یہ لانگ مارچ کا ساتواں روز تھا جس کے آغاز پر عمران خان صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ سے ساڑھے بارہ بجے روانہ ہوئے۔ لیکن قریب پانچ گھنٹے بعد ہی ان کے کنٹینر پر فائرنگ کر دی گئی۔

فائرنگ کے اس واقعے، جسے تحریک انصاف کی قیادت نے قاتلانہ حملہ قرار دیا ہے، میں عمران خان اور سینیٹر فیصل جاوید سمیت کم از کم پانچ افراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص ہلاک ہوا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے مگر ’بظاہر حملہ کرنے والے ایک نہیں، دو بندے ہیں۔‘

’عمران خان کو گولیاں سامنے سے ٹانگ پر لگیں جبکہ مبینہ حملہ آور تو دائیں طرف تھا‘

جس وقت یہ واقعہ ہوا عمران خان اور تحریک انصاف کے کئی رہنما کنٹینر پر سوار تھے۔

اس وقت کسی کی جانب سے تقریر بھی نہیں کی جا رہی تھی۔ ڈی جے صرف تحریک انصاف کے نغمے بجا رہا تھا۔ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ عمران خان ہاتھ ہلا کر مارچ کے شرکا کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔

اسی کنٹینر پر موجود تحریک انصاف کے کارکن معیزالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ کنٹینر پر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ ’ہم لوگ وزیر آباد کے پاس تھے اور کچھ ہی دیر میں وہ سٹاپ آنے والا تھا جہاں خان صاحب نے تقریر کرنی تھی۔ میں کنٹینر کے دائیں جانب حماد اظہر اور فواد چوہدری کے ساتھ کھڑا تھا۔‘

’وہ دونوں بھی عوام کو ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے تھے کہ ایک دم سے گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔ خان صاحب کے گارڈ نے انھیں نیچے کر دیا۔ ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے دیکھا حملہ آور پورا ایک میگزین خالی کر چکا تھا، وہ بھی کنٹینر کے دائیں جانب تھا۔ ہم اسے دیکھ سکتے تھے۔ ہماری نظر اس وقت اس پر پڑی جب اس نے فواد چوہدری کی طرف پستول کی۔ ہم نیچے ہو گئے۔‘

معیزالدین نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور نے ’اس وقت دوسرا میگزین لوڈ کیا جب اسے پیچھے سے آکر لڑکے نے پکڑا۔ ہم یہ سمجھ نہیں پائے کہ عمران خان کو گولیاں سامنے سے ٹانگ پر لگی ہیں جبکہ حملہ آور تو ہمارے دائیں طرف تھا۔‘

پی ٹی آئی کے اس کارکن کے مطابق واقعے کے بعد عمران خان چند منٹ اوپر کنٹینر پر ہی رہے اور پھر انھیں نیچے لے جا کر طبی امداد دی گئی۔ ’پھر انھیں گاڑی میں بٹھا کر روانہ کیا گیا۔ لیکن اس تمام واقعے کے دوران عمران خان انتہائی پُرسکون اور تسلی رکھے ہوئے تھے۔‘

اس وقت درجنوں افراد عمران خان کے کنٹینر پر سوار تھے۔ انھیں میں سے ایک نجی چینل کے کیمرا مین توصیف اکرم کے مطابق وہ عمران خان کا انٹرویو کرنے کے لیے کنٹینر پر موجود تھے تاہم وہ میاں اسلم اقبال کا انٹرویو کرنے لگے۔

’اسی وقت گولی چلنے کی آواز آئی اور اس کے فوری بعد بھگدڑ مچ گئی اور وہاں موجود لوگوں نے رونا شروع کر دیا کہ خان صاحب کو گولی لگ گئی ہے۔ میرا کیمرا آن تھا۔ میں نے آگے جا کر دیکھا تو خان صاحب کی ٹانگ پر گولی لگی ہوئی تھی اور انھیں لوگ اُٹھا رہے تھے۔ اردگرد کھڑے لوگوں کے کپڑوں پر بھی خون لگا ہوا تھا۔ اور کنٹینر پر بھی خون لگا ہوا تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ سب لوگوں کو پیچھے ہٹایا گیا اور عمران خان کے گارڈ انھیں اُٹھا کر نیچے لے گئے۔ ریسکیو کے اہلکار فوری کنٹینر میں پہنچے اور انھوں نے خون روکنے کے لیے فوری عمراں خان کی ٹانگ پر پٹی کی۔‘

فوری طبی امداد کے بعد عمران خان کنٹینر سے باہر آئے، اپنے سپورٹرز کو ہاتھ ہلایا اور انھیں گاڑی میں منتقل کر دیا گیا۔ انھیں علاقے میں کسی دوسرے ہسپتال کے بجائے لاہور لے جایا گیا جہاں شوکت خانم ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔

عمران خان، کنٹینر، حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بظاہر حملہ کرنے والے ایک نہیں، دو بندے ہیں: وزیر اعلیٰ پرویز الہی

تحریک انصاف کی رہنما مسرت جمشید چیمہ، جو کنٹینر کے اوپر نہیں بلکہ نیچے بیٹھی تھیں، نے بتایا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا، اس سے چند لمحے پہلے ہی ’میں کنٹینر کے نچلے حصے میں آئی تھی۔ میں عمران خان کا انٹرویو پلان کر رہی تھی۔۔۔ ایک دم سے فائرنگ کی آواز آئی۔ ابھی اٹھی ہی تو ایک دم سے بھگدڑ مچ گئی اور چیخوں کی آوازیں آئیں کہ خان صاحب کو گولی لگ گئی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر وہ آبدیدہ ہوگئیں۔ ’عمران خان صاحب کو نیچے لایا گیا۔ میں نے انھیں دیکھا تو ان کی ٹانگوں پر خون تھا۔۔۔ مجھے خان صاحب کہنے لگے کہ ’کیا ہوگیا ہے؟‘ ان کا حوصلہ دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب ریسکیو اہلکاروں نے ان کو طبی امداد دی تو وہ سہارے سے دروازے تک پہنچے اور دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو گئے۔ ہم سب نے اور سکیورٹی نے انھیں روکا۔ ہم چیخے بھی کہ یہ مت کریں کیونکہ آپ کو خطرہ ہے۔ لیکن وہ دروازے ہر کھڑے ہوگئے اور انھوں نے تمام کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر مسکراتے ہوئے جواب دیا اور پھر وہ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے۔‘

خیال رہے کہ واقعے سے جڑی بعض ویڈیوز بھی مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پستول تھامے ایک شخص فائرنگ کرتا ہے جسے ایک دوسرا شخص روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مبینہ حملہ آور کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کا ایک اعترافی بیان میں بھی زیرِ گردش ہے جس کی وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے تصدیق کی ہے۔

مبینہ حملہ آور کو روکنے والے شخص پی ٹی آئی کارکن ابتسام ہیں جنھیں ہیرو قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کافی دیر سے حملہ آور کو دیکھ رہے تھے اور ’جب اس نے پستول نکالی تو میں اس کی طرف بڑھا، اس وقت اس نے ایک فائر کر دیا لیکن اس کے بعد میں نے اسے پکڑ کر گرا دیا۔ پولیس نے اسے پکڑ لیا اور گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔‘

ادھر رہنما تحریک انصاف افتخار درانی کا دعویٰ ہے کہ پہلے ایک کریکر فائر کیا گیا، پھر پستول سے دھیان بٹایا گیا اور اس کے بعد ’آٹومیٹک ہتھیار سے عمران خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔‘

وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے اس واقعے پر آئی جی پنجاب پولیس کو اعلی سطحی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں کاؤنٹر ٹیرریزم ڈپارٹمنٹ کو بھی رکھا جائے گا ’تاکہ واقعے کے محرکات کا جائزہ لیا جاسکے-‘ پرویز الہی کے مطابق ’بظاہر حملہ کرنے والے ایک نہیں، دو بندے ہیں۔‘

’ہم جاننا چاہتے ہیں واقعے کے پیچھے کون ہیں، کن لوگوں نے ملزم کو تربیت دی، وہ کیا سوچ ہے جس کے تحت اس لڑکے کو تیار کیا گیا، اس کو پیسے کتنے ملے، کہاں سے لے کر آئے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میڈیا کو بیان لیک کرنے والے پولیس عملے کو معطل کر کے موبائل ضبط کر لیے ہیں۔ فرانزک رپورٹ سے جاننا چاہتے ہیں کہ کس سے پولیس والوں کارابطہ تھا- جہاں ملزم نے موٹر سائیکل کھڑی کی اس کے رشتے داروں کا کس سے رابطہ تھا۔ تفتیش آگے بڑھے گی تو میڈیا کے سامنے لائیں گے۔ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔‘

عمران خان، کنٹینر

،تصویر کا ذریعہEPA

’کنٹینر سے ایک سکیورٹی گارڈ نے بھی فائرنگ کی‘

صحافی محمد زبیر خان سے بات کرتے ہوئے لانگ مارچ کی کوریج کے لیے موقع پر موجود فلک شیر نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے مبینہ حملہ آور نے بظاہر نائن ایم ایم پستول استعمال کی اور انھوں نے دیکھا کہ اس کا رُخ کنٹینر کی طرف تھا۔ ’اس کو اتنا وقت مل رہا تھا کہ وہ دوسرا میگزین بھی اپنے پستول میں لوڈ کرلے۔۔۔ اس وقت وزیر آباد کے رہائشی لڑکے ابتسام نے اس کو پکڑ لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے دو بار کنٹینر سے فائرنگ کی آواز سنی ہے۔ سکیورٹی گارڈز نے جو فائرنگ کی وہ تو میں نے دیکھی ہے مگر اس کے بعد جو فائرنگ ہوئی، اس کا پتا نہیں کہ کس نے کی ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ فائرنگ کے بعد عمران خان اور سینیٹر فیصل جاوید کو زخمی دیکھ کر لوگوں میں افراتفری پھیل گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’جب میں فائرنگ والی جگہ پر پہنچا تو وہاں وزیر آباد کے نوجوان معظم گوندل کو زمین پر پڑا ہوا دیکھا۔ اس کو گولی لگی ہوئی تھی، خون بہہ رہا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ 

’یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ جس مقام سے فائرنگ ہوئی اس ہی مقام پر اس نوجوان کو گولی کیسے لگی۔ کوئی دس منٹ بعد موقع پر ایمبولینس پہنچی تھی۔‘

واقعے کی ایک ویڈیو اور ایک سے زیادہ عینی شاہدین کے مطابق گرفتار کیے گئے مبینہ حملہ آور کے علاوہ کنٹینر سے ایک سکیورٹی گارڈ کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی تھی۔