’بشنوئی گینگ‘ کینیڈا میں دہشت گرد تنظیم قرار: جیل سے اپنا گینگ چلانے والے لارنس بشنوئی ’جن کے ہاتھ قانون سے بھی لمبے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا نے گذشتہ دنوں انڈیا کے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ملک بھر میں اس گروہ سے منسلک بینک اکاؤنٹس اور جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔
کینیڈا کے وفاقی وزیر برائے پبلک سیفٹی نے پیر کو اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشنوئی گینگ نے کینیڈا کی تارکین وطن کمیونٹیز میں خوف اور خطرے کا ماحول پیدا کیا ہے۔
گذشتہ سال کینیڈا کی پولیس نے الزام لگایا تھا کہ انڈین حکومت کے ایجنٹ بشنوئی گینگ کے ارکان کو کینیڈا میں ’قتل، بھتہ خوری اور پرتشدد کارروائیوں‘ کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انڈیا نے اس وقت اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔
پبلک سیفٹی کے وزیر گیری آنند سنگری نے ایک بیان میں کہا کہ ’بشنوئی گینگ کی طرف سے دہشت گردی، تشدد اور دھمکیوں کے ساتھ مخصوص کمیونٹیز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
’دہشت گردوں کے اس گروہ کی فہرست سازی ہمیں ان کے جرائم کا مقابلہ کرنے اور ان کو روکنے کے لیے زیادہ طاقتور اور مؤثر ہتھیار فراہم کرتی ہے۔‘
کینیڈا نے انڈیا سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کی سربراہی میں چلنے والے بشنوئی گینگ کو ایک بین الاقوامی مجرمانہ تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا مزید کہا ہے کہ یہ گروہ بنیادی طور پر انڈیا سے باہر کام کرتا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اس گروہ کی کینیڈا میں بھی موجودگی ہے اور وہ ان علاقوں میں سرگرم ہے جہاں تارکین وطن کی اہم کمیونٹیز آباد ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ لارنس بشنوئی 700 کارندوں پر مشتمل ایک مجرمانہ گروہ کو کنٹرول کر رہا ہے جو مشہور شخصیات سے بھتہ خوری کرنے، منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ اور ٹارگٹ کلنگ وغیرہ میں ملوث ہیں۔
کینیڈا کی طرف سے اس گروہ کو دہشت گرد قرار دینے کی کارروائی البرٹا اور برٹش کولمبیا میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور صوبائی وزرائے اعظم کے دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈیا اور کینیڈا 2023 میں وینکوور کے مضافاتی علاقے میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجار کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کینیڈا کے وزیر اعظم نے ہردیپ سنگھ کے قتل میں انڈین حکومت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
سنہ 2020 میں انڈیا کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے والے ہردیپ سنگھ نجر کو ایک مندر کے باہر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
تاہم حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں کچھ برف پگھتی نظر آ رہی ہے۔
لارنس بشنوئی ’جن کا حکم جیل سے بھی چلتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
’میں ایک طالبعلم تھا جب میں پہلی بار جیل گیا۔۔۔ جیل کی دنیا نے مجھے ’گینگسٹر‘ بنا دیا۔ ہمارے بھائی مارے گئے، ہم نے صرف اس کا جواب دیا، انسان کیا بنتا ہے، اس کا دارومدار اس ماحول پر ہوتا ہے جس میں وہ پرورش پاتا ہے۔‘
گذشتہ سال مارچ میں ایک نیوز چینل نے لارنس بشنوئی کا یہ انٹرویو نشر کیا جو انھوں نے انڈین پنجاب کی بھٹنڈا جیل میں بیٹھ کر دیا تھا۔ جیل سے انٹرویو دینے کا معاملہ عدالت میں پہنچا اور ہائیکورٹ نے یہ تفتیش کرنے کا حکم دیا کہ ایسا کیونکر ممکن ہوا۔
تاہم تفتیش کے باوجود اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ جیل میں موجود لارنس یہ انٹرویو دینے میں کیسے کامیاب رہے۔
لارنس بشنوئی پر قتل سمیت 30 سے زیادہ سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں، جن میں سے 19 عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
انڈیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ لارنس بشنوئی کا گینگ ممبئی میں 66 سالہ بابا صدیقی کے قتل میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہے جس کی تفتیش کے دوران پولیس تین افراد کو گرفتار کر چکی ہے، جبکہ بشنوئی گینگ کے ایک رکن نے سوشل میڈیا پر اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
انڈیا میں سب سے زیادہ مطلوب لارنس بشنوئی سنہ 2015 سے جیل میں ہیں اور اب انھیں پنجاب سے دور گجرات ریاست کی ایک جیل میں قید رکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود پولیس کا ماننا ہے کہ لارنس بشنوئی کا اثر و رسوخ جیل کی سلاخوں سے باہر بھی موجود ہے۔
لارنس بشنوئی کو قتل، اقدام قتل، چوری، ڈکیتی سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ اور ان کے خلاف زیادہ تر کیس پنجاب، دہلی اور راجستھان کی ریاستوں میں درج ہیں۔
لارنس بشنوئی پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے سنسنی خیز قتل میں بھی مرکزی ملزم ہیں، موسے والا کو اکتوبر 2022 میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہANI
لارنس کا گینگ
انڈین پولیس کا دعویٰ ہے کہ لارنس بشنوئی اپنی زیادہ تر کارروائیاں جیل کے اندر ہی سے انجام دیتے ہیں۔
انڈیا کے وفاقی تفتیش کاروں کا اندازہ ہے کہ لارنس بشنوئی اب بھی 700 اراکین پر مشتمل گینگ کی سربراہی کرتے ہیں جو پنجاب، ہریانہ، راجھستان اور دلی میں فعال ہے۔ یہ گینگ مبینہ طور پر مشہور شخصیات سے بھتہ لیتا ہے، منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ کرتا ہے اور اس پر ٹارگٹ کلنگ کا بھی الزام ہے۔
پولیس کے مطابق بشنوئی گینگ مبینہ طور پر کینیڈا سے چلایا جاتا ہے اور اسے چلانے والے ایک بدنام گینگسٹر کا نام گولڈی برار ہے۔
پولیس گولڈی برار کو سدھو موسے والا قتل کے مرکزی سازشی سمیت کئی دیگر کیسز میں تلاش کر رہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ لارنس بشنوئی کے اس گینگ میں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے لوگ شامل ہیں۔
ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں لارنس بشنوئی اپنے گینگ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’یہ گینگ نہیں ہے، یہ ایک ہی درد رکھنے والے لوگوں کا گروپ ہے۔‘
پنجاب کے سابق سینیئر پولیس افسر گرمیت چوہان کا کہنا ہے کہ ’وہ کسی پریشانی کے بغیر جیل سے اپنا گینگ چلا رہا ہے۔ کسی ایک علاقے تک محدود دوسرے مجرموں کے برعکس اس کی سوچ بڑی ہے۔‘
لارنس بشنوئی کے وکیل وشال چوپڑا نے بی بی سی کی نامہ نگار سچترا موہنتی کو بتایا تھا: ’میرا مؤکل بے قصور ہے، اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2018 میں لارنس بشنوئی اس وقت خبروں کی زینت بنے تھے جب انھوں نے بالی وڈ اداکار سلمان خان کو دھمکی دی تھی اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر دو ایسے ہرنوں کا شکار کیا جنھیں راجھستان کی بشنوئی برادری مقدس مانتی ہے۔ لارنس بشنوئی کا تعلق اِسی برداری سے ہے۔
جب لارنس کو جودھ پور کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تو انھوں نے کُھل کر میڈیا سے کہا کہ ’سلمان خان کو یہاں، جودھ پور، میں مارا جائے گا، پھر اسے پتہ چلے گا ہماری اصل شناخت کا۔‘
اس کے بعد سلمان خان اور اُن کے والد سلیم خان کے نام نامعلوم شخص نے خط بھیجا تھا جس میں لکھا تھا کہ ’ان کے ساتھ سدھو موسے والا جیسا سلوک کیا جائے گا۔‘
اتفاق کی بات ہے کہ حال ہی میں ممبئی میں قتل ہونے والے سیاستدان صدیقی سلمان خان کے قریبی دوست تھے۔
طالبعلمی کی زندگی
لارنس بشنوئی متمول گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان پنجاب کے ایک گاؤں (ابوہر) کے سب سے امیر خاندانوں میں سے ایک تھا اور ان کی کوٹھی کے گرد سو ایکڑ زمین موجود تھی۔
یہ گاؤں انڈیا کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔پنجاب کے اس علاقے کے مغرب میں پاکستان سے متصل انڈیا کی سرحد ہے اور اس کے جنوب میں راجستھان اور ہریانہ ہیں۔
اس علاقے میں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کی مشترکہ ثقافت رائج ہے۔
لارنس بشنوئی کے والد پولیس میں ملازم تھے جنھوں نے بعد میں نوکری چھوڑ دی تھی۔ لارنس کی والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ لارنس کے بھائی کا نام انمول ہے ۔ یہ دونوں بھائی اب دونوں ہی سدھو موسے والا کے قتل میں ملزم نامزد ہیں۔
ان کی والدہ سنیتا بشنوئی نے ایک بار گاؤں کے سرپنچ کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لیے انھوں نے فارم بھی جمع کروائے تھے، لیکن بعد میں الیکشن نہیں لڑا۔
بشنوئی نے ابتدائی تعلیم ابوہر کے ایک پرائیویٹ سکول سے حاصل کی۔
سنہ 2011 میں لارنس نے ڈی اے وی کالج، چندی گڑھ میں داخلہ لیا جہاں سے وہ طلبا سیاست میں بھی شامل ہوئے۔
لارنس بشنوئی کی طالب علمی کے دوران سکول اور کالج میں ان کے ساتھ رہنے والے دیگر طلبا کا کہنا ہے کہ وہ پنجابی، باگڑی اور ہریانوی زبانیں بولتے ہیں۔
لارنس بشنوئی کے خلاف مقدمے
لارنس بشنوئی کو سنہ 2014 میں پہلی بار جیل منتقل کیا گیا۔ انھیں راجستھان میں مبینہ طور پر ایک پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔
سنہ 2021 میں انھیں دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کر دیا گیا۔ جون 2022 کو پنجاب پولیس نے انھیں سدھو موسے والا قتل کیس میں گرفتار کیا۔
بعد میں لارنس جو تہاڑ جیل سے بھٹنڈا جیل منتقل کیا گیا، جہاں وہ اب تک قید ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لارنس ’اے کیٹگری‘ کے گینگسٹر ہیں۔ گینگسٹرز کی آسانی سے شناخت کے لیے پنجاب پولیس نے ان کی کئی کیٹگریز بنائی ہیں جن میں سے ایک ’اے کیٹیگری‘ بھی ہے جس میں سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو رکھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالت میں ایک پیشی کے موقع پر لارنس نے انڈیا کی انقلابی شخصیت بھگت سنگھ کی تصویر والی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔
ایک اور وائرل ویڈیو میں، جو جیل میں بنائی گئی، لارنس کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔‘ اس شعر سے ان کا مطلب کیا تھا، یہ واضح نہیں ہے۔
لارنس بشنوئی کی زندگی بہت مختلف رہی ہے۔ جپندرجیت سنگھ کہتے ہیں کہ جیل میں قید ہونے کے باوجود وہ اپنا گینگ چلا رہا ہے۔ اسے کون سہولیات اور میڈیا تک رسائی دے رہا ہے؟ طاقتور اتحادیوں کے بغیر اتنا کنٹرول ناممکن ہے۔
لارنس کو اس سے جڑے افسانوں سے الگ کرنا بھی فی الحال ممکن نہیں۔













