سٹوکس کو سٹوکس ہی ہرا سکتا ہے: سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, تجزیہ کار
راولپنڈی کی اس خنک شام جب ڈھلتے سورج کے سائے طویل ہونے لگے، پاکستانی ڈریسنگ روم میں جذبات سرد پڑنے لگے اور ارمان آہوں میں بدلتے گئے۔ جس سحر کی امید لئے بابر اعظم پانچ روز پہلے اس میدان میں اترے تھے، یہ وہ سحر نہیں تھی۔
رجعت پسندانہ ٹیم سلیکشن کے ساتھ شروع ہونے والے اس سفر میں بابر اعظم کی قائدانہ غلطیوں نے المیے کو دوچند کیا اور پھر پہلے دو روز کی اوسط فیلڈنگ و بولنگ نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا۔ پاکستان کی ایسی پچز پہ تین میچز کی ٹیسٹ سیریز میں اگر پہلے ہی میچ سے مہمان ٹیم یوں برتری لے جائے تو بہت سے سوال پردۂ فکر پہ دستک دینے لگتے ہیں۔
اور اگر تھنک ٹینک بھی اپنی سوچ میں حد سے زیادہ بنیاد پرست واقع ہوا ہو تو سوال اور مسائل فطری طور پہ بڑھوتری کو گامزن ہو جاتے ہیں۔ جہاں یہ اصرار مسلسل برقرار رہے کہ دنیا کی دنیا جانے، ہم اپنی سی ہی کرکٹ کھیلیں گے، وہاں ٹیسٹ کرکٹ کی جدید حرکیات کیا بیچیں گی؟
کوئی بھلے دن تھے جب مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان ہوم گراؤنڈز پہ ناقابلِ شکست ٹیم ہوا کرتا تھا مگر تب سبھی مبصرین ایک ہی راگ الاپتے تھے کہ ہوم گراؤنڈز پہ جیت میں کیا کمال پنہاں ہے، اپنے گھر میں تو ہر کوئی جیت سکتا ہے۔
جب سے مصباح الحق اس کوچنگ سیٹ اپ سے رخصت ہوئے ہیں، پاکستان تاحال اپنے ہوم گراؤنڈز پہ کوئی بھی ٹیسٹ میچ جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ پہلے آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتنے کا سنہری موقع گنوایا گیا اور اب بین سٹوکس کا عزم و ہمت پاکستان کو چاروں خانے چِت کر گیا۔
بجا کہ صبح کے سیشن میں پہلا گھنٹہ بلے بازوں کے لئے بہت دشوار ہوتا ہے اور یہاں انگلش پیسرز کی نپی تلی بولنگ بھی پاکستانی بلے بازوں کو امتحان میں ڈال رہی تھی مگر اس سپیل میں بھی کئی ایک گیندیں ایسی تھیں جنہیں اگر مثبت عزم سے کھیلا جاتا تو نہ صرف چند قیمتی باؤنڈریز پاکستان کے سکور بورڈ میں جمع ہو جاتیں بلکہ دباؤ کا دھارا بھی انگلش کیمپ کی طرف پلٹ جاتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر پاکستان نے یہاں جو کرکٹ کھیلی، وہ بجائے خود مخمصے کا شکار تھی۔ واہموں میں الجھی بیٹنگ لائن کے سامنے کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں تھی کہ اس میچ میں کیا پیش رفت کریں اور کیونکر کریں۔ ایک عجیب سا خوف ذہنوں پہ طاری تھا جو کسی کو بھی یہ سُجھانے کی ہمت نہیں دے رہا تھا کہ ہدف کے پیچھے بھاگنا ہے یا اوائل سے ہی ہتھیار ڈال دینا ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ ٹیسٹ کرکٹ میں کھیل کی چال لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہے اور ہر سیشن میں کھیل کی حرکیات مختلف ہوتی ہیں مگر پاکستانی تھنک ٹینک کو یہ سمجھنا کیونکر محال تھا کہ ڈرا یہاں یکسر خارج از امکان تھا اور جس قدر پاکستانی بیٹنگ اس میچ کو طول دیتی، بین سٹوکس کے لئے امکانات کا دائرہ اسی قدر وسیع تر ہوتے جانا تھا۔
سٹوکس اگر چاہتے تو اپنی دوسری اننگز کی ڈکلئیریشن چائے کے وقفے کے بعد مزید آدھے گھنٹے تک موخر کر دیتے اور ایک ایسا ہدف ترتیب دیتے جہاں سے پاکستان کے لئے میچ میں بقا ہی واحد رستہ رہ جاتا۔ مگر سٹوکس اس امر سے بھی بخوبی آگاہ تھے کہ ڈرا کی خوگر پاکستانی ٹیم یوں ان کے دام میں نہیں آئے گی۔
سٹوکس بالکل یہی چاہتے تھے کہ ہدف ایسا ہو جو پاکستان کی رسائی میں ہو۔ مگر ان کے خیال کے برعکس پاکستان نے کل سہہ پہر ہی یہ طے کر چھوڑا تھا کہ بہر صورت وہ میچ کو آخری ایک گھنٹے تک کھینچ کر لے جائیں گے اور پھر وہاں سے یہ تعین کیا جائے گا کہ اگلا لائحہ عمل کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مگر اس دانشمندانہ منصوبہ سازی کے بیچ فیصلہ ساز یہ بھول بیٹھے کہ اگر پنڈی کی اس پچ نے پانچویں دن کی سہہ پہر اپنی روایتی ریورس سوئنگ کی کوئی جھلک دکھلا دی تو پاکستان کے پاس سر چھپانے کو کون سا گوشہ میسر ہو گا؟
اگر پاکستان صبح کے سیشن میں پہلا گھنٹہ اپنی بے جا مدافعانہ حکمتِ عملی کی نذر نہ کرتا تو بعید نہیں تھا کہ سارا دباؤ واپس انگلش کیمپ کو پلٹ جاتا اور سٹوکس اپنی ڈکلئیریشن کے فیصلے پہ سٹپٹانے لگتے۔ مگر پاکستان کے محتاط قدموں نے انگلش بولرز کے حوصلے جواں کر دئیے۔
پچھلے کچھ عرصہ میں اگر مختلف ٹیموں کے ٹیسٹ کرکٹ میں رن ریٹ کا تقابل کیا جائے تو انگلش ٹیم سرِ فہرست نظر آتی ہے جبکہ پاکستانی ٹیم اس جدول کے عین آخری خانے میں دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
یہ امر حیران کن یوں ہے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور انڈیا تو پاکستان سے بھی سست تر پچز پہ اپنی بیشتر کرکٹ کھیلتے ہیں مگر ان کا بھی عزم اس پاکستانی ٹیسٹ ٹیم سے بدرجہا بہتر ہے۔
جس سوچ کے ساتھ یہ ڈریسنگ روم ٹیسٹ کرکٹ میں آگے بڑھنا چاہ رہا ہے، وہ عملی دنیا میں زیادہ وقعت نہیں رکھتی اور اس سوچ کے تحت ٹیسٹ چیمپئین شپ فائنل کھیلنے کا خواب محض مضحکہ خیزی کے سوا کچھ نہیں۔ چیمپئین شپ کے رواں سائیکل میں اب پاکستان کے مزید چار میچز باقی ہیں اور فائنل تک رسائی کا امکان پانے کے لئے یہ چاروں میچز جیتنا لازم ہیں۔
مگر رواں منظر نامے میں ایسا کوئی معجزہ برپا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ہاں، اگر پاکستان ٹیم سلیکشن میں اپنی سوچ بہتر کر لے اور بابر اعظم اپنی قائدانہ اپروچ میں ذرا سی جارحیت جگا لیں تو شاید مزید رسوائی سے چھٹکارا ممکن ہو پائے۔
مگر بین سٹوکس جیسے حریف کے سامنے ہوتے ایسا بدلاؤ لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔












