پنڈی ٹیسٹ: انگلینڈ کے 657 رنز، امام الحق اور عبداللہ شفیق کی سنچری شراکت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی بولرز اگرچہ راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے دن انگلینڈ کی چھ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے لیکن وہ رنز کی رفتار کو پھر بھی نہ روک سکے اور پانی ان کے سر سے اوپر جاچکا تھا۔
انگلینڈ نے 657 رنز بناکراطمینان کا سانس لیا جو ٹیسٹ کرکٹ میں اس کا پاکستان کے خلاف سب سے بڑا سکور ہے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کا پاکستان کے خلاف پانچواں سب سے بڑا سکور بھی ہے۔
اس بڑے سکور کے بعد پاکستانی بیٹسمینوں کی آزمائش شروع ہوچکی تھی جن کے سامنے پہلا سب سے بڑا چیلنج فالوآن سے خود کو بچانا ہے۔
دوسرے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 181 رنز بنالیے تھے۔ امام الحق اور عبداللہ شفیق نے ُپراعتماد انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے آنے والے بیٹسمینوں کے حوصلے بھی بلند کردیے تھے۔
امام الحق 90 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ انھوں نے اس اننگز کے دوران ٹیسٹ کریئر میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کر لیے۔ یہ ان کا 17 واں ٹیسٹ ہے۔
فالوآن سے بچنے کے لیے پاکستان کو اب بھی 276 رنز بنانے ہیں۔ عبداللہ شفیق 89 رنز بناکر کریز پر تھے۔ ان دونوں نے اسی سال پنڈی ہی میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ کی یاد دلادی، جس کی دوسری اننگز میں انھوں نے 252 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کی تھی جس میں دونوں کی ناقابل شکست سنچریاں شامل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پلے سٹیشن والا گیم کھیلنا
پنڈی ٹیسٹ کے پہلے دن جب انگلینڈ کے بیٹسمین تیز رفتاری سے رنز بنارہے تھے تو سابق ٹیسٹ کرکٹر اور اس سیریز میں کمنٹری کرنے والے بازید خان نے ٹوئٹ کی کہ اتنا تو پلے سٹیشن پر بھی نہیں ہوتا۔
انگلینڈ کے بیٹسمینوں کی مثبت سوچ میں دوسرے دن کے پہلے سیشن میں بھی کوئی فرق نہیں آیا اور انھوں نے سکورر حضرات کو کسی بھی موقع پر آرام سے نہیں بیٹھنے دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انگلینڈ کی ٹیم نے دوسرے دن جب بیٹنگ شروع کی تو سکور چار وکٹوں پر 506 رنز تھا اور جب اس کی آخری وکٹ گری تو وہ صرف 26 اوورز میں151 رنز کا اضافہ کرچکی تھی، یعنی اس نے فی اوور پانچ سے بھی زیادہ رنز کی رفتار برقرار رکھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہیری بروک سپیشل ٹیلنٹ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انگلینڈ کی اننگز میں پہلے ہی دن چار سنچریاں بن چکی تھیں اور دوسرے دن دلچسپی اس بات میں تھی کہ کیا مزید کوئی بیٹسمین تین ہندسوں کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوسکے گا؟ اگرچہ ایسا نہ ہو سکا لیکن ہیری بروک اپنے گذشتہ روز کے سکور میں 52 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ہیری بروک نے پہلے دن سعود شکیل کے ایک ہی اوور کی چھ گیندوں پر چھ چوکے لگائے تھے۔ دوسرے دن زاہد محمود ان کی زد میں آگئے جن کے ایک اوور میں انھوں نے دو چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے27 رنز اسکور کرڈالے۔ آخری گیند پر تین رنز بنے۔ یہ 27 رنز ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کے کسی بھی بیٹسمین کے ایک اوور میں بنائے گئے سب سے زیادہ رنز ہیں۔
ہیری بروک کی شکل میں انگلینڈ کو سپیشل ٹیلنٹ ملا ہے۔ اس نوجوان بیٹسمین کی صلاحیتیں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور اس سال کی پی ایس ایل میں ظاہر ہوچکی ہیں اور اب اپنے دوسرے ٹیسٹ میں سنچری کے بعد ان کا ٹیسٹ کریئر بھی روشن دکھائی دیتا ہے۔
دوسرے دن کے کھیل میں گرنے والی انگلینڈ کی پہلی تین وکٹیں فاسٹ بولر نسیم شاہ کے حصے میں آئیں جنھوں نے کپتان بین سٹوکس کو بولڈ کیا اور ہیری بروک اور لیئم لونگ سٹون کے کیچ سعود شکیل کے ہاتھوں میں محفوظ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
زاہد محمود کا ناپسندیدہ ورلڈ ریکارڈ
یہ بھی پڑھیے
اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کرنے والے لیگ سپنر زاہد محمود نے اگرچہ انگلینڈ کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں لیکن انھوں نے33 اوورز کی بولنگ میں 235 رنز دے ڈالے۔
یہ کسی بھی بولر کی اولین ٹیسٹ میں سب سے مہنگی بولنگ کا نیا ریکارڈ بھی ہے۔ اس سے پہلے انگلینڈ کے لیگ سپنر عادل رشید نے سنہ 2015 میں پاکستان کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 163 رنز دیے تھے اور انھیں کوئی وکٹ نہیں ملی تھی۔ تاہم وہ دوسری اننگز میں 64 رنز کےعوض 5 بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
زاہد محمود سے قبل پاکستان کے پانچ بولرز ٹیسٹ کی ایک اننگز میں دو سو یا اس سے زیادہ رنز دے چکے ہیں جن میں خان محمد، فضل محمود، حسیب احسن، ثقلین مشتاق (دو مرتبہ) اور یاسر شاہ (تین مرتبہ) شامل ہیں۔










