گرومنگ گینگ کے پاکستانی نژاد سرغنہ کو 35 سال قید کی سزا: ’جنسی استحصال کرنے والے اتنے زیادہ تھے کہ اُن کی گنتی مشکل تھی‘

،تصویر کا ذریعہGMP / PA Wire
- مصنف, لارین ہرسٹ اور فل میک کین
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نارتھ ویسٹ
برطانیہ کے علاقے روچڈیل میں سکول کی دو طالبات کا ریپ کرنے والے گرومنگ گینگ کے پاکستانی نژاد سرغنہ کو 35 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
65 سالہ محمد زاہد ’باس مین‘ کے عرفی نام سے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے لڑکیوں کو اپنے سٹال سے مفت انڈرویئرز اس امید پر دیے تھے کہ اس کے عوض وہ اُن سے اور اُن کے دوستوں سے باقاعدہ جنسی تعلقات قائم کریں گی۔
تین بچوں کے باپ محمد زاہد اُن سات افراد میں شامل ہیں جنھیں رواں برس جون میں سنہ 2001 سنہ 2006 کے درمیان جنسی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
اس کیس میں محمد زاہد کے علاوہ 67 سالہ مشتاق احمد، 50 سالہ قصیر بشیر، 44 سالہ محمد شہزاد، 49 سالہ نعیم اکرم، 41 سالہ نثار حسین اور 39 سالہ روحیز خان کو بھی طویل قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ کیسے گریٹر مانچسٹر ٹاؤن میں اِن دونوں متاثرہ لڑکیوں کا 13 سال کی عمر سے کار پارکنگ، گندے فلیٹس اور بند گوداموں میں جنسی استحصال کیا گیا۔
عدالتی سماعت کے دوران ان متاثرہ لڑکیوں کی شناخت کو مخفی رکھا گیا اور انھیں ’اے‘ اور ’بی‘ کا نام دیا گیا، اُن کے ساتھ ’جنسی غلاموں‘ جیسا سلوک روا رکھا گیا اور ان لڑکیوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ مردوں کی خواہش کے مطابق جب بھی اور جہاں بھی ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے تیار رہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ یہ دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کو نہیں جانتی تھیں اور اُن کی ’گھریلو زندگی شدید پریشان کن‘ تھی اور انھیں منشیات ، شراب اور سگریٹ سے روشناس کروایا گیا تھا اور انھیں مردوں کے ساتھ ٹھہرایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGMP
مجرمان کو سزا سنائے جانے کے عمل کے دوران جج جوناتھن سیلی نے کہا کہ ’شکاری‘ مردوں کے ہاتھوں لڑکیوں کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک ’خوفناک‘ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’اُن کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، اُن کی تذلیل کی گئی اور پھر انھیں چھوڑ دیا گیا۔‘
جج نے کہا لڑکیوں نے محسوس کیا کہ ان کے پاس اُن کے ساتھ ہونے والے لگاتار جنسی استحصال کے تابع ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ کم عمر بچیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے والے یہ سب مرد یا تو مقامی مارکیٹ میں کام کرتے تھے یا ٹیکسی ڈرائیور تھے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
متاثرہ لڑکی ’اے‘ نے جیوری کو بتایا کہ شاید اس دورانیے میں انھیں سینکڑوں مردوں نے نشانہ بنایا کیونکہ اُن کا فون نمبر سب کو دیا گیا تھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ’وہ (جنسی استحصال کا نشانہ بنانے والے) اتنے سارے تھے کہ اُن کی گنتی کرنا مشکل تھا۔‘
انھوں نے 2004 میں مقامی بچوں کو خدمات فراہم کرنے والے ادارے کو بتایا تھا کہ وہ بڑی عمر کے مردوں کے ساتھ گھوم رہی تھیں، چرس پی رہی تھیں اور تمباکو نوشی کر رہی تھیں۔
متاثرہ لڑکی ’بی‘ جب ان مردوں کے ساتھ رابطے میں آئیں تو اس وقت وہ بچوں کی ایک پناہ گاہ میں رہ رہی تھیں۔ انھوں نے جیوری کو بتایا کہ پولیس اور سماجی کارکنوں کو سب معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے لیکن ’وہ اس کے بارے میں کچھ کرنے کے لیے کافی فکر مند نہیں تھے۔‘
لڑکی بی اب 30 سال کی ہیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’یہ سب میری فائل میں درج تھا، میں نے اسے دیکھا اور پڑھا ہے۔‘
وہ اب 30 سال کی ہیں۔
انھوں نے کہا ’مجھے پولیس نے 10 سال کی عمر سے ہی آوارہ پھرنے اور جسم فروشی کے الزامات میں اٹھانا شروع کیا تھا۔ یاد رہے کہ سماجی خدمات کے ادارے اور پولیس نے اس سے قبل لڑکیوں کے حوالے سے اپنی ماضی کی ناکامیوں پر معافی مانگی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGMP
مجرمان کو ملنے والی سزاؤں کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے:
- پاکستان میں پیدا ہونے والے 65 سالہ محمد زاہد کو لڑکی اے اور لڑکی بی کے ساتھ ریپ کرنے، ایک بچے کے ساتھ غیراخلاقی رویہ رکھنے اور ایک بچے کو جنسی تعلقات کے لیے خریدنے کا مجرم قرار دیا گیا جس پر انھیں 35 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
- پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں 67 سالہ مشتاق احمد اور 50 سالہ قیصر بشیر کو لڑکی بی کے ساتھ بار بار ریپ کرنے جیسے الزامات کے تحت بالترتیب 27 اور 29 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
- 44 سالہ محمد شہزاد، 49 سالہ ناہیم اکرم اور41 سالہ نثار حسین کو لڑکی اے کے ساتھ بار بار ریپ کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور انھیں بالترتیب 26، 26 اور 19 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
- پاکستان میں پیدا ہونے والے 39 سالہ روہیز خان کو لڑکی اے کے ساتھ ریپ کے ایک الزام میں قصوروار پایا گیا تھا اور انھیں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
سنہ 2016 میں زاہد کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جب انھیں 2005 اور 2006 میں ایک 14 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی سرگرمی میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جس سے اس کی ملاقات اُس وقت ہوئی تھی جب وہ سکول کے لیے ٹائٹس خریدنے کے لیے اُن کے سٹال پر گئی تھیں۔
مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے قبل ضمانت حاصل کرنے والے بشیر فرار ہو گئے تھے اور انھیں اُن کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی تھی۔
’مذموم جنسی فائدہ‘
گریٹر مانچسٹر پولیس کے ڈائریکٹر گائے لیکاک نے کہا کہ مردوں نے ’اپنے جنسی فائدے کے لیے لڑکیوں کی کمزوری کو نشانہ بنایا۔‘
انھوں نے کہا 'اس خوفناک بدسلوکی کی کوئی حد نہیں تھی، اگرچہ انھوں نے اس طویل تفتیش اور عدالتی مقدمے کے دوران ان الزامات کی تردید کی۔‘
'جب متاثرہ لڑکیاں کم عمر تھیں تو انھوں (مجرمان) نے ان کے ساتھ بے رحم اور توہین آمیز رویہ روا رکھا اور اتنے سالوں کے بعد بھی اُن کے ناقابل معافی اعمال پر انھیں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔‘
کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ماہر پراسیکیوٹر لز فیل نے کہا کہ ان افراد نے نوجوانوں لڑکیوں کو درپیش ’مشکل حالات‘ کا فائدہ اٹھایا۔
انھوں نے کہا 'دونوں متاثرہ لڑکیوں نے ایک طویل اور چیلنجنگ قانونی عمل کے دوران بہت زیادہ طاقت اور وقار کا مظاہرہ کیا ہے۔‘













