گرومنگ گینگ: ’برطانیہ بدری سے میرے خاندان کے حقوق پامال ہوں گے‘

،تصویر کا ذریعہPress Association
برطانیہ میں نو عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی فعل کے جرم میں سزا پانے والے گروہ کے دو ممبران برطانیہ بدر کیے جانے کے حکومتی فیصلے کو انسانی حقوق کی پامالی کے گراؤنڈ پر رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے شہر لیور پول کی کراؤن کورٹ نے دو ہزار بارہ میں روچڈیل سے تعلق رکھنے والے نو افراد کے گروہ کو کم عمر لڑکیوں سے جنسی فعل کرنے کے جرم میں انھیں چار سے انیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیئے
ان اشخاص پر الزام تھا کہ انہوں نے کم عمر لڑکیوں کو جنسی ضرورت کے لیے تیار کیا۔ وہ ان کم عمر لڑکیوں کو شراب اور منشیات مہیا کرتے تھے اور پھر انھیں حوس مٹانے کے لیے نہ صرف خود استعمال کرتے بلکہ ان لڑکیوں کو بطور تحفہ دوسرے افراد کو بھی پیش کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالت نے اس گروہ کے سرغنہ کو انیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے اس شخص کی شناخت کو مخفی رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔
اس وقت کی وزیر داخلہ ٹریسا مے نے اپنے ایک حکم میں دوہری شہریت کے حامل چار افراد کو قید کی سزا کے مکمل ہونے پر ملک بدری کا حکم جاری کیا تھا۔
سزا پانے والے ان افراد نے وزیر داخلہ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس میں وہ ناکام رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس گروہ کے دو ممبران قاری عبدالرؤف اور عادل خان یورپی یونین کنونشن کے آرٹیکل 8 کا سہارا لے کر اپنی ملک بدری کو رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ان کو ملک سے نکالے جانے سے ان کے خاندان کے حقوق پامال ہوں گے۔
سزا سنانے والے ایشیائی مردوں کے گروہ میں اکثریت پاکستانی نژاد تھے، جبکہ ایک شخص کا تعلق افغانستان سے تھا۔
جج جیرالڈ کلفٹن نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان تمام ملزمان کا محرک جنسی حوس اور لالچ تھا۔ جج نے ان ملزمان کو بتایا کہ انھوں نے ان کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جیسے ان کی کوئی عزت نہیں ہے اور وہ معاشرے کی بیکار فرد ہیں۔









