نواز شریف، عمران خان، بلاول بھٹو: پاکستانی سیاست کے اہم رہنماؤں کے بارے میں جانیے

A modern browser with JavaScript and a stable internet connection are required to view this interactive.

نواز شریف، عمران خان، بلاول بھٹو: پاکستانی سیاست کے اہم رہنماؤں کے بارے میں جانیے

پاکستان میں انتخابات کے بعد حکومت بنانے کی دوڑ میں کون کون شامل ہے؟

پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے بارے میں جانیے

تفصیلات جاننے کے لیے کسی ایک رہنما کا انتخاب کریں

نواز شریف

قائد مسلم لیگ نواز

  • 25 دسمبر 1949 کو پیدا ہونے والے 73 سالہ نواز شریف کا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے ہے اور وہ چوتھی مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بننے کے امیدوار ہیں۔ نواز شریف نے سینٹ انتھونی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ نواز شریف فرسٹ کلاس کرکٹ بھی کھیل چکے ہیں۔
  • نواز شریف نے تحریک استقلال سے سیاست کی ابتدا کی اور بعد میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1981 میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ جبکہ 1985 میں صوبے کے وزیر اعلی بنے۔ 1988 کے انتخابات کے بعد آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے وہ ایک بار پھر پنجاب کے وزیر اعلی بنے جبکہ بینظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم بنیں۔
  • 1990 میں نواز شریف پہلی بار ملک کے وزیر اعظم بنے لیکن مدت پوری ہونے سے قبل صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ 1997 میں نواز شریف بھاری اکثریت سے دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن اس بار بھی ان کی مدت پوری نہ ہو سکی۔ ان کا یہ دور عدلیہ اور فوج سے تنازعات سے بھرپور رہا اور 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ دیا جس کے بعد نواز شریف پہلے قید ہوئے اور پھر خاندان سمیت سعودی عرب منتقل ہو گئے۔
  • 2007 میں نواز شریف پاکستان لوٹے۔ 2013 میں نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیر اعظم بنے لیکن تیسری بار بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔ اس بار سپریم کورٹ نے پانامہ سکینڈل کی بازگشت کے بعد نااہل کیا جس کے بعد ایک احتساب عدالت نے انھیں 2018 میں کرپشن کے الزامات پر قید کی سزا سنائی۔ قید کے دوران نواز شریف کو علاج کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے لندن جانے کی اجازت دی۔ 2023 میں چار سال بعد نواز شریف واپس آئے اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے انھیں دو مقدمات میں بری کرتے ہوئے انتخابی سیاست کا دروازہ ایک بار پھر کھول دیا۔

عمران خان

بانی پاکستان تحریک انصاف

  • عمران احمد خان نیازی 25 نومبر، 1952 کو پیدا ہوئے۔ وہ چار بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ ایچی سن کالج لاہور اور کیتھڈرل سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عمران خان نے کبلی کالج آکسفورڈ کا رخ کیا جہاں وہ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے۔ عمران خان نے 1971 سے 1992 کے درمیان پاکستان کیلئے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی اور 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان منتخب ہوئے۔ 1992میں ون ڈے ورلڈ کپ میں پاکستان کی فتح کے بعد کھیل کے میدان کو چھوڑ کر فلاحی کاموں کا آغاز کیا اور لاہور میں شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا۔
  • 1996 میں عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے ایک سیاسی پارٹی قائم کرتے ہوئے سیاسی میدان میں سفر کا آغاز کیا لیکن 1997 میں انتخابی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 2002 کے انتخابات میں عمران خان پہلی بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کی ابتدائی حمایت کے بعد وہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ بنے اور 2007 میں گرفتار بھی ہوئے۔ عمران خان نے 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
  • سنہ 2011 میں عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا جس کے بعد 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں حکومت قائم کی اور قومی اسمبلی میں بھی ملک کی تیسری بڑی جماعت بن گئی۔ عمران خان نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک چلائی اور دارالحکومت اسلام آباد میں 126 دن پر مشتمل طویل دھرنا بھی دیا۔
  • 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور عمران خان پہلی بار وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم ان کا دور حکومت احتساب اور فوج سے تعلقات کے باعث متنازع رہا۔ عمران خان اپنی حکومت کی مدت پوری نہ کر سکے اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے باعث ان کا دور اقتدار ختم ہوا۔ عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت ایک سازش کے تحت گرائی گئی اور امریکی عہدیدار سمیت اپویشن جماعتوں اور فوج کے سربراہ کو بھی اس سازش میں شریک تھہرایا۔ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ چند دن بعد انھیں ضمانت پر رہائی ملی لیکن اگست میں ان کو ایک بار پھر گرفتار کیا گیا جس کے بعد توشہ خانہ کیس میں ان کو تین سال کی سزا سنائی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی

  • بلاول 21 ستمبر 1988 کو پیدا ہوئے تو صرف دو ماہ بعد عام انتخابات ہونا تھے۔ بلاول ابھی تین ماہ کے بھی نہیں تھے جب ان کی والدہ بینظیر بھٹو نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر حلف لیا۔ اپریل 1999 میں بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی پر بیرون ملک روانہ ہوئیں تو بلاول بھی ان کے ساتھ تھے۔ بلاول کا بچپن اور نوعمری کے سال دبئی اور لندن میں گزرے۔ انھوں نے سنہ 2012 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرائسٹ چرچ کالج سے ماڈرن ہسٹری اور پالٹیکس میں گریجویشن کیا۔
  • 2007 میں بینظیر کی موت کے فوراً بعد انھیں پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ ابتدائی طور پر، انھوں نے ایک رسمی سربراہ کے طور پر کام کیا اور لندن میں اپنی تعلیم مکمل کی جبکہ پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور ان کے والد آصف علی زرداری ملک کے صدر بنے۔
  • 2012 میں بلاول نے باضابطہ طور پر سیاست کا آغاز کیا اور 2013 کے انتخابات کی مہم کی قیادت کی۔ 2018 میں وہ لاڑکانہ سے پہلی بار پارلیمنٹ کے رکن بنے۔ 2019 میں بلاول قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین بنے۔
  • 2022 میں عمران خان اور تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت میں بلاول بھٹو پاکستان کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ بنے، جو ان کا پہلا سرکاری عہدہ تھا۔ بلاول بھٹو اس وقت پاکستان کی کسی اہم سیاسی جماعت کے سب سے کم عمر سربراہ بھی ہیں۔