برف کے کمرے میں سہاگ رات منانے کی سزا جس نے محبت کی داستان کو جنم دیا

اینا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ڈالیا وینچورا
    • عہدہ, بی بی سی منڈو

وہ ایک روسی شہزادہ تھا جبکہ لوسیا ایک اطالوی سرائے کے مالک کی بیٹی۔ یہ بڑا طبقاتی فرق بھی شہزادہ میخائل الیکسیوچ گولٹسن کو لوسیا کے دام محبت میں گرفتار ہونے سے نہیں روک سکا۔

اس کے علاوہ لوسیا نے شادی کے لیے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ وہ خفیہ طور پر ہی سہی کیتھولک مذہب قبول کرے۔ یہ بڑی شرط بھی اس کے لیے رکاوٹ نہیں بنی۔

لیکن یہ روسی فرمانروا اینا کے لیے ایک ناقابل معافی گناہ تھا۔ سنہ 1732 میں جب یہ جوڑا ماسکو پہنچا تو اینا کی وہاں حکمرانی تھی۔

اینا کی نظر میں یہ شادی ایک ایسا گناہ تھی جس کی وہ سزا دے تاکہ وہ جوڑا عمر بھر اپنے فعل پر افسوس کرے۔

ان کے دور کو روس کی تاریخ کے ’تاریک دور‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ یہ روسی تاریخ کے سب سے افسوسناک ادوار میں سے ایک تھا۔

اگرچہ تجربے نے ہمیں مردوں کی لکھی ہوئی تاریخ کی بنیاد پر خواتین کے بارے میں رائے قائم کرنے سے ہوشیار رہنا سکھایا ہے لیکن پرنس گولٹسن کو سزا دینے کا واقعہ یقینی طور پر اینا کے حق میں نہیں جاتا۔

فریڈرک
،تصویر کا کیپشنفریڈرک دی تھرڈ ولیم کیٹلر شادی کے وقت 18 برس کے تھے

بادشاہ کی بیٹی

اینا ’ایوان دی اگنورنٹ‘ کی بیٹی تھی۔ اگرچہ وہ زار تھے لیکن درحقیقت وہ مملکت میں صرف رسمی فرائض انجام دیتے تھے جبکہ ان کے سوتیلے بھائی پیٹر اول (جو پیٹر دی گریٹ کے نام سے مشہور تھے) اصل میں حکومت کرتے تھے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وہ اپنے والد کی موت پر تین سال کی تھیں اور اس وقت ان کے چچا نے اپنی طاقت کو مستحکم کر لیا اور پھر سنہ 1710 میں چچا نے فریڈرک سوم ولیم کیٹلر، ڈیوک آف کورلینڈ اور سیمیگالیا (موجودہ لٹویا) سے اپنی بھتیجی کی شادی طے کر دی۔

انھوں نے اپنے منگیتر کو لکھا: ’میں آپ کو یقین دلانے سے خود کو روک نہیں سکی۔ میرے لیے آپ کی محبت کا اعلان سننے سے زیادہ مجھے کوئی چیز خوش نہیں کر سکتی۔

’میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میرے جذبات بھی آپ کی ہی طرح ہیں۔ ہماری اگلی خوشگوار ملاقات، جس کی میں منتظر ہوں، اس میں خدا نے چاہا تو میں آپ سے ذاتی طور پر ان جذبات کا اظہار کروں گی۔‘

ان کی شادی پرتعیش تھی۔ اور دو دن بعد پیٹر دی گریٹ کے زیر اہتمام ایک عجیب و غریب جشن منایا گیا جس میں دولہا اور دلہن کے ساتھ چھوٹے قد کے مہمان بھی تھے۔

لنڈسے ہیوز نے اپنی تصنیف ’پیٹر دی گریٹ: اے بائیوگرافی‘ میں لکھا ہے کہ ’جشن کی دعوت کے موقع پر کمرے کے بیچ میں چھوٹی میزوں پر چھوٹے قد کے مہمان بیٹھائے گئے جبکہ درباری انھیں دیکھتے رہے۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’وہ (درباری) ان مہمانوں کو دیکھ کر زور سے ہنستے، خاص طور پر بوڑھے، بدصورت اور چھوٹے قد والے، جن کے کوہان، بڑے پیٹ، اور ٹیڑھی ٹانگیں تھیں جس کے سبب ان کے لیے ناچنا مشکل تھا، ان کے نشے کی حالت میں گرنے، یا لڑائی جھگڑے پر (وہ زور زور سے ہنستے رہے)۔‘

روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناُنھوں نے چھ میٹر بلند اور 6.6 میٹر قطر کی حامل دنیا کی سب سے بڑی گھنٹی بھی بنوائی تھی

بیوہ

ہیوز کا خیال ہے کہ پیٹر دی گریٹ نے شادی شدہ جوڑے اور پوری روسی عدالت کی جو توہین کی، اس دوران دولہے نے اتنی زیادہ شراب پی لی کہ وہ بیمار پڑ گئے اور جان بچنے کی امید نہ رہی۔

دو ماہ بعد ان کی وفات ہو گئی اور اینا 17 سال کی عمر میں ایک اجنبی سرزمین پر تنہا رہ گئیں۔

اُنھوں نے اپنے چچا کو سینکڑوں خطوط لکھے اور ان میں التجا کی کہ ان کے لیے ایک نیا خاوند تلاش کیا جائے لیکن ان کے چچا نے ان کی درخواستوں کو اس خیال کے تحت نظر انداز کر دیا کہ اگر اُنھوں نے دوبارہ شادی کی تو وہ کورلینڈ اور سیمیگالیا پر اپنا کنٹرول کھو دیں گی۔

اس لیے اُنھوں نے اپنے آپ کو قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

جب پیٹر دی گریٹ کے پوتے پیٹر دوم بغیر کسی اولاد کے مر گئے تو اینا کو ان کا جانشین قرار دیا گيا۔

یہ بھی پڑھیے

مہارانی کے طور پر ان کا انتخاب تخت پر قبضہ کرنے اور بغاوت کو روکنے کے لیے رومانوف خاندان سے ہی کسی شخص کی تلاش کا نتیجہ تھا۔

وہ واحد آپشن نہیں تھیں لیکن روس کی سپریم پریوی کونسل، جو کہ امیر خاندانوں پر مشتمل ایک ایگزیکٹو باڈی تھی اس نے یہ سوچ کر ان کا انتخاب کیا کہ ان کو اپنے قابو میں رکھنا آسان ہو گا۔

لیکن وہ اپنی سوچ میں غلط تھے۔

اگرچہ اینا نے شرائط کے ساتھ ایک دستاویز پر دستخط کیے جس کی رو سے یہ تھا کہ اقتدار ان کے ہاتھ میں نہ رہے گا لیکن جب وہ ماسکو پہنچیں تو انھوں نے اس عہد نامے کو توڑ دیا، کونسل کو ختم کر دیا اور دوبارہ مطلق العنان بادشاہت قائم کر دی۔

روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناینا کے برفانی گھر کی نقل جو اب سنہ 2005 سے سینٹ پیٹرزبرگ میں باقاعدگی سے بنایا جاتا ہے

برف کا محل

بہر حال نئی مہارانی کو حکومتی امور میں بہت کم دلچسپی تھی تاہم وہ ریاست کے انتظام کے لیے اپنے عاشق ارنسٹ جوہان بیرن اور جرمن مشیروں کے ایک چھوٹے سے گروپ پر بہت زیادہ انحصار کرتی تھیں۔

اس دوران وہ بنیادی طور پر پرتعیش تفریح میں مشغول رہتی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کا دربار طرح طرح کی چيزوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ وہ روسی اکیڈمی آف سائنسز سے لے کر پیٹر دی گریٹ کے شروع کردہ کئی شاہانہ منصوبوں کی مالی اعانت کر رہی تھیں۔

سنہ 1739-1740 کے موسم سرما میں مہارانی نے ایک افسانوی قسم کا کام شروع کروایا جس میں سائنس کے ساتھ جادو کو جوڑا گیا تھا جس کے لیے ایک محل تیار کیا گیا جو مکمل طور پر برف سے بنا تھا اور یہ ریکارڈ شدہ تاریخ میں ایسا پہلا تھا۔

مشہور معمار پیوٹر ایروپکن اور سائنسدان جارج وولف گینگ کرافٹ نے دریائے نیوا کے کنارے ’برف کا محل‘ بنانے کے لیے برف کے بڑے بڑے بلاکس کا استعمال کیا جنھیں منجمد پانی کے ساتھ جوڑا گیا۔

سامنے والے حصے کی پشت کو کھلے کھلے منہ والی ڈولفنز سے سجایا گیا۔ اس محل میں ایک گھڑی، کھانے کی اشیا اور برتنوں کے ساتھ ایک کھانے کا کمرہ، قالین سے سجا ایک کمرہ، اس میں لحاف، تکیے اور پردے لگائے گئے تھے اور ان تمام کو برف کی سلیوں اور قدرتی رنگ سے تیار کیا گیا تھا۔

محل کا مرکزی حصہ پرندوں اور جانوروں سے آباد تھا اور ان میں سب سے زیادہ متاثر کن ایک زندہ جاوید ہاتھی کے سائز کا برفیلا ہاتھی تھا۔ اس کو دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ہاتھی کے سونڈ سے دن میں پانی نکلتا اور رات میں تیل کے دیے جلتے اور یہ ایسے چنگھاڑتا تھا جیسے کوئی زندہ ہاتھی چنگھاڑتا ہو، اور یہ چنگھاڑ اس میں چھپا ایک آدمی بگل بجا کر نکالتا تھا۔

شادیاں کروانا اور شادیوں کو دوبارہ ترتیب دینا اینا کے مشاغل میں شامل تھا اور اس کے ساتھ ہی اُنھیں اپنا مذہب تبدیل کرنے والے شہزادے کو بھی تو سزا دینی تھی۔

اینا نے میخائل الیکسیوچ گولٹسین کی محبوبہ لوسیا کے بارے میں جاننے کے بعد انھیں فوراً جلاوطن کروا دیا تھا۔ انھوں نے ان کی شادی منسوخ کر دی تھی اور ان کا لقب واپس لے لیا تھا اور ان کا حکم تھا کہ انھیں صرف ان کے پہلے نام سے پکارا جائے، حتیٰ کہ سرکاری دستاویزات میں بھی ان کا محض پہلا نام ہی درج کیا جائے۔

اور بعد میں، وہ بھی نہیں۔

اینا نے شہزادے کا نام کواسنک رکھ دیا۔ وہ ان سے زبردستی دن بھر کواس نامی ایک روایتی مشروب پیش کرواتیں، اس کے علاوہ اپنی اور اپنے مہمانوں کی تفریح کرواتیں یا پھر انھیں کہتیں کہ وہ ان کے پاس رکھی ٹوکری میں سانپ کی طرح مڑ کر بیٹھے رہیں۔

روس
،تصویر کا کیپشناینا سنہرے لباس میں جبکہ بائیں جانب برف کی نشست پر نئے دولہا دلہن بیٹھے ہیں

لیکن ان کی آخری ضرب سنہ 1740 کی سردیوں میں سامنے آئی جب ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شہزادے کی شادی وہ اپنی کسی کنیز کے ساتھ کر دیں اور اس کے لیے انھیں اپنی کنیزوں میں سب سے بدصورت اودوتیا بوزینینوا نظر آئیں۔

چھ فروری کو اس ناخوش جوڑے کی مسخرے کے ملبوسات میں ایک چرچ میں شادی کروا دی گئی۔ انھیں ایک پنجرے میں قید کرکے ایک ہاتھی پر نمائش کرواتے ہوئے لے جایا گیا اور ان کے پیچھے روسی سلطنت کی تمام نسلوں کے سفیروں کا ایک قافلہ برف والے گھر تک پہنچا جہاں انھیں اپنی شادی کی رات گزارنی تھی۔

جب ایک بار وہ وہاں پہنچ گئے تو ان کے کپڑے زبردستی اتار کر انھیں ایک کمرے میں بند کر دیا گیا اور پھر اینا نے ان پر زور دیا کہ وہ منجمد ہو کر مرنے سے قبل اپنی شادی کو مکمل کریں یعنی سہاگ رات منائيں۔

اگرچہ شہزادے اور ان کی محبوبہ لوسیا کے خلاف اینا کا غصہ اس وجہ سے تھا کہ لوگوں کو ایسی محبت کیوں ملے جس کی انھوں نے خواہش کی تھی اور وہ انھیں نہیں مل سکی تھی لیکن ان کی جانب سے اس سزا کی وجہ سے محبت کی پریوں جیسی داستان نے جنم لیا۔

جب اودوتیا نے دیکھا کہ ان کا نیا شوہر (شہزادہ) جان سے جانے والا ہے تو انھوں نے اپنے نئے شوہر کی جان بچانے کے لیے ایک محافظ کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ انھیں ان کی سب سے شاندار چیز کے بدلے اپنا گرم کوٹ دے دے۔

اور ان کی سب سے قیمتی چیز ایک موتیوں کا ہار تھا جو مہارانی اینا نے انھیں شادی کے تحفے کے طور پر دیا تھا۔ تاریخ دان ہنری ٹرائیٹ کے مطابق وہ اگلے دن اپنی برف کی جیل سے ’بہتی ناک اور کچھ فراسٹ بائٹ‘ کے علاوہ صحیح سلامت باہر نکلے۔

اور روس کی مہارانی اینا اول اسی سال اکتوبر میں وفات پا گئیں۔