انقلابِ فرانس: ملکہ میری انتوانیت، جن کی فضول خرچی شاہی تخت لے ڈوبی

میری انتوانیت، فرانس، انقلابِ فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیری انتوانیت کا 16 اکتوبر 1793 کو پیرس میں 38 سال کی عمر میں سر قلم کر دیا گیا تھا
    • مصنف, ڈالیا وینچورا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، منڈو

امریکہ کے بانیان میں سے ایک تھامس جیفرسن نے 1821 میں خود نوشت میں لکھا تھا کہ 'میرا ہمیشہ یہ ماننا تھا کہ اگر کوئی ملکہ نہ ہوتی تو کوئی انقلاب بھی نہ آتا۔'

وہ اپنے ملک کے تیسرے صدر تھے اور 1785 سے 1789 کے دوران فرانس میں امریکہ کے سفیر رہ چکے تھے اور انھوں نے وہ سیاسی اور سماجی اتار چڑھاؤ دیکھا تھا جو فرانسیسی انقلاب کی بنیاد بنا اور انھوں نے شہنشاہ لوئی 16 کے دربار کی رنگینیاں اور شاہ خرچیاں بھی دیکھ رکھی تھیں۔

مگر انھوں نے اپنے قلم کا استعمال شہنشاہ پر تنقید کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ جیفرسن کے نکتہ نظر میں لوئی 16 کا مسئلہ یہ تھا کہ ’ان کی ملکہ کا ان کے کمزور ذہن اور ڈھیلے کردار پر مکمل اختیار تھا۔ وہ کردار کے معاملے میں ہر صورت میں ان سے متضاد تھے۔‘

یہ ملکہ مری انتوانیت تھیں اور وہ شاید جیفرسن کے لکھے گئے الفاظ سے متفق ہوتیں کیونکہ انھوں نے خود بھی 1775 میں ایک دوست کو خط میں لکھا تھا کہ ’میرے ذوق بادشاہ جیسے نہیں، جنھیں صرف شکار اور لوہے کا کام پسند ہے۔‘

مگر جیفرسن ان کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے صرف ذوق کی بات نہیں کر رہے تھے۔

’وہ ظاہر تو ذہین تھیں مگر بالکل ناسمجھ تھیں۔ وہ مغرور تھیں، اعتدال کو پسند نہیں کرتی تھیں اور اپنی مرضی کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ پر سخت غصہ کرتیں، ہمیشہ لذت کے حصول کے لیے سرگرم رہتیں، اپنی خواہشات پر قائم رہتیں۔‘

اور بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی: ہزاروں لوگوں کی رائے کی طرح وہ بھی ان کی مذمت کرنے سے ہچکچائے نہیں بلکہ انھیں فرانس کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیا۔

'کاؤنٹ آف آرٹوا اور ان جیسے دیگر افراد کے ساتھ ان کے بے پناہ جوئے اور اخراجات کی وجہ سے خزانہ تیزی سے خالی ہونے لگا جس نے قومی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔'

اور اس تبدیلی کے ساتھ پورا شاہی خاندان اور دنیا بھی تبدیل ہو گئی۔

'اصلاحات کی مخالفت، بے لچک شرانگیزی اور بے خوفی نے انھیں سزائے موت دلوائی اور اپنے ساتھ وہ بادشاہ کو بھی گھسیٹ لے گئیں جس سے دنیا جرائم اور آفات میں ایسی گھری جو جدید تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ داغ کی طرح رہیں گے۔'

میری انتوانیت ایک علامت تھیں اور ایسی کسی علامت کی طاقت کو کبھی کم نہیں سمجھنا چاہیے مگر امریکہ کے اعلانِ آزادی کے مرکزی مصنف کے الفاظ اس چیز کے نہایت قریب ہیں جس کا اکثر ملکہ پر الزام عائد کیا جاتا تھا، یعنی فضول خرچی۔

میری انتوانیت، فرانس، انقلابِ فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیری انتوانیت آرچ ڈچز آف آسٹریا تھیں اور ہمیشہ ہی ملکہ کی طرح کے کپڑے پہنتیں اور برتاؤ کرتیں

اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ آرچ ڈچز کے طور پر پیدا ہونے والی لڑکی جس کی شادی 14 سال کی عمر میں فرانس اور آسٹریا کے درمیان معاہدہ ورسائلز کو یقینی بنانے کے لیے کر دی گئی تھی تاکہ سات سال کی جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے، بے پناہ اخراجات کیا کرتیں اور قرضوں میں ڈوبی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے ان کا نام مادام خسارہ پڑ گیا تھا۔

یہ بھی سچ ہے کہ 18 سال کی عمر میں ملکہ بننے والی لڑکی ہمیشہ بادشاہوں کو حاصل خدائی حقوق پر یقین رکھتی تھیں چنانچہ ان کے لیے یہ ناقابلِ یقین تھا کہ لوئی 16 اپنی رعایا کی مرضی قبول کریں گے۔

اس وقت فرانسیسی بادشاہت کو خدائی حکم سے چلنے والی بادشاہت تصور کیا جانا بند کیا جا چکا تھا اور خود پر پڑنے والے سیاسی و سماجی دباؤ کے حساب سے خود کو ڈھالنے میں اپنی ناکامی کو بھی اس کے خاتمے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

جیفرسن کہتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو بادشاہ قومی اسمبلی کے ہاتھ میں ایک ثانوی حیثیت میں رہنے پر رضامند ہوجاتے۔

جیفرسن لکھتے ہیں کہ ’ایک معقول، موروثی آئین بنایا جا سکتا تھا جس کے ذریعے ان کا سر بھی باقی رہتا اور انھیں اتنی طاقت حاصل ہوتی کہ وہ اپنے عہدے سے بھرپور فائدہ اٹھاتے مگر یہ اتنے محدود ہوتے کہ ان کا استحصال نہ کیا جا سکتا۔'

کون جانتا ہے؟ کیا پتا ایسا ہوتا اور شاید نہیں بھی۔

میری انتوانیت، فرانس، انقلابِ فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلوئی 16 اور میری انتوانیت کے درمیان شادی درحقیقت ایک جنگ کے خاتمے کے لیے ہوئی تھی مگر بعد میں وہ ایک دوسرے سے پیار کرنے لگے

مگر درحقیقت جیفرسن لکھتے ہیں کہ ’وہ لوگ جنھوں نے بادشاہ کے بارے میں فیصلہ کیا، انھوں نے جان بوجھ کر انھیں مجرم تصور کیا، کئی لوگوں نے یہ سوچا کہ ان کی موجودگی ملک کو دیگر بادشاہوں کے غول کے ساتھ مسلسل تنازعات میں رکھے گی اور یہ کہ اس کے بعد انھیں ایک اور بادشاہ کے خلاف لڑنا پڑے گا چنانچہ اچھا ہی رہے گا کہ ان میں سے ایک کو مرنے دیا جائے۔‘

لہٰذا میری انتوانیت کے ’منفی اثر و رسوخ‘ کے باوجود جیفرسن کے لیے یہ یقین کرنا ممکن تھا کہ کہانی مختلف روپ اختیار کر سکتی تھی۔

شاید شطرنج کی بازی سے اس مہرے کو ہٹا دینے سے پورا کھیل بدل جاتا۔

لیکنکسی ایک شخص پر اتنی ذمہ داری ڈال دینا بھی ایک مشکل کام ہے اگر وہ ایسے دور میں ملکہ تھیں بھی جب تاریخ کی بہت سی قوتیں متحد ہوگئی تھیں۔

اس انقلاب کو قوت کئی دانشوروں کے تصورات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے مل رہی تھی جو سماجی اصلاحات کی بات کرتے اور یہی مطالبات دیگر افراد کے ساتھ بورژوا طبقے کے بھی تھے جو سیاسی قوت سے باہر رکھے جانے پر پیچ و تاب کھا رہے تھے۔

غریب لوگوں میں زمانہ قدیم کے جاگیرداری نظام کے خلاف سخت بے چینی تھی جو امیروں کے مقابلے میں اپنی کم تر حیثیت سے بخوبی واقف تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ سلطنت اس وقت اقتصادی بدحالی کی شکار تھی جس میں اضافہ 1788 میں فصل کی کم پیداوار نے کیا۔

میری انتوانیت، فرانس، انقلابِ فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانقلابِ فرانس میں ملکہ کی فضول خرچیوں کے علاوہ بھی کئی چیزوں نے کردار ادا کیا جنھیں روکا نہیں جا سکتا تھا

ان حالات میں ظاہر ہے کہ ورسائلز کے دربار کی شان و شوکت اور عوام کی اکثریت کی حقیقت سے واضح طور پر اجنبیت نے مزید بگاڑ پیدا کیا اور تمام نگاہیں میری انتوانیت پر ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے مخالفین کو مایوس نہ کیا۔

ان کے کپڑوں پر قیمتی نگینوں کا کام ہوا ہوتا اور ان کی قدر و قیمت کسی ہنرمند کی سالانہ آمدنی کے بیس گنا کے برابر ہوتی اور وہ ہنرمند ان کپڑوں کو آ کر دیکھ بھی سکتا تھا کیونکہ عوام کو ملکہ کے کپڑوں کی الماری دیکھنے کی عام اجازت تھی۔

چنانچہ بادشاہوں اور سیاستدانوں کے لیے ان کی کہانی ایسے ہی سبق آموز قرار نہیں دی جاتی۔

یہ بھی پڑھیے

پہلی گولی

تاہم فرانس کے خزانے لوئی 16 اور میری انتوانیت کے تخت پر براجمان ہونے سے پہلے ہی خالی ہو چکے تھے۔

درحقیقت جس سات سال کی جنگ کے خاتمے کے لیے ان کی شادی ہوئی تھی اسی جنگ نے وسائل کے خاتمے میں کردار ادا کیا تھا۔

یورپ کی مضبوط ترین طاقتوں اور امریکہ میں فرانسیسی و برطانوی کالونیوں کے درمیان جنگوں میں فرانس ہار گیا اور اس نے نہ صرف جانی و مالی نقصان اٹھایا بلکہ کینیڈا اور کیریبیئن خطے کے کئی ممالک بھی اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔

شکست خوردہ، انتقام پر آمادہ اور ان علاقوں میں برطانوی سلطنت کی ممکنہ شکست کے بعد وہاں سے حصہ لینے کی خواہش میں بادشاہ اور ان کے قریب ترین مشیروں نے مکمل طور پر امریکی انقلاب (1763-1783) میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا، باوجود اس کے کہ فرانس کے کنٹرولر جنرل برائے خزانہ این رابرٹ یاک ٹرگوٹ نے انھیں خبردار کر دیا تھا کہ پہلی گولی ہی سلطنت کو دیوالیے پن کی جانب لے جائے گی۔

انقلاب فرانس، امریکہ، برطانیہ، فرانس
،تصویر کا کیپشنجان ٹرمبال کی بنائی گئی یہ پینٹنگ امریکی کانگریس میں آویزاں ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرانس امریکی آزادی کے لیے کتنا اہم تھا۔ جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے اور جنرل بینجامن لنکن اپنے شکست خوردہ برطانوی ہم منصب سے ان کی تلوار طلب کرتے ہیں۔ بائیں جانب سفید پرچم تلے فرانسیسی افسران موجود ہیں

ٹرگوٹ ایک زبردست ماہرِ معیشت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک وسیع النظر شخصیت تھے۔ انھوں نے 1750 میں ہی ’نئی دنیا‘ (امریکہ) میں انقلاب کی پیشگوئی کر دی تھی یعنی جارج واشنگٹن اور بنجامن فرینکلن سے دو دہائیوں قبل۔

اور وہ اس مرتبہ بھی غلط نہیں تھے۔ ویسے تو فرانس کی اس جنگ میں ادا کی گئی قیمت پر آج تک بحث ہوتی ہے مگر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہی چیز سلطنت کو دیوالیے پن کی جانب لے کر گئی اور یہی اقتصادی بدحالی انقلابِ فرانس کی مرکزی وجوہات میں سے ایک تھی۔

اور جیسے جیفرسن نے میری انتوانیت کا ذکر کیا تھا، بالکل اسی طرح جیفرسن کے ایک ساتھی نے لکھا کہ ’اگر لوئی 16 نے 1776 میں ٹرگوٹ کا مشورہ مان لیا ہوتا تو انھوں نے 1793 میں اپنا سر نہ کھویا ہوتا۔‘

اور شاید ملکہ کا سر بھی سلامت ہوتا۔

اور تھامس جیفرسن جنھوں نے ملکہ پر اس قدر سخت انداز میں الزامات عائد کیے، انھوں نے ہی فرانس میں اٹھارہویں صدی کے اواخر میں ہونے والے واقعات میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔