گریگوری راسپوتین: ’سیکس مشین‘ اور روسی ملکہ کے ’عاشق‘ کہلائے جانے والے روسی ’صوفی‘ کو کیسے قتل کیا گیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گریگوری راسپوتین عارفانہ اور صوفیانہ رنگ میں رنگے ایک کسان تھے جنھوں نے اپنی خوبیوں سے روس کے شاہی دربار کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ لیکن آج سے تقریباً سو سال قبل ان کا قتل روسی اشرافیہ کے ہاتھوں ہوا جو ان کے دشمن بن گئے تھے۔
اس قتل کی کہانی بھی کافی عجیب ہے۔
بی بی سی روس سروس سے منسلک کرچینکوف نے راسپوتین کے بہیمانہ قتل کا جائزہ لیا ہے اور اس دوران انھیں معلوم ہوا کہ اس قتل سے منسلک بعض تفصیلات حقیقت سے زیادہ افسانوی ہیں۔
روسی تاریخ میں بہت کم کرداروں کو راسپوتین جتنی شہرت حاصل ہوئی ہے اور ان کا نام ہمیشہ سکینڈلز سے جڑا رہتا ہے۔
انھیں ’سیکس مشین‘ اور زارینہ (روسی شہنشاہ کی اہلیہ کا لقب) کا ’عاشق‘ تک کہا گیا ہے۔ لیکن پہلی بات شاید مبالغہ آرائی ہے اور دوسری محض غلط ہے۔
روس میں انھیں ’مقدس انسان‘ سے لے کر ’رینگنے والا جانور‘ تک کہا گیا ہے۔ ان کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کا استعمال اس وقت کے اصلاح پسند وزیر اعظم پیوٹر سٹولپین نے بھی کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1914 میں جنگ کا آغاز ہونے کے ساتھ ہی چند افراد کے ذہنوں میں یہ فتور موجود تھا کہ ’تخت پر باطل قوتوں کا سایہ‘ ہے۔
روسی شہنشاہ نکولس دوم کی اہلیہ زارینہ الیگزینڈرا کا خیال تھا کہ راسپوتین کے پاس شفایاب کرنے کی طاقتیں موجود ہیں جن سے ان کے تخت کے وارث اور بیماری میں مبتلا بیٹے کی مدد ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA
فرانس اور روس کے اتحاد کے حامی افراد جو جرمنی کو فوجی طور پر شکست دینے کے خواہشمند تھے، وہ راسپوتین پر روس کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے کے شک کا اظہار کرتے تھے۔
سنہ 1914 کے اوائل میں راسپوتین نے ایک اطالوی صحافی سے کہا تھا کہ ’خدا نے چاہا تو جنگ نہیں ہو گی، اور میں اس کے لیے کوشش کروں گا۔‘
کیا واقعی وہ شہزادی ارینا الیگزینڈروانا سے ملنے گئے تھے؟
راسپوتین کے آخری لمحات کے بارے میں ابھی تک تجسس موجود ہے اور اس بات پر بھی کہ وہ سینٹ پیٹرزبرگ میں شہزادہ فیلکس یوسپوف کے محل کیوں گئے تھے؟
قاتلوں میں سے دو کے مطابق شہزادہ یوسوپوف نے 30 دسمبر 1916 کی شب راسپوتین کو اس بہانے بلایا تھا کہ ان کی اہلیہ ارینا ان سے ملنا چاہتی ہیں۔
لیکن ارینا اس وقت کریمیا میں واقع یوسوپوف کی جاگیر پر بنی رہائش گاہ پر موجود تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوسوپوف نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ راسپوتین کو ایک تہ خانے میں لے گئے تھے جہاں انھیں زہر ملا کیک کھلایا گیا۔ لیکن مبینہ طور پر راسپوتن اس سے ہلاک نہیں ہوئے اور وہ بار بار اوپر جا کر ارینا سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔
اس وقت عمارت کے اوپری حصے میں رچنے والی اس سازش میں یوسوپوف کے ساتھی موجود تھے جو جھوٹ موٹ کی پارٹی کرنے کا ڈرامہ کرتے ہوئے گراموفون پر امریکی گانا چلا رہے تھے اور ساتھ ساتھ بہت شور اور اودھم مچا رہے تھے۔
لیکن تاریخ کا یہ ورژن ناممکن لگتا ہے۔
سیاسی سازشیں
راسپوتین ان پڑھ ضرور تھے لیکن وہ بے وقوف ہرگز نہ تھے۔ یوسوپوف بہت زیادہ دولت مند تھے اور ایرینا شاہی خاندان کی ایک رکن تھیں۔ لہذا راسپوتین نے شاید ہی یہ سوچا ہو گا کہ وہ اتنی آسانی سے بہک جائیں گی۔
راسپوتین کی بیٹی ماریہ کے مطابق روسی وزیر داخلہ الیگزینڈر پروٹوپوف نے راسپوتن کو متنبہ کیا تھا کہ ان کو مارنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انھوں نے راسپوتن کو مشورہ دیا کہ کچھ دن لوگوں سے ملنے ملانے سے گریز کریں، لیکن راسپوتین نے انھیں بتایا کہ ’بہت دیر ہو چکی ہے۔‘
لہذا یہ ابھی تک یہ معمہ حل طلب ہے کہ انھوں نے یوسوپوف سے کیوں ملاقات کی۔ وہ محض کیک کھانے اور موسیقی کے لیے وہاں نہیں گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہyusupov palace
ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ زارینہ الیگزینڈرا اور پروٹوپوف پارلیمنٹ یعنی ڈوما کو تحلیل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ ڈوما ایک ہنگامی صورتحال متعارف کروا کے امن کے لیے کوششیں کرے۔
یوسوپوف کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ راسپوتین کو سلطنت کے حلیفوں کے ساتھ ملاقات کے وعدہ کا لالچ دے کر اپنے پاس بلا سکیں۔
اس وقت جو کچھ ہوا اس بارے میں باقی قاتلوں کے بیانات سے ایسا لگتا ہے آپ کسی ڈراؤنی فلم کا سکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔
مبینہ طور پر جب زہر کھانے کے باوجود راسپوتین ہلاک نہیں ہوئے تو یوسوپوف کو فائرنگ کرنا پڑی، لیکن راسپوتین ایک دیو کی طرح دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ سر میں ماری جانے والی گولیاں بھی راسپوتین کو روکنے میں ناکام رہیں اور وہ یوسوپوف کے گھر کے صحن میں پہنچ گئے۔
مبینہ طور پر پورشکیوچ نے راسپوتین کی کمر میں چار گولیاں ماریں، جس کے بعد وہ گر گئے۔
تو، زہر آلود کیک کا کیا بنا؟ جو لوگ راسپوتین کو اچھی طرح جانتے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ میٹھی چیزیں کھانے سے انکار کر دیتے تھے۔
راسپوتین کا ماننا تھا کہ میٹھی اشیا ان کی خصوصی صلاحیتوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
یکے بعد دیگرے چار گولیوں کی آوازیں سننے کے فوراً بعد گارڈز نے قتل کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دی تھی۔
ایک پیتھالوجسٹ نے ان کی موت کی وجہ پیٹ میں گولی لگنے کو قرار دیا تھا، اس گولی سے راسپوتین کا بہت خون ضائع ہوا تھا۔
انھیں ڈبویا نہیں گیا
اس وقت راسپوتین نے جو شرٹ پہن رکھی تھی، اس کے بارے میں متضاد شہادتیں موجود تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ انھیں فرکوٹ اتارنے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا ہو۔
قاتلوں نے شاید ان کو اندر قدم رکھتے ہی مار ڈالا ہو۔۔۔ راسپوتین کو انتہائی قریب سے گولیاں ماری گئی ہوں گی۔ اس سازش میں شہزادہ یوسوپوف کے ساتھ پانچ حکومتی افراد اور شامل تھے، حالانکہ کچھ لوگوں کا قیاس ہے کہ اس سازش میں اس سے بھی زیادہ افراد شریک تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک اور افسانوی کہانی کے مطابق جب راسپوتین کو مارنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو قاتلوں کو انھیں برفیلے پانی میں ڈبونا پڑا تھا۔
لیکن پوسٹ مارٹم میں کہا گیا تھا: ’ڈوبنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ راسپوتین کو جب پانی میں پھینکا گیا، وہ اس سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔‘
’میرے بغیر سب کچھ تباہ ہوجائے گا‘
سنہ 1917 میں بالشویک انقلاب کے بعد یوسوپوفت پیرس جلاوطن ہو گئے اور 80 سال کی عمر تک زندہ رہے۔
پُوریشکیوچ کو سنہ 1918 میں پیٹروگراڈ میں گرفتار کیا گیا، لیکن پھر انھیں خفیہ پولیس چیف فیلکس ڈزرزِنسکی کے حکم پر رہا کر دیا گیا تھا۔ سنہ 1920 میں روسی خانہ جنگی کے دوران ٹائفس کے باعث ان کا انتقال ہو گیا۔
بالشویک انقلاب کے دوران ہونے والے تشدد اور انتشار نے راسپوتین کی پیش گوئی کو سچ کر دکھایا: ’میرے بغیر سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔‘
انھوں نے نیکولس دوم کو لکھے گئے خط میں اپنے ہی قتل کی بھی پیش گوئی کی تھی۔ اگر اشرافیہ نے ایسا کیا تو بادشاہت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
کمیونسٹ انقلابیوں نے سنہ 1918 میں شاہی خاندان کے تمام افراد کو قتل کر دیا تھا۔










