فاطمہ آفندی: ’فلموں میں سکِن دکھانی پڑتی ہے لیکن میری کچھ حدود ہیں‘

fatima
    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

نجی چینل اے آر وائی سے نشر کیا جانے والا ڈرامہ سیریل ’بیٹیاں‘ کی کہانی ایک باپ اور اُن کی پانچ بیٹیوں کی ہے جو اپنی بچیوں کی تعلیم کے ساتھ اُن کی اچھے گھروں میں شادی کے خواہش مند ہیں۔

البتہ اُنھیں اُن کی ماں اور طلاق یافتہ بہن کی دقیانوسی باتوں اور لڑائی جھگڑوں کے ساتھ بیٹیوں کے سسرال والوں کی پیدا کردہ مشکلات سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔

یوں تو اس ڈرامہ کی کہانی ٹی وی چینلز پر نظر آنے والے دیگر ڈراموں سے مختلف نہیں لیکن ناظرین میں اس ڈرامہ کو خاصی مقبولیت ملی ہے۔

اس کی وجہ شاید باپ بیٹیوں کے درمیان رشتہ کو خوبصورت اور ہلکے پھلکے انداز سے پیش کرنا ہے۔

’بیٹیاں‘ میں والد کا کردار اداکار محمد احمد نے جبکہ بیٹیوں کے کردار فاطمہ آفندی، ماہِ نور حیدر، قدسیہ علی، تانیہ حُسین اور ایمان علی نے نبھائِے ہیں۔ دیگر اداکاروں میں جویریا سعود، فہد شیخ اور اسامہ طاہر شامل ہیں۔

’ہم کسی پتھر کے پیچھے چھپ کر نہیں کہہ سکتے کہ معاشرہ بدل گیا ہے‘

اداکارہ فاطمہ آفندی نے ڈرامہ سیریل ’بیٹیاں‘ میں بڑی بیٹی فضا کا کردار نبھایا ہے جو تمام بہنوں میں سب سے سمجھدار اور معاملہ فہم ہوتی ہے۔

اس ڈرامہ کی ناظرین میں مقبولیت کی وجوہات پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فاطمہ نے کہا کہ ’ہم کچھ بھی کہہ لیں لیکن معاشرے میں ایسا ہے کہ بہت سے بیٹیوں کے ماں باپ کو آج تک لوگ سناتے ہیں۔‘

’ہم کسی پتھر کے پیچھے چھپ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا معاشرہ بدل گیا ہے۔ یہ چیزیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں تبھی لوگ ’بیٹیاں‘ ڈرامے میں اپنا تعلق بنا پا رہے ہیں۔‘

فاطمہ آفندی کہتی ہیں کہ وہ نہیں مانتیں کہ بیٹیاں ایک عام سی کہانی ہے جس میں صرف بیٹیوں کی شادیاں ایک مسئلہ ہے۔

’اس ڈرامے میں میں ایک مظلوم لڑکی نہیں ہوں۔ جہاں مجھے دانش کی اصلیت کا علم ہوتا ہے کہ وہ مجھے پراپرٹی کے لیے استعمال کر رہا ہے تو میں کہتی ہوں کہ نہیں مجھے خلع چاہیے۔‘

’حالانکہ اس وقت چار بہنیں گھر پر ہیں جن کی شادی نہیں ہوئی۔ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں جن کو ہم نے کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ گھسے پٹے انداز سے نہ ہوں۔‘

فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ بیٹیاں لوگوں کو پسند آ رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ بہنوں اور باپ بیٹیوں کا آپس میں ایک مضبوط رشتہ دکھایا گیا ہے۔ ان کےدرمیان جو چھوٹے چھوٹے لمحات ہیں وہ لوگوں کو کافی پسند آ رہے ہیں۔‘

اپنے کردار کے بارے میں فاطمہ کا کہنا ہے کہ انھیں جو اپنے کردار کے حوالے سے رائے سننے کو مل رہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ لوگوں کو وہ پسند آیا ہے۔

drama

،تصویر کا ذریعہCourtesy ARY Digital

’فاطمہ کافی تو لے آؤ‘

ڈرامہ سیریل بیٹیاں میں اداکار فہد شیخ نے فاطمہ آفندی کے ساتھ اُن کے کردار فضا کے شوہر دانش کا کردار نبھایا ہے۔ اِن دونوں کے درمیان چائے اور کافی کے متعدد ڈائیلاگز شامل ہیں۔

فاطمہ کا کہنا ہے کہ لکھاری نے چائے کافی کا متعدد بار ذکر کیا ہے تو ہم اُسے امپروائز کر کے سینز میں شامل کر دیا ہے۔

فاطمہ نے مُسکراتے ہوئے بتایا کہ ’فہد نے تو میری چڑ بنا لی اور وہ سین کٹ ہونے کے بعد بھی کہتے تھے کہ فاطمہ ایک کافی لے آؤ۔‘

’میں کہتی تھی کہ کیا بھئی کِدھرکافی اور کیوں! میرے اندر کی ایک فیمنسٹ جاگ جاتی تھی کہ خود جا کر کافی بناؤ۔‘

فاطمہ کے مطابق ہمارے اکثر ڈراموں میں یہ ہی ہوتا ہے کہ میں کافی بنا لوں میں چائے بنا لوں لیکن وہ اکثر سینز میں اس کو تبدیل کر دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ میں آپ کے لیے ملک شیک بنا لیتی ہوں۔

ان مناظر میں چائے کافی کا ذکر ڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو سین سے نکلنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو چاہیے ہوتا ہے۔

’ہاں بھائی میں بھی چالیس لوگوں کو مارسکتا ہوں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فاطمہ کا خیال ہے کہ ڈرامہ حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا نہیں ہوتا ہے کہ ہم اس سے میسیج لےکر اُس پراپنی زندگی میں عمل کرنے لگیں۔‘

’حقیقی زندگی میں آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ کون انسان صحیح ہو جائےگا اور کون نہیں ہو گا۔ ہمیں ایک ڈرامہ لے کر چلنا ہوتا ہے، وہ ایک کہانی ہوتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ کوئی میسیج دینے کی بات کریں تو فلم میں ایک بندہ چالیس لوگوں کو مار رہا ہوتا ہے۔ وہ حقیقت نہیں ہوتی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی سڑک پر نکل جائے کہ ہاں بھائی میں بھی چالیس لوگوں کو مار سکتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بیٹیاں میں فضا نے سٹینڈ بھی لیا تھا۔ پھر وہ دانش کی حادثے کے وقت واپس بھی آئی تھی اور جب اس کو لگا کہ دانش شاید نہیں بدلا تو اُس نے پھر سے کہا کہ آپ کو ضرورت نہیں تھی مجھے روکنے کی۔

’آپ کہتے تو میں چلی جاتی اور میں جا سکتی ہوں۔‘

بقول فاطمہ کے ’نکاح میں ایک طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کا خیال کرتا ہے وہ اس خیال میں واپس آئی تھی لیکن پھر اُس کو دانش نے روکا۔ تو اپنے لیے سٹینڈ لینا ضروری ہے ’بیٹیاں‘ میں بھی یہ میسیج دیا گیا ہے۔‘

set

،تصویر کا ذریعہcourtesy Ary Digital

’سیٹ پر گھر والا ماحول تھا‘

ساتھی اداکارؤں کے بارے میں فاطمہ کا کہنا تھا کہ آن سکرین تو انھیں اداکارہ قدسیہ علی کا کردار ہانیہ بہت اچھا لگا ہے۔

’ہانیہ کا جو کردار ہے وہ بہت منھ پھٹ اور بہت مزے کا ہے۔ اُس نے اس کردار کو نبھایا بھی بہت اچھا ہے۔اس کے علاوہ آف سکرین سب بہنوں کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایسے نہیں لگتا تھا کہ ہم کام پر جا رہے ہیں۔ جیسے ہم ویڈیوز بھی شوٹ کرتے تھے، مستی بھی کرتے تھے یعنی سیٹ پر گھر والا ماحول تھا۔‘

’سات مہینے تک ہم نے اس ڈرامہ کو شوٹ کیا اور جب یہ ڈرامہ ختم ہو رہا تھا تو سب بہت اداس ہو رہے تھے کہ اب کیا ہو گا۔‘

فاطمہ کے مطابق شوٹنگ کے دوران اداکار اسامہ طاہر کو چوٹ بھی لگی تھی۔ انھوں نے ایک سین میں گھر میں کُودنا تھا اور انھوں نے کافی اُونچائی سے چھلانگ لگا دی تھی۔

فاطمہ آفندی نے اپنے کریئر کے آغاز میں اداکار کنور ارسلان سے شادی کر لی تھی، اب ان کے دو بچے بھی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اپنے کریئر میں فیملی کے لیے بہت اچھے پراجیکٹس چھوڑے ہیں۔ البتہ اب اُن کے بچے تھوڑے بڑے ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی پراجیکٹ کریں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ بچوں کو زیادہ وقت کے بجائے معیاری وقت دیتی ہیں۔

ماؤں پر بچوں کی چوبیس گھنٹے دیکھ بھال اور پرورش کی ذمہ داری پر ان کا مؤقف ہے کہ ’یہ بہت مشکل کام ہے۔سارا دن بچوں اور گھر کو دیکھنا۔ کبھی کبھار آپ چڑ جاتے ہو۔

’آپ بچوں کو بھی کہتے ہو کہ کیا ہے ہٹو یہاں سے۔ لیکن ہم چونکہ کام کر رہے ہوتے ہیں تو اگر ہمارے پاس بچے آ کر کوئی ایسی حرکت (تنگ) کر رہے ہوتے ہیں تو ہم اُنھیں اِس طرح سے نہیں بولتے۔

’ہم میں ایک ’مام گِلٹ‘ ہوتا ہے کہ یار ہم ابھی کام سے آئے ہیں اور بچے ہمارے بغیر تھے۔ اب مجھے نہیں لگتا کہ میں کچھ گنوا رہی ہوں۔‘

drama

،تصویر کا ذریعہCourtesy ARY Digital

’فلم میں سکن کو دِکھانا پڑتا ہے‘

میڈیا میں ایسی خبریں بھی آئیں کہ فاطمہ آفندی کو بالی ووڈ کے ڈائریکٹر اور رائیٹر انیس بزمی کی جانب سے فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ فاطمہ نے اس کی تصدیق کی کہ انھیں کافی سالوں پہلے آفر ہوئی تھی لیکن انھوں نے معذرت کر لی تھی۔

فلم میں کام نہ کرنے کی وجوہات کے سوال پرانھوں نے کہا کہ ’میری کچھ حدود ہیں۔ وہ فیملی کی طرف سے نہیں بلکہ میں نے خود اپنی حدود کا تعین کیا ہے۔‘

’یہی حدود میں نے اپنے لیے ڈراموں میں بھی لاگو کی ہوئی ہیں۔ فلم بالکل ایک الگ چیز ہے۔ اس کی ایک الگ دنیا ہے۔اس میں آپ کو اپنی سکن کو دکھانا ہوتا ہے اور ایسے سینز کرنے ہیں۔ تو وہ میری حدود ہیں اور میں جو کام کر رہی ہوں اس میں خوش ہوں۔‘

فاطمہ آفندی کی والدہ فوزیہ مشتاق پی ٹی وی پر نیوز کاسٹر اور ڈراموں میں اداکارہ رہی ہیں۔ فاطمہ بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ کو تشویش یہ تھی کہ فاطمہ بہت شرمیلی ہیں۔

’میں سکول میں بات بھی نہیں کر پاتی تھی لیکن گھر میں شیر تھی۔ لہٰذا انھوں نے مجھے میڈیا میں کمرشلز کرانا شروع کر دیے۔‘

’میں چھ سات سال کی تھی جب میں نے اپنا پہلا کمرشل کیا۔ میں باقاعدہ روتی تھی کیونکہ والدہ مجھے ببل گم کے کمرشلز کے لیے دو پونی بنا کر لے جاتی تھیں اور میں کہتی تھی کہ مجھے نہیں کرنا، یہ سب میرا مذاق اڑائیں گے سکول میں۔‘

فاطمہ کے مطابق والدہ نے یہ کام اس وجہ سے شروع کروایا تھا کہ اُن میں اعتماد آئے۔

انھوں نے کمرشلز کے ساتھ سکول ہی کے زمانے میں ڈرامے کیے اور پھر پڑھائی کی وجہ سے تھوڑا بریک لیا۔

کمرشلز اس لیے زیادہ کیے کیونکہ اُن میں وقت کم لگتا تھا۔ پھر اُنھیں اداکاری کا شوق ہو گیا لیکن حقیقتاً والدہ ہی اٌنھیں اس شعبہ میں لائی تھیں۔