کیسی تیری خود غرضی: شمشیر اینٹی ہیرو ہے مگر ہر دوسرا دیکھنے والا اسے پسند کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAry digital
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
شمشیر کو پتہ چل گیا ہے کہ مہک کہاں ہے۔۔۔ رکشے کے پاس بیگ پھینک کر بھاگتی مہک اور پھر اس کو کمرے میں دھمکی دیتا شمشیر کہ اب تم کہیں غائب ہوئی تو میں تمھیں جان سے مار دوں گا!
یہ ہے پاکستانی ڈراموں کی فہرست میں ٹاپ پر موجود ڈرامہ سیرئیل `کیسی تیری خود غرضی` کی آنے والی قسط کا پرومو جس کو دیکھنے والے بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ ایک ہفتے کا انتظار بہت زیادہ ہے آپ ہفتے میں ایک سے زیادہ قسطیں دکھایا کریں۔
سوا کروڑ سے زیادہ ناظرین اس قسط کو دو روز میں دیکھ چکے ہیں۔
ڈرامے کی کہانی شمشیر (دانش تیمور) کی مہک (در افشاں) سے یک طرفہ محبت پر مبنی ہے جس سے مہک اور اس کا خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔
ڈرامہ اپنی نصف اقساط سے اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
ٹویٹر صارف عمارہ نے لکھا `دانش تیمور نے کمال کمال کمال ہی کر دیا ہے ڈرامہ سیریل `کیسی تیری خُود غرضی‘ مجھے یہ ڈرامہ بہت پسند ہے۔۔۔‘
انسٹا گرام پر ہر دوسرا صارف شمشیر کی اداکاری کا دیوانہ دکھائی دے رہا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں ڈرامے کے مصنف رادین شاہ نے کہا کہ `ری ایکشن تو بہت اچھا آ رہا ہے خوشی ہو رہی ہے محنت تو سب کرتے ہیں لیکن جب ڈرامے کو دیکھنے کے بعد لوگ تعریف کرتے ہیں تو اچھا لگتا ہے۔ اس ڈرامے کو توقع سے زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہم نے ان سے پوچھا کہ کس سے متاثر ہو کر آپ نے سٹوری لکھی بنیادی خیال یا تھا۔ تو ان کا جواب تھا `یہ کہانی فکشن پر مبنی ہے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن جو کردار ہیں انھیں ہم نے حقیقت سے قریب تر ہی رکھا گیا ہے۔ ’ایسی کہانی نہیں لکھی جو ہماری سوسائٹی سے تعلق نہ رکھتی ہو لیکن کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں آپ سوچتے ہیں اور یہی سوچ تھی کہ زندگی سے زیادہ بڑھ کر کوئی کردار ہو جو لکھا جائے۔‘ رادین کا جو بینکنگ کے شعبے سے منسلک ہیں پہلا ڈرامہ سنہ 2018 میں نشر ہوا جس کا نام نباہ تھا۔ کیسی تیری سے پہلے ان کا ڈرامہ آخر کب تک ریلیز ہوا تھا وہ بھی جنسی ہراسانی سے متعلق تھا جس میں ایک لڑکی کو بلآخر خودکشی پر مجبور ہو جاتی ہے۔
ان کا یہ ڈرامہ بھی ہراسانی سے متعلق ہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہArydigital
رادین شاہ کہتے ہیں کہ اس ڈرامے کے سکرپٹ کے بعد پروڈکشن ڈائریکشن اور کاسٹنگ میں زیادہ تبدیلی نہیں کی گئی ہاں جو رائے ہوتی ہے اسے ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ `ہم سب میں انڈر سٹینڈ نگ تھی۔ کہیں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کرنی پڑی۔‘
کہانی میں جہاں ڈرامے پر ایک تنقید یہ بھی کی گئی کہ اس میں تشدد کو رومینٹسائز کیا گیا ہے۔
جیسے اس سین میں جہاں شمشیر اور مہک کا فون پر مکالمہ ہوتا ہے۔
`شمشیر، پھر سے کہو
مہک: میرے بابا پولیس کے پاس ہیں۔ آپ نے گرفتار کروایا ہے؟ ہارٹ پیشنٹ ہیں، ان کے پاس ان کی دوائیاں بھی نہیں ہیں۔ آپ پلیز کسی طرح انھیں چھڑوا دیں۔
شمشیر: نہیں یہ نہیں۔ جو تم پہلے کہہ رہی تھی۔۔۔ ارے بابا نہیں میرا نام لو۔‘

،تصویر کا ذریعہArydigital
اس پر باپ کی جدائی میں غم میں نڈھال مہک بار بار اس لڑکے کا نام لیتی ہے اور بیک گراؤنڈ میں رومانوی میوزک چلتا ہے۔ یوں شمیشر اپنے چہرے پر 'شیطانی' مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے 'پھر سے کہو۔'
پھر شمشیر کہتا ہے کہ اگر تم نے میرے نام کے علاوہ اس وقت کچھ بھی بولا تو تمھارا باپ ساری عمر جیل میں سڑتا رہے گا۔ میرا نام لو۔'
تو یوں ایک طرف روتی ہوئی 'شمشیر' کہتی رہتی ہے اور دوسری طرف وہ 'ایک بار پھر سے' کہتا رہتا ہے۔
اس سین کے دوران میوزک رومانوی ہی رہتا ہے اور اس لڑکی کو کہا جاتا ہے کہ 'تھوڑا پیار سے (میرا نام لو)۔'
آگے چل کر پولیس اہلکار خاتون کے والد سے کہتا ہے کہ 'آپ کی لاٹری لگ گئی ہے۔ چھوٹے صاحب کا آپ کی لڑکی پر دل آگیا ہے۔'
بعد کی اقساط میں جہاں مہک اپنے خاندان کو مزید مصیبتوں سے بچانے کے لیے شمشیر سے شادی کے لیے راضی ہوتی ہے وہیں شمشیر کے والد کا کردار ادا کرنے والے اداکار نعمان اعجاز ایک اور ڈرامائی صورتحال پیدا کر کے مہک کی موت کا سین کرواتے ہیں اور یوں وہ ایک بار پھر شمشیر کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
لیکن آئندہ آنے والی قسط میں ایک بار پھر شمشیر کو مہک کا پتہ چل جائے گا اور ممکنہ طور پر اس بار بھی وہ تشدد کا شکار ہو گی۔
کچھ صارفین اس قسم کے سینز اور سکرپٹ پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ تو تشدد کو بڑھاوا دینے والی بات ہے۔
صارف عاصمہ اعظم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنے ردعمل میں لکھا `ہمارے چینل ریٹنگ کے نام پر کیسے کیس پیچیدہ اور ظالمانہ رویوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ڈرامہ 'کیسی تیری خود غرضی' میں ہیرو انتہائی درجے تک ہراساں کرتا دکھائی دے رہا ہے اور ڈرامے کی ٹیم ریٹنگ کے چکر میں اس بات سے عاری ہے کہ یہی رویے معاشرے میں قتل و غارت اور تشدد کا باعث بنتے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
عائشہ نامی ٹویٹر ہینڈل سے لکھا گیا `کیسی تیری خود غرضی ۔ ۔۔اے آر وائے کا ڈرامہ: نعمان اعجاز اور عتیقہ اوڈھو جیسے عمدہ اداکاروں کو ایسی کہانیاں جس میں صرف بدمعاشی دکھائی جائے نہیں کرنے چاہیئں۔ جو مقام نعمان اعجاز اور عتیقہ حاصل کر چکے ہیں، اسے مت کھویئں۔‘
ڈرامے میں والد کا کردار ادا کرنے والے اداکار شہود علوی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ معاشرے میں تہذیب کا زوال ہی اس قسم کے کرداروں کو دماغ میں جگہ دیتا ہے۔
وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جو ہم دکھا رہے ہیں وہ ظلم ہی ہے اور جو ہم دکھا رہے ہیں وہ لوگوں پر کچھ منفی اثر ڈالے گا لیکن چونکہ ڈرامے کا تعلق معاشرے کی کہانی سے ہی ہوتا ہے۔ اردگرد کی کہانیوں سے ہی ڈرامہ بنتا ہے۔ہمارے ڈرامے میں موجود تہذیب کا زوال ہے۔ اسی زوال کی بنیاد پر ایسے کردار لوگوں کے دماغ میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔‘
`کوئی بھی معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ کسی کو جذباتی یا جنسی طور پر تکلیف دیں۔‘
شہود علوی کہتے ہیں کہ معاشرے کے لیے اس قسم کے مسائل کو اٹھانا اور لے کر چلنا مناسب نہیں لیکن معاشرے کو درست کرنے کی ضرورت ہے سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، صرف ڈرامے کی بات کریں میں جانتا ہوں کہ یہ اچھا آئیڈیا نہیں ہے لیکن ہم اس میں کوشش کرتے ہیں کہ جب ہم اختتام کی طرف جائیں تو لوگوں کو یہ پیغام ضرور دیں جو میں نے دیکھا وہ اچھا نہیں اور مجھے خود کو اور اپنے بچوں کو اس سے دور رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
شہود علوی کی یہ بات کہ یہ منفی اثرات مرتب کرے گا کا احساس ڈرامے کی کاسٹ میں شامل بڑے ناموں حتیٰ کہ مہک سے نام سے بھی زیادہ شمشیر کی تعریف دیکھ ہوتا ہے۔
جیسے محمد احمد چٹھہ سمیت بہت سے صارفین ایسے بھی ہیں جنھوں نے کہا کہ ڈرامہ تو کچھ سپیشل نہیں مگر شمشیر کی ایکٹنگ کمال کی ہے۔
تاہم صارفین ڈرامے کے موضوع یعنی پیغام پر کم بات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم رائٹر رادین کا کہتے ہیں کہ یہی ایک میڈیم ہے اور آپ کو اینڈ دکھانے کے لیے سٹارٹ تو لینا ہو گا۔
ڈرامے کے رائٹر رادین شاہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں کہ وہ منفی ردعمل کی توقع نہیں کر رہے تھے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ جو معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے اسے دکھانے کا میڈیم یہی ہے۔
`ہراساں کرنے کا جواز نہیں دیا جا سکتا لیکن کیا ایسا نہی ہوتا ہماری سوسائٹی میں اور اگر ہے تو کیا آپ اس کے بارے میں آنکھ بند کر کے بیٹھ جائیں گے ہمارے پاس ایک میڈیم ایک چیز کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں پہلے اس کو دکھانا پڑے گا یا تو آپ دکھائی ہی نہیں کسی چیز کا اینڈ دکھانے کے لیے سٹارٹ تو دکھانا ہو گا، اگر کوئی لڑکا دیکھتا ہے اور خود کو ہیرو سمجھتا ہے تو وہ ہیرو نہیں ہے۔ اس کو آگے جا کر ڈرامے میں خود بھی تکلیف ہو گی جو بھی شمشیر نے کیا اس کی تائیڈ نہیں کی جا سکتی۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ دکھایا ہے کہ اس صورتحال سے ایک لڑکی اور اس کے خاندان کو کتنی تکلیف ہوئی۔‘
لیکن شمشیر تو ولن کے بجائے ہیرو دکھائی دیتا ہے۔
رادین شاہ کہتے ہیں کہ `وہ ہیرو نہیں ولن نہیں لیکن اینٹی ہیرو ہے وہ کہانی کا مرکزی کردار ہے اور برا انسان ہے لیکن لوگوں کو اچھا لگ رہا ہے، مگر کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ جو کر رہا ہے صحیح کر رہا ہے۔ لوگ اس سے کنیکٹ ہو رہے ہیں اور وہ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ آگے کیا کرے گا اسے بنایا اینٹی ہیرو بنے گا۔
'ہمیں یہ تو تھا کہ یہ کیریکٹر ہٹ ہو گا لیکن ایمانداری سے کہوں تو مجھے اس قدر اسے پسند کیے جانے کی توقع نہیں تھی‘۔
رائٹر نے کہانی کی اینڈنگ کیا کی ہے کیا شمشیر سدھر کر معافی مانگ لے گا اور پھر سے مہک سے شادی کی تیاری کرے گا یا پھر تشدد اور ہراسانی کے حوالے سے ملک میں موجود قانون کے مطابق سزا پائے گا اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا ہاں ڈرامہ دیکھنے والے میں سے جہاں مہک کی حفاظت کی دعائیں کر رہے ہیں وہیں کچھ صارفین کچھ جذباتی ہو کر رائٹر کو پیغامات بھی لکھ رہے ہیں۔
جیسے اقرا افضل نے لکھا `اگر کیسی تیری خود غرضی کا اینڈ بھی سلطان جیسا ہوا نا تو تاریخ کبھی راٸٹر کو معاف نہیں کرے گی، سیدھی بات یہ کہ دانش کو مرنا نہیں چاہیے، ایک بگڑا ہوا امیر زادہ ُسدھر کے جی بھی تو سکتا ہے آخر مر ہی کیوں جاتا ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2









