ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے سے کیا خطرات جنم لے سکتے ہیں؟

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images / Maxar Technologies.

،تصویر کا کیپشنانٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے مطابق ایران کے نطنز شہر میں قائم مرکز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے
    • مصنف, ربیکا مورالے، ایلسن فرانس اور وکٹوریا گِل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز سائنس ٹیم

امریکہ نے ایران اور اسرائیل کے مابین لڑائی کے دوران ایران کے تین جوہری مراکز کو نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انھیں تباہ کر دیا گیا ہے۔

امریکی اہداف میں سے ایک صوبہ قم کے دور دراز پہاڑی علاقے میں قائم یورینیم کی افزودگی کا مرکز فردو تھا جو ایران کے جوہری عزائم کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی صدر کے مطابق نطنز اور اصفہان میں بھی جوہری تنصیبات امریکی حملوں کا نشانہ بنی ہیں۔

اگرچہ امریکی صدر امریکی حملوں کو مکمل کامیاب قرار دیتے ہوئے دعوے کر رہے ہیں کہ فردو کی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ تینوں جوہری تنصیبات پر امریکی حملے سے کیا نقصان ہوا ہے۔

جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے آئی اے ای اے ایران اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے جوہری مراکز پر حملوں کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دے چکی ہے۔

پیر کو اس کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کا کہنا تھا کہ فوجی کشیدگی ’تابکاری اخراج کے امکان کو بڑھا دے گی جس کے سبب لوگوں اور ماحول کو نقصان ہو سکتا ہے۔‘

تنظیم کی جانب سے امریکی حملے کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حملے کے بعد ایران میں جوہری تنصیبات کے گرد 'تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی'۔

تاہم ادارے کا مزید کہنا ہے کہ 'آئی اے ای اے کی جانب سے اس بارے میں مزید تجزیہ تب کیا جائے گا جب صورتحال کے حوالے سے مزید معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔'

تو سوال یہ ہے کہ فردو پر حملے اور اس کی تباہی سے کیا خطرات جنم لے سکتے ہیں؟

توانائی کی شدت کا بڑھنا

جن مقامات پر یورینیم افزودہ کی جاتی ہے وہاں آئیسوٹوپ یا یورینیم کی وافر مقدار محفوظ کی جاتی ہے۔

یونیورسٹی آف سرے اور برطانیہ کی نیشنل فزیکل لیبارٹری سے منسلک پروفیسر پیڈی ریگن کہتے ہیں کہ ’جب آپ یورینیم زمین میں سے نکالتے ہیں تو اس کی دو اشکال سامنے آتی ہیں 99 اعشاریہ تین فیصد یورینیم 238 اور صفر اعشاریہ سات فیصد یورینیم 235 اور نیوکلیئر ری ایکٹر چلانے کے لیے آپ کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

پروفیسر ریگن کہتے ہیں کہ جوہری افزودگی کے بنیادی معنی یورینیم 235 کی مقدار کو بڑھانا ہے۔ اس کام کے لیے گیس کی شکل میں یورینیم لی جاتی ہے اور اسے سینٹری فیوجز نامی مشین میں گھمایا جاتا ہے۔

چونکہ یورینیم 238 یورینیم 235 کی ضروری مقدار کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے اس سبب مشین میں گھومتے وقت دونوں علیحدہ ہو جاتی ہیں۔ یورینیم افزودگی کو تیز سے تیز تر کرنے کے لیے یہی عمل بار بار دُہرایا جاتا ہے۔

ایران
،تصویر کا کیپشنفوردو تک پہنچنے کے لیے طاقتور ’بنکر شکن بم‘ کی ضرورت ہوگی جو صرف امریکہ کے پاس موجود ہے

جوہری پاور سٹیشنز کو عمومی طور پر تین سے پانچ فیصد افزودہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ایک کنٹرولڈ نیوکلیئر ری ایکشن پیدا ہو سکے جس کے نتیجے میں توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔

لیکن جب مقصد جوہری ہتھیار بنانا ہو اس وقت آپ کو یورینیم 235 کی کم سے کم 90 فیصد مقدار درکار ہوتی ہے۔

یعنی یورینیم جتنی زیادہ افزودہ ہوگی ایٹمز کے علیحدہ ہونے سے اس کی توانائی میں اتنی ہی زیادہ شدت ہوگی۔

آئی اے ای اے کہنا ہے کہ ایران کے پاس موجود یورینیم کی سطح 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی سطح کی طرف گامزن ہے۔

افزودہ شدہ یورینیم کے ذخیرہ پر راکٹ فائر کرنے سے کوئی ایسا ’جوہری واقعہ‘ پیش نہیں آئے گا جیسا فوکوشیما یا چرنوبل کے پلانٹس میں دیکھنے میں آیا تھا۔

یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ سے منسلک پروفیسر جِم سمتھ کہتے ہیں کہ ’افزودہ شدہ یورینیم غیر افزودہ یورینیم کے مقابلے میں تین گُنا زیادہ ریڈیو ایکٹو ہوتی ہے۔ لیکن یہ دونوں ہی زیادہ ریڈیو ایکٹو نہیں ہوتیں۔ اس سے کوئی بڑا ماحولیاتی بحران نہیں پیدا ہوگا۔‘

’ہمیں زیادہ خدشات فیژن پروڈکٹس کی ہے، وہ چیزیں جو ری ایکٹر یا بم میں جانے کے بعد یورینیم سے علیحدہ ہوتی ہیں۔ جیسے کہ سیزیئم، ریڈیو ایکٹو سٹرونٹیئم، ریڈیو ایکٹو آئیوڈین۔ یہ تمام اجزا ماحولیاتی آلودگی کی وجہ بن سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ چونکہ ابھی ایران میں یورینیم افزودہ کیا جانے والے مقامات پر کوئی جوہری ری ایکشن نہیں ہو رہا ہے اس لیے کوئی دھماکہ یا بم ان ریڈیو ایکٹو فیژن پروڈکٹس کو ایکٹو نہیں کرے گا کیونکہ وہ ابھی وہاں موجود ہی نہیں ہیں۔

اس کے برعکس ایک دھماکے کے ذریعے یورینیم کو منتشر کیا جا سکتا ہے۔

ایران
،تصویر کا کیپشننطنز مرکز پر حملے کے بعد آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ اس مقام انھیں پر ریڈیو ایکٹو آلودگی ملی ہے

مقامی خطرہ

نطنز مرکز پر حملے کے بعد آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ اس مقام انھیں پر ریڈیو ایکٹو آلودگی ملی ہے لیکن اس مقام سے باہر ریڈیو ایکٹویٹی کی سطح پہلے جیسی ہی ہے۔

یونیورسٹی آف برسٹل سے منسلک پروفیسر کلیئر کورک ہل کہتی ہیں کہ ’یورینیم کی ریڈی ایشن زیادہ دور تک نہیں جاتی۔‘

لیکن ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس مقام سے قریب رہتے ہیں ان کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔