امریکی طیاروں کی ’غیر معمولی نقل و حرکت‘: بی ٹو بمباروں کی پہیلی اور ’سٹریٹیجک ابہام کی پالیسی‘

امریکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگزشتہ تین دن کے دوران کم از کم 30 امریکی عسکری جہاز امریکی اڈوں سے یورپ پہنچے ہیں
    • مصنف, میٹ مرفی، تھامس سپینسر اور ایلکس مرے
    • عہدہ, بی بی سی ویریفائی

بی بی سی ویریفائی کی جانب سے فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا (جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار) کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تین دن کے دوران کم از کم 30 امریکی عسکری جہاز امریکی اڈوں سے یورپ پہنچے ہیں۔

یہ تمام جہاز امریکی عسکری ٹینکر ہیں جنھیں لڑاکا اور بمبار فضائی طیاروں کو فضا میں ایندھن مہیا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ان میں سے سات جہاز، جو کے سی 135 ہیں، سپین، سکاٹ لینڈ اور فرانس میں واقع امریکی اڈوں پر اترے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع جاری ہے اور اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان جہازوں کی نقل و حرکت کا اس تنازع سے کوئی تعلق ہے یا نہیں تاہم ایک ماہر کے مطابق اتنی تعداد میں ٹینکر جہازوں کی پروازیں ’نہایت غیر معمولی‘ ہیں۔

ادھر امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز اور دیگر میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے ایران پر امریکی حملے کے منصوبے منظوری تو دے دی ہے تاہم اب تک انھوں نے اس پر عمل درآمد کا حکم نہیں دیا۔ خبروں کے مطابق ایران میں زیرزمین فرودو مرکز، جو جوہری پروگرام کے لیے اہم ہے، کو نشانہ بنانے کی صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہی ہے۔

رائیل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے سینئر تجزیہ کار جسٹن برونک کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک عندیہ ہے کہ امریکہ عسکری کارروائیوں کے لیے خطے میں ممکنہ منصوبہ بندی کر رہا ہے۔‘

بی بی سی ویریفائی نے جن سات جہازوں کو دیکھا ان کو بعد میں منگل کے دن سسلی کے مشرق کی جانب پرواز کرتے دیکھا گیا۔ ان میں سے چھ کی منزل کا علم نہیں ہو سکا جبکہ ایک یونان میں کریٹ کے جزیرے پر اتر گیا۔

آئرش ڈیفینس فورسز کے سابق سربراہ وائس ایڈمرل مارک میلیٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ نقل و حرکت ایک سٹریٹیجک ابہام کی پالیسی کا حصہ بھی ہو سکتی ہے جس کا مقصد ایران پر دباؤ ڈال کر اسے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت پر آمادہ کرنا ہو سکتا ہے۔‘

سٹیلتھ بمبار کے نام سے مشہور امریکی بی-2 سپرٹ

،تصویر کا ذریعہUS AIRFORCE

،تصویر کا کیپشنسٹیلتھ بمبار کے نام سے مشہور امریکی بی-2 سپرٹ

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر اس وقت حملہ کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جوہری پروگرام معطل کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہوئے ایک ہی دن ہوا تھا۔

امریکی طیاروں کی یہ نقل و حرکت ایسے وقت میں دیکھی گئی جب طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس نمٹز‘ بھی مشرق وسطی کی جانب روانہ کیا جا چکا ہے۔ بحری جہازوں کی نقل و حرکت جانچنے والی ویب سائٹ ’میرین ٹریفک‘ نے دکھایا ہے کہ یہ جہاز منگل کو سنگاپور کے قریب تھا جس پر بڑی تعداد میں لڑاکا طیارے کھڑے ہیں اور اس کے ساتھ دیگر جنگی بحری جہاز بھی موجود ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

منگل کے دن ہی تین دفاعی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے یہ خبر دی کہ امریکہ نے ایف 16، ایف 22 اور ایف 35 لڑاکا طیارے بھی مشرق وسطی پہنچا دیے ہیں۔ یورپ پہنچنے والے ٹینکر طیارے ان جہازوں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ منگل کو ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ امریکہ اسرائیل کی جانب سے مداخلت کر سکتا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ٹرمپ ایران کا جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے فیصلہ کر سکتے ہیں۔

واضےح رہے کہ ایران کے بارے میں گمان ہے کہ یہاں دو زیر زمین مراکز میں یورینیئم کی افزودگی کی جاتی ہے جن میں سے ایک، نتنز، پر اسرائیل حملہ کر چکا ہے تاہم فرودو قم شہر کے قریب پہاڑوں کے اندر موجود ہے۔ اس مرکز کو تباہ کرنے کے لیے امریکی بنکر شکن بم اور بی ٹو سٹیلتھ بمبار طیارے استعمال ہو سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک ڈیاگو گارسیا جزیرے پر امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کا ایک سکواڈرن موجود تھا۔ یہ جزیرہ ایران کی جنوبی ساحلی پٹی سے تقریبا ڈھائی ہزار میل کے فاصلے پر ہے لیکن یہاں سے ایران پر حملہ ہو سکتا ہے۔

 ڈیاگو گارسیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبحر ہند میں واقع جزیرہ ڈیاگو گارسیا

برطانوی ایئر فورس کے سابق افسر ایئر مارشل گریگ باگویل کے مطابق اس جزیرے سے ایک منظم آپریشن ممکن ہے۔

سیٹلائیٹ سے حاصل شدہ پرانی تصاویر کے مطابق مارچ کے اختتام تک بی ٹو بمبار اس جزیرے پر موجود تھے تاہم حالیہ تصاویر میں ان طیاروں کو ڈیاگو گارسیا میں نہیں دیکھا گیا۔

وائس ایڈمرل میلیٹ کا کہنا ہے کہ ان کو توقع ہے کہ کسی بھی ایسے آپریشن سے پہلے جس میں ایران پر حملہ کرنا مقصود ہو، ’یہ طیارے اس جزیرے پر ہوں گے اور ان کی غیر موجودگی پہیلی کا ادھورا ٹکڑا ہے۔‘

ایئر مارشل باگویل بھی ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بی ٹو طیارے 24 گھنٹے تک پرواز کر سکتے ہیں اور اگر امریکہ انھیں استعمال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ امریکی سرزمین سے بھی اڑ کر حملہ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انھوں (اسرائیل) نے ایران کی دفاعی صلاحیت چھین لی ہے جس کا مطلب ہے کہ اب عسکری یا جوہری ہدف پر اسرائیل مرضی سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔‘

مرلن تھامس کی اضافی رپورٹنگ کے ساتھ