پینٹاگون نے جوہری تنصیبات پر حملے سے پہلے کیسے ’ٹاپ سیکرٹ‘ پروازوں کے ذریعے دنیا کی نظریں ایران سے ہٹا کر ایک جزیرے پر مرکوز کروا دیں

bbc verify

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی جنگی طیاروں کے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر بمباری کے اعلان کے بعد سے پینٹاگون کی جانب سے آپریشن کے حوالے سے ہمیں مزید معلومات مل رہی ہیں جن سے اس پیچیدہ کی تفصیلات پتا چلتی ہیں۔

اس حملے کے بعد امریکہ باقاعدہ طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں شامل ہو گیا ہے۔

اتوار کی صبح صدر ٹرمپ نے امریکی عوام سے ٹیلی ویژن پر ایک مختصر خطاب میں کہا کہ ’یاد رہے، بہت سے اہداف باقی ہیں۔ آج کی رات اب تک کی سب سے مشکل اور شاید سب سے مہلک رات تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر امن جلد نہیں قائم ہوا تو ہم درستگی، رفتار اور مہارت کے ساتھ ان دوسرے اہداف تک جائیں گے۔‘

امریکی بمباری کے اہداف میں سے ایک تہران کے جنوب میں دور دراز پہاڑی علاقے میں قائم یورینیم کی افزودگی کا مرکز فردو تھا جو ایران کے جوہری عزائم کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ فردو کی تنصیبات کو کس قسم کا نقصان پہنچا ہے۔ ایران کی جانب سے کسی بڑے نقصان کا اعتراف نہیں کیا گیا تاہم امریکی حکام کے مطابق یہ تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں کی منصوبہ بندی میں امریکہ کے ساتھ ’مکمل ہم آہنگی‘ میں تھے۔

بی بی سی کے پارٹنر امریکی چینل، سی بی ایس نیوز کو امریکی حکام نے بتایا ہے کہ، امریکہ نے سنیچر کو سفارتی چینلز کے ذریعے ایران سے رابطہ کیا اور بتا دیا تھا کہ وہ صرف فضائی حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور یہ کہ ایران میں ’حکومت کی تبدیلی کی کوششیں‘ منصوبے کا حصہ نہیں۔

ایران ان حملوں کے بعد خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنا کر جواب دے سکتا ہے۔ اسرائیل سے حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی امریکی حملے سے علاقائی جنگ کا خطرہ ہے اور وہ جوابی کارروائی کریں گے۔

آئیے دیکھیں کہ ہم ایران اسرائیل جنگ اور اس میں امریکہ کی شمولیت کے بارے میں اب تک کیا جانتے ہیں۔

pentagon

یہ سب کچھ شروع کیسے ہوا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی کی نادین یوسف کے مطابق اس حالیہ جنگ کا آغاز 13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران میں درجنوں ایرانی جوہری اور عسکری اہداف پر اچانک حملے سے ہوا تھا۔ اسرائیل نے کہا کہ اس کی خواہش ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے، جس کے بارے میں وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا دعویٰ تھا کہ وہ جلد ہی ایٹم بم تیار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کے جوہری عزائم پرامن ہیں۔ جوابی کارروائی میں تہران نے اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ اور ڈرون داغے اور اس کے بعد سے دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر فضا کے راستے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ٹرمپ ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کے مخالف ہیں۔ عام خیال یہی ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں حالانکہ وہ اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔

مارچ میں، امریکی قومی انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے کہا تھا کہ اگرچہ ایران نے اپنے یورینیم کے ذخیرے کو غیر معمولی سطح تک بڑھا دیا ہے، لیکن وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا ہے۔ ایران پر امریکی حملے سے چند دن قبل جب امریکی صدر سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تلسی گبارڈ کا اندازہ ’غلط‘ تھا۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ’احمقانہ لامتناہی جنگوں‘ میں ملوث ہونے پر ماضی کی امریکی انتظامیہ پر تنقید کرتے رہے تھے اور انھوں نے امریکہ کو غیر ملکی تنازعات سے دور رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

13 جون کو اسرائیل کے اچانک حملے کے وقت امریکہ اور ایران جوہری مذاکرات کر رہے تھے اور حملے سے صرف دو دن پہلے، صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو حملہ کرنے سے پہلے ٹھوس مذاکرات کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیں گے- لیکن اصل مدت بہت کم ثابت ہوئی۔

ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اس کی حالیہ لڑائی میں اب تک 200 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل میں بھی ایران کے میزائل حملوں کے نتیجے میں چند افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

map

امریکہ نے حملے کہاں کیے اور کون سا اسلحہ استعمال ہوا؟

18 گھنٹے طویل پرواز، دوران پرواز ری فیولنگز اور مسلسل چکمہ دینے کی کوشش۔۔۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کرنے کے مشن کی تفصیلات امریکہ کے سب سے سینیئر فوجی افسر جنرل ڈین کین نے گذشتہ روز بتائی تھیں۔

تاحال امریکہ کے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے مکمل نتائج واضح نہیں ہے لیکن اتوار کی صبح امریکہ میں پینٹاگون بریفنگ کے دوران اس پیچیدہ آپریشن کی تفصیلات بتائی گئیں۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رپورٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی بمبار طیارے ’ایران میں داخل ہوئے اور پھر واپس پہنچے لیکن دنیا کو اس کی خبر تک نہ ہو سکی۔‘

یہ سب اس وقت شروع ہوا جب امریکی صدر، نائب صدر، وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور اہم پینٹاگون اہلکار وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں جمع ہوئے جب امریکی ریاست مزوری میں امریکی فضائی اڈے سے طیاروں کی ایک بڑی تعداد نے پرواز بھری۔

رات کے اندھیرے میں بی 2 سٹیلتھ بمبار طیارے رات 12 بجے وائٹمین فضائی اڈے سے اڑے۔ ان کا ہدف: ایران کی جوہری تنصیبات۔

سب سونک طیارے جو آواز کی رفتار سے تھوڑی کم رفتار پر پرواز کر سکتے ہیں بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے اڑے اور پر طاقتور بنکر شکن بم نصب تھے جو زیرِ زمین 18 میٹر گہرائی تک تباہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

map

یہ ایران میں فردو جوہری افزودگی کی تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے ضروری تھے کیونکہ یہ تنصیب زیرِ زمین کئی میٹر گہرائی میں موجود ہے اور اسے ملک کے جوہری پروگرام کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ وہ واحد ملک ہے جس کے پاس وہ بم موجود ہے جو اس تنصیب کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتا تھا۔

لیکن تب تک دنیا نہیں دیکھ رہی تھی۔ اس وقت سب کی نظریں مغرب میں بحرالکاہل کی جانب تھیں جہاں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھی کہ امریکی جزیرے گوام میں بمبار طیارے بھیجے گئے ہیں۔

بی بی سی کی جانب سے اس پیش رفت پر اس وقت یہ تجزیہ کیا گیا تھا کہ 'طیاروں کی یہاں تعیناتی کو باضابطہ طور پر امریکہ کے اسرائیل ایران جنگ میں شامل ہونے سے متعلق بات چیت سے نہیں ملایا جا رہا ہے، لیکن اکثر افراد اسے شک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔

لیکن یہ دراصل ایک دھوکہ تھا جو پینٹاگون نے ان ٹاپ سیکرٹ پروازوں سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا جو ایران پر براہ راست حملے کے لیے بحراوقیانوس کے اوپر سے پرواز کر رہے تھے۔

جو طیارے مغرب میں بحرالکاہل کی جانب گئے وہ جنرل کین کے مطابق دراصل 'چکمہ دینے کی کوشش تھی جس کے بارے میں واشنگٹن میں چند رہنماؤں اور منصوبہ بنانے والوں کو علم تھا۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'سات بی 2 سپرٹ بمبار طیاروں کا اصل سٹرائیک پیکج جس میں ہر طیارے میں عملے کے دو لوگ موجود تھے، اور اس دوران یہ طیارے بہت کم کمیونیکیشن کرتے ہوئے خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔'

map

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں تین جوہری مقامات کو نشانہ بنایا جو فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع ہیں۔

فردو تہران کے جنوب میں ایک پہاڑی علاقے میں زیرِ زمین واقع ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ برطانیہ اور فرانس کو ملانے والی چینل ٹنل سے زیادہ گہرائی میں بنایا گیا ہے۔

اس گہرائی نے اسرائیل کے ہتھیاروں کی اس تک رسائی مشکل بنا دی تھی اور سمجھا جاتا تھا کہ امریکہ کے ’بنکر بسٹر‘ بم کے علاوہ کوئی ہتھیار اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے اتوار کو امریکی محکمۂ دفاع میں بریفنگ کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کی تفصیلات بتائیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کارروائی کو آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا نام دیا گیا تھا اور 'یہ ایک انتہائی خفیہ مشن تھا اور واشنگٹن میں بہت کم لوگ اس کے وقت اور معمول کے بارے میں جانتے تھے۔'

ان کے مطابق صرف چند 'منصوبہ ساز اور اہم رہنماؤں' کو اس بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔ جنرل کین کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا بی 2 آپریشنل حملہ تھا۔

امریکی جرنیل کے مطابق اس حملے میں 75 میزائل اور بم داغے گئے جن میں دو درجن سے زیادہ ٹوماہاک میزائلوں کے علاوہ 14 ایسے ایم او پی (بنکر بسٹر) بم بھی تھے جن کا آپریشنل استعمال پہلی مرتبہ کیا گیا۔

اس امریکی بم کو جی بی یو -57 میسیو آرڈننس پینیٹریٹر کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس کا وزن 13 ہزار کلوگرام اور یہ پھٹنے سے پہلے تقریباً کنکریٹ میں 18 میٹر اور عام زمین میں 61 میٹر تک گھس سکتا ہے۔

خیال ہے کہ فردو کی سرنگیں سطح زمین سے 80 سے 90 میٹر نیچے ہیں اس لیے بنکر بسٹر کے حملے کے کامیاب ہونے کی حتمی ضمانت نہیں ہے، لیکن یہ واحد بم ہے جو ان کے قریب پہنچ سکتا ہے۔

جنرل کین کے مطابق اس مشن میں سات بی 2 بمبار طیارے شامل تھے جنھوں نے ہدف تک پہنچنے کے لیے 18 گھنٹے کی پرواز کی اور جب یہ بمبار طیارے ایرانی ایئرسپیس میں پہنچے تو ایک امریکی آبدوز نے دو درجن سے زیادہ ٹوماہاک میزائل اصفہان کی جوہری تنصیب کے 'اہم اہداف' پر داغ دیے۔

انھوں نے کہا کہ تمام اہداف کو 25 منٹ کے دورانیے کے دوران نشانہ بنایا گیا اور آخر میں ایک بار پھر اصفہان پر ٹوماہاک میزائل داغے گئے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس پوری کارروائی کے دوران ایران کی جانب سے امریکی طیاروں کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ 'بظاہر ایران کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں نے ہمیں نہیں دیکھا۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشن کے دوران امریکہ کو ایسے کسی بھی واقعے کے بارے میں نہیں معلوم جس میں امریکی طیاروں پر فائرنگ کی گئی ہو۔'

ایران میں امریکی حملے سے کیا نقصان ہوا ہے؟

اگرچہ امریکی حکام حملوں کو مکمل کامیاب قرار دیتے ہوئے دعوے کر رہے ہیں کہ فردو کی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ تینوں جوہری تنصیبات پر امریکی حملے سے کیا نقصان ہوا ہے۔

اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ 'امریکی حملے میں ایرانی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے لیکن ابتدائی اندازے یہی ہیں کہ ہمارا ہدف پر درست نشانہ لگانے والا گولہ بارود وہیں گرا جہاں ہم اس سے نشانہ لگانا چاہتے تھے اور اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اس نے فردو کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے جو اس کا مرکزی ہدف تھا۔

تاہم اسی پریس کانفرنس میں وزیرِ دفاع کے ہمراہ موجود امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا ایران اب بھی جوہری صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نقصان کے حتمی جائزے میں وقت لگے گا لیکن ابتدائی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ تینوں تنصیبات کو 'شدید نقصان' پہنچا۔

اس سے قبل امریکی کارروائی کے بعد ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے سرکاری طور پر اس حملے کی تصدیق کی گئی۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، صوبہ قم کے کرائسس مینجمنٹ کے ترجمان مرتضی حیدری کا کہنا ہے کہ 'فردو نیوکلیئر سائٹ کے ایک حصے پر فضائی حملہ کیا گیا۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک سوشل ٹروتھ پر ایک پیغام میں لکھا کہ 'فردو تباہ ہو گیا ہے۔' تاہم ایران کے سرکاری ٹی وی پر کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ فردو جوہری تنصیب کو تباہ کرنے کے حوالے سے 'چکمہ' دے رہے ہیں اور حملے میں فردو کے داخلی اور خارجی راستے پر صرف دو سرنگوں کو ہی نقصان پہنچا ہے۔

امریکی حملے کے بعد فردو کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر

،تصویر کا ذریعہMAXAR/BBC

،تصویر کا کیپشنامریکی حملے کے بعد فردو کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر

دوسری جانب اصفہان کے سکیورٹی ڈپٹی گورنر اکبر صالحی نے حال ہی میں کہا ہے کہ 'نطنز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ہم نے اصفہان اور نطنز کے جوہری مقامات کے قریب حملے دیکھے۔'

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ڈپٹی پولیٹیکل ڈائریکٹر حسن عابدینی بھی ان حملوں کے بعد سرکاری ٹی وی پر براہ راست نظر آئے اور اُن کا کہنا تھا کہ 'ایران نے کچھ عرصہ قبل ان تین جوہری تنصیبات کو خالی کرا لیا تھا جنھیں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب امریکہ کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔'

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کی بات سچ بھی ہے تو ایران کو 'کوئی بڑا دھچکا نہیں لگا کیونکہ (جوہری) مواد پہلے ہی ان مقامات سے نکال لیا گیا تھا۔'

جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے آئی اے ای اے نے اب سے کچھ دیر قبل ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے کے بعد ایران میں جوہری تنصیبات کے گرد 'تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی'۔

ادارے کا مزید کہنا ہے کہ 'آئی اے ای اے کی جانب سے اس بارے میں مزید تجزیہ تب کیا جائے گا جب صورتحال کے حوالے سے مزید معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔'

فرو پر حملے کے بعد جائے وقوعہ کی تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کو دیکھا جائے تو چھ نئے گڑھے دیکھے جا سکتے ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی بموں کا داخلی پوائنٹ ہوں گے۔ اس کے علاوہ سرمئی دھول اور پہاڑ کے ساتھ ملبے کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

نئی سیٹیلائٹ تصاویر میں امریکہ کی جانب سے ایران کی فردو میں زیرِ زمین جوہری افزودگی کی تنصیب کی امریکی حملے کے بعد کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

22 جون کو بنائی گئی ان ہائی ریزولوشن تصاویر کے بارے میں میکنزی انٹیلیجنس سروسز میں سینیئر امیجری اینالسٹ سٹو رے نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ 'آپ کو داخلی راستے پر بڑے دھماکے کے آثار نہیں دکھائی دیں گے کیونکہ یہ (بنکر بسٹر) داخلی پوائنٹ پر پھٹنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا بلکہ تنصیب میں گہرائی میں جا کر پھٹتا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دو مختلف داخلی پوائنٹس پر تین مرتبہ بم گرائے گئے اور زمین پر موجود سرمئی دھول کنکریٹ کا ملبہ دکھائی دیتی ہے جو دھماکے کے باعث بکھرا ہوا ہے۔

رے نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سرنگ کے داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں چونکہ ان کے قریب کوئی نظر آنے والے گڑھے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ’فضائی بمباری کے ذریعے داخلی راستوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے روکنے کی‘ ایرانی کوشش ہو سکتی ہے۔

ان تصاویر سے بھی یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہو رہا کہ امریکی حملے نے خود جوہری تنصیب کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اور حملے سے پہلے کے دنوں میں، ایسا لگ رہا تھا کہ ایران حملے کی صورت میں نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

ایران کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟

امریکی حملوں پر اپنے ابتدائی ردعمل میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انھیں 'اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ 'اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی دفعات جو اپنے دفاع کے لیے جائز ردعمل کی اجازت دیتی ہیں، ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام اختیارات محفوظ رکھتا ہے۔'

عراقچی نے اس حملے کو 'شرمناک' قرار دیا جس کے 'نہ ختم ہونے والے نتائج' ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کے تمام اراکین کو اس انتہائی خطرناک، لاقانونیت پر مبنی اور مجرمانہ رویہ پر گھبرانا چاہیے۔

ایران اب تک اپنے فوجی اڈوں پر اسرائیل کے حملوں اور اس سے قبل لبنان (حزب اللہ)، شام اور غزہ (حماس) میں اپنی حامی تنظیموں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے کمزور ہوا ہے لیکن وہ اب بھی بڑا نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی حکام نے امریکہ کو اسرائیل اور اپنی جنگ میں ملوث ہونے کے امکان کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا ہوا تو امریکہ کو ’ناقابل تلافی نقصان‘ پہنچے گا اور اس سے پورے خطے میں ’مکمل جنگ‘ کا خطرہ ہے۔

امریکہ کے حملوں کے بعد ایران نے اتوار کو فوری طور پر اسرائیل پر مزید میزائل داغے ہیں لیکن تاحال امریکی اثاثوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔

اتوار کو کیے گئے حملوں کے بارے میں ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملے لانگ رینج میزائلوں کی مدد سے کیے گئے اور ان میں اسرائیل کے بین گورین ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دیگر اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں سپورٹ بیسز، کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز اور بائیولاجیکل ریسرچ سینٹرز بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ایران نے امریکی حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے کم از کم 19 مقامات پر امریکہ کے فوجی اڈے ہیں جو بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں واقع ہیں۔

ایران کے لیے سب سے واضح اہداف میں بحرین میں مینا سلمان میں امریکی بحریہ کا پانچواں فلیٹ ہیڈکوارٹر ہے۔

وہ آبنائے ہرمز کے نام سے معروف جہاز رانی کے راستے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جو خلیج فارس کو بحر ہند سے جوڑتا ہے اور جس کے ذریعے دنیا کی تیل کی سپلائی کا 30 فیصد پہنچایا جاتا ہے۔ یہ دوسرے سمندری راستوں پر بھی حملہ کر سکتا ہے جس سے عالمی منڈیوں کے غیر مستحکم ہونے کا خطرہ ہے۔

ایران ایسے قریبی ممالک کے اثاثوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ امریکہ کی مدد کر رہے ہیں جس سے جنگ کے پورے خطے میں پھیلنے کا خطرہ ہے۔

کیا صدر ٹرمپ کو امریکی کانگریس کی اجازت درکار تھی؟

امریکی قانون کے تحت صدر کو کسی دوسرے ملک کے خلاف باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان کرنے کا واحد اختیار نہیں ہے اور صرف کانگریس یعنی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے منتخب قانون ساز ہی ایسا کرسکتے ہیں۔

لیکن قانون یہ بھی کہتا ہے کہ صدر مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کو تعینات کر سکتا ہے اور جنگ کے باقاعدہ اعلان کے بغیر فوجی آپریشن کر سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، 2017 میں شام میں اسد حکومت کے خلاف فضائی حملے کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کو کانگریس سے منظوری کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے بجائے، ٹرمپ نے قومی سلامتی اور انسانی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر کام کیا۔

امریکہ میں حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف کے کچھ قانون سازوں نے حال ہی میں کانگریس کے ذریعے جنگی طاقتوں کی قرارداد کو آگے بڑھا کر ایران پر امریکی حملوں کا حکم دینے کی ٹرمپ کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ اس پر رسمی ووٹنگ میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، اور ایسے اقدامات زیادہ تر علامتی سمجھے جاتے ہیں۔