انڈین بحریہ میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس آبدوز ’واگیر‘ کی شمولیت کتنی اہمیت کی حامل ہے؟

،تصویر کا ذریعہani
انڈین بحریہ سوموار کو باضابطہ طور پر اپنی پانچویں کلواری کلاس کی آبدوز ’واگیر‘ کو بحریہ میں شامل کرنے جا رہا ہے۔
اسے 20 دسمبر کو انڈین بحریہ کے حوالے کیا گیا تھا۔
اس سے قبل کلواری کلاس کی چار آبدوزیں انڈین بحریہ میں شامل کی جاچکی ہیں۔
- یہ آبدوز مختلف قسم کے جنگی مشنز میں کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل ہے۔
- اینٹی سرفیس، اینٹی سب میرین، جاسوسی اور نگرانی کے مشن اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
- انڈین بحریہ نے اسے ’سینڈ شارک‘ قرار دیا ہے، یعنی یہ دشمن کی نظروں سے چھپ کر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ آبدوز انڈین بحریہ کے پروجیکٹ-75 کے تحت ممبئی کے مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (ایم ڈی ایل) میں تیار کی گئی ہے۔
سٹریٹجک صلاحیت کی مثال

،تصویر کا ذریعہani
دشمن کی نظروں سے چھپنے کے لیے جدید خصوصیات سے لیس واگیر کو ’سٹیٹ آف دی آرٹ‘ آبدوز کہا جا رہا ہے اور اسے انڈین سٹریٹجک صلاحیت کی ایک مثال بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
انڈین بحریہ کے مطابق اس نے پہلی بار یکم نومبر سنہ 1973 کو ’واگیر‘ کو کمیشن کیا تھا۔ اس آبدوز نے کئی مشن انجام دیے۔ تین دہائیوں تک سروس میں رہنے کے بعد جنوری سنہ 2001 میں اسے ڈی-کمیشن کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد ایک نئے منصوبے کے تحت نومبر سنہ 2020 میں اسے نئے اور جدید اوتار میں بحریہ کے بیڑے میں دوبارہ شامل کرنے کے احکامات دیے گئے۔
انڈین بحریہ کا دعویٰ ہے کہ یہ انڈیا میں سب سے کم وقت میں بننے والی پہلی آبدوز ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
بحریہ کے پروجیکٹ-75 کے تحت چھٹی کلواری کلاس آبدوز کی تعمیر بھی تیز رفتاری سے جاری ہے۔ اسے فرانسیسی کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے۔
انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بحریہ سے وابستہ ایک افسر نے کہا ہے کہ اس سے بحری سکیورٹی کے معاملے میں انڈیا کو برتری ملے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحر ہند میں چین کی موجودگی
انڈیا اور چین کے درمیان سرحد سے متعلق مسائل پر جاری کشیدگی کے درمیان بحر ہند کے خطے میں بھی چین کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
گذشتہ سال اگست میں سری لنکا نے چینی جہاز ’یوآن وانگ 5‘ کو ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر آنے کی اجازت دی تھی۔ انڈیا نے اس سے متعلق سری لنکا کی حکومت سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس جہاز کے بارے میں کہا گیا کہ یہ جاسوسی اور نگرانی کرنے والا جہاز ہے۔ درحقیقت ہمبنٹوٹا بندرگاہ چین کی مدد سے بنائی گئی تھی اور قرضہ واپس نہ کرنے پر اسے 99 سال تک چین کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے۔
جافنا میں چین کی موجودگی کو انڈیا کے لیے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سری لنکا کا یہ علاقہ انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہINDIAN NAVY
فوج کی تیزی سے جدید کاری
ایک طرف انڈیا کی سرحدوں پر پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدہ صورتحال ہے تو دوسری طرف وہ اپنی عسکری صلاحیتوں کو جدید بنانے پر بھی زور و شور کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔
ابھی پچھلے مہینے یعنی 18 دسمبر کو اس نے پی 15 بی میزائل شکن جنگی جہاز کو بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا ہے۔
اس موقع پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ’مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈنگ لمیٹڈ کی طرف سے بنایا گیا یہ جنگی جہاز ملک کی دفاعی سازوسامان تیار کرنے کی صلاحیت کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے وقتوں میں ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ نہ صرف اپنی ضروریات پوری کریں بلکہ ہم دنیا کی ضروریات کے لیے جنگی جہاز بنائیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
انھوں نے کہا تھا کہ 'انڈیا ان ممالک میں سے ایک ہے جن کے مفادات براہ راست بحر ہند سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس خطے میں ایک اہم ملک ہونے کے ناطے اس کی سلامتی میں ہماری بحریہ کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔‘
گذشتہ سال ستمبر میں ہی انڈیا نے اپنے سب سے بڑے جنگی جہاز وکرانت کو اپنے بیڑے میں شامل کیا تھا۔
اس وقت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وائس ایڈمرل اے کے چاولہ (ر) کا کہنا تھا کہ ’80 کی دہائی میں معاشی لبرلائزیشن کے بعد چین نے محسوس کیا کہ اپنی بحری طاقت میں اضافہ کیے بغیر وہ عالمی طاقت کے طور پر ابھر نہیں سکتا۔ آج وہ دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ ہے اور وہ بہت تیزی سے نئے ایئرکرافٹ بنا رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے ساتھ کشیدگی
انڈیا اور چین کے تعلقات گذشتہ چند برسوں میں خراب ہوئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کئی علاقوں میں تنازع جاری ہے۔
9 دسمبر کو انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں چین اور انڈیا کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، جس میں دونوں اطراف کے کچھ فوجی زخمی ہوئے۔
اس سے قبل جون سنہ 2020 میں گلوان میں انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
اس کشیدگی کے درمیان انڈیا اگلے ماہ اروناچل پردیش، آسام اور شمال مشرق کی دیگر ریاستوں میں فضائی مشقیں کرے گا۔
فوجی ذرائع کے مطابق اس میں کئی دیگر طیارے جیسے سی-10 جے سپر ہرکولیس، چنوک اور اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹر بھی شامل ہوں گے۔













