آئی این ایس مورموگاؤ: جدید سینسرز سے لیس انڈین بحریہ کا نیا جنگی بحری جہاز کتنا طاقتور ہے؟

،تصویر کا ذریعہRAJNATH SINGH@TWITTER
پی 15 بی میزائل شکن بحری جنگی جہاز اتوار کو انڈیا کی بحری فوج میں شامل کیا گیا۔ اس موقع پر انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی موجود تھے۔
ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں وزیر دفاع نے اس بحری جنگی جہاز کے بارے میں کہا کہ یہ انڈیا میں بنائے جانے والے طاقتور ترین جنگی جہازوں میں سے ایک ہے اور اس سے سمندر میں انڈیا کے دفاع کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ’مزاگون ڈاک شپ بلڈنگ لمیٹڈ کی طرف سے تیار کردہ یہ جنگی جہاز ملک کی دفاعی سازوسامان کی تیاری کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے وقتوں میں ہم نہ صرف اپنی ضروریات کے لیے بلکہ دنیا کی ضروریات کے لیے بھی جنگی جہاز تیار کر سکیں گے۔‘
انڈین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آر ہری کمار کا اس موقع پر کہنا تھا کہ مورموگاؤ جہاز کا نام مورموگاؤ بندرگاہ پر رکھا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ جنگی جہاز خود انحصار انڈیا اور میک ان انڈیا کی ایک مثال ہے، اس میں استعمال ہونے والی 75 فیصد اشیاء صرف انڈیا میں ہی بنی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPIB
انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کیا کہا؟
آئی این ایس مارکنگ تقریب (جنگی جہاز کو بحریہ کے حوالے کرنے کے لیے منعقد تقریب) میں انڈین وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’حال ہی میں ہمارا ملک دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ دنیا کی ایک بڑی ایجنسی کے اندازوں کے مطابق اگلے پانچ سالوں میں (2027 تک) انڈیا دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں، ہر قسم کے حالات کے لیے خود کو تیار کرنا ہماری اولین ضرورت ہے۔ ملکوں کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور تجارتی تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بدل رہے ہیں۔‘
انھوں نے انڈیا کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تجارت اور سمندری راستوں کی اہمیت کے بارے میں بھی بات کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری معیشت ترقی کر رہی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ تجارت بڑھ رہی ہے۔ جس کا زیادہ تر حصہ سمندری راستوں سے ہے۔ ہم عالمگیریت کے دور میں ہیں جہاں تمام ممالک ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ دنیا کی ترقی کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سمندر میں نیوی گیشن کی آزادی اور سمندری راستوں کی حفاظت زیادہ اہم ہو گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عالمی سلامتی کے پیش نظر دنیا بھر کے ممالک اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں اور اپنی فوج کو جدید اور مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘
انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’انڈیا ان ممالک میں سے ایک ہے جن کے مفادات براہ راست بحر ہند سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس خطے کا ایک اہم ملک ہونے کے ناطے اس کی سلامتی میں ہماری بحریہ کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگی جہاز آئی این ایس مورموگاؤ کی خصوصیات کیا ہیں؟
یہ جنگی جہاز انڈین بحریہ کے پروجیکٹ 15 بی کے تحت بنایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ اکتوبر 2013 میں شروع ہوا تھا۔ اس کے تحت چار جنگی جہاز بنائے جانے تھے جن میں وشاکھاپٹنم، مورموگاؤ، امپھال اور سورت شامل ہیں۔
آئی این ایس مورموگاؤ بحری جہاز، انڈین بحریہ کے وارشپ ڈیزائن بیورو کے تیار کردہ وشاکھاپٹنم کلاس ڈسٹرائرز میں سے دوسرا ہے۔ آئی این ایس وشاکھاپٹنم، اس کلاس کا پہلا جنگی جہاز، 21 نومبر 2021 کو باضابطہ طور پر انڈین بحریہ کا حصہ بن گیا تھا۔
آئی این ایس مورموگاؤ جنگی جہاز کی تعمیر ستمبر 2016 سے شروع ہوئی تھی اور سمندر میں اس کی آزمائش 19 دسمبر 2021 کو ہوئی تھی۔
آئی این ایس مورموگاؤ کی لمبائی 163 میٹر اور چوڑائی 17 میٹر ہے۔ جب یہ پانی میں داخل ہوتا ہے تو اس کی نقل مکانی کی صلاحیت 7,400 ٹن ہے۔
یہ جنگی جہاز جدید ترین سینسرز سے لیس ہے جو دشمن کے حملے کی پیش گوئی کر سکتا ہے اور وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیاروں سے لیس دنیا کا جدید ترین میزائل بردار بحری جہاز ہو گا۔
یہ جنگی جہاز زمین سے فضا میں مار میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، زمین سے سطح پر مار کرنے والے میزائل براہموس سے لیس ہے۔
سمندر میں دشمن کی آبدوزوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس میں ٹارپیڈو ٹیوب لانچرز اور راکٹ لانچرز شامل ہیں۔
انڈین بحریہ کے مطابق یہ جنگی جہاز جوہری، بائیولیوجیکل اور کیمیائی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اس میں جدید نگرانی کا ریڈار سسٹم ہے جو دشمن کے حملے کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس میں چار طاقتور ٹربائنیں ہیں اور یہ جنگی جہاز 30 ناٹ (تقریباً 55 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار حاصل کر سکتا ہے۔












