انڈیا کا دوسرا طیارہ بردار جنگی بحری جہاز وکرانت جس کی تیاری میں 17 سال لگے

،تصویر کا ذریعہIndian Navy
انڈیا جمعہ کے دن دوسرا طیارہ بردار جہاز اپنے جنگی بحری بیڑے میں باضابط طور پر شامل کرنے جا رہا ہے جس کو بنانے میں 17 سال کا طویل عرصہ لگا ہے۔
بی بی سی ہندی سروس کے مطابق ملک کے اندر بنائے جانے والے اس طیارہ بردار جہاز، جس کو آئی این ایس وکرانت کا نام دیا گیا ہے، کی لمبائی 262 میٹر اور اونچائی 60 میٹر ہے۔ اس کے بحری بیڑے میں شامل کیے جانے کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں صرف 10 ممالک ایسے ہیں جن کی بحری فوج میں طیارہ بردار جنگی جہاز شامل ہیں۔ ان میں امریکہ کا نمبر سرفہرست ہے جس کے پاس 11 طیارہ بردار جہاز ہیں۔ اس کے بعد چین کا نمبر آتا ہے جس نے حال ہی میں اپنی بحریہ میں ایک طیارہ بردار جہاز شامل کیا ہے اور اس کے بعد اس کی بحریہ میں طیارہ بردار جہازوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ابتدا میں اس طیارہ بردار جہاز پر انڈیا کے مقامی تیار شدہ ہوائی جہاز نہیں بلکہ روسی ساختہ ہوائی جہاز رکھے جائیں گے جو کہ انڈین بحریہ کے دوسرے طیارہ بردار جہاز وکرمادتیہ سے مستعار لیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
کوچن شپ یارڈ پر بنائے گئے اس جہاز پر 1700 افراد پر مشتمل عملے اور 30 لڑاکا ہوائی جہازوں کو رکھنے اور استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روئٹرز کے مطابق اس جہاز کے لیے جنگی ہوائی جہاز فراہم کرنے کے لیے فرانس کی لڑاکا طیارے بنانے والی کمپنی ڈسالٹ اور امریکی کمپنی بوئنگ کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔
روئٹرز نے کہا ہے کہ انڈین بحریہ کے حکام نے اس بارے میں بھیجے جانے والے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
انڈیا کی دفاعی صنعت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طیارہ بردار جہاز کے 75 فیصد کے قریب پرزے اور اس کا ڈھانچہ ملک کے اندر تیار کیا گیا ہے اور اس میں نصف درجن کے قریب بڑی صنعتوں اور سو کے قریب چھوٹے صنعت کاروں نے آلات اور مشینری بنانے میں حصہ لیا۔

،تصویر کا ذریعہIndian Navy
سنسکرت زبان میں وکرانت کا مطلب بہادر ہے اور اس نام سے انڈیا کی بحریہ میں پہلے بھی ایک جہاز تھا۔ یہ انڈیا کا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز تھا جسے برطانیہ کی رائل نیوی سے خریدا گیا تھا اور 1961 میں اسے بحریہ میں شامل کیا گیا۔ آئی این ایس وکرانت کو 1997 میں کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
روئٹرز نے انڈین بحری فوج کے سابق نیول سٹاف ایڈمرل ارن پرکاش کے حوالے سے کہا کہ ’اس جہاز کی کھلے سمندروں میں تجرباتی مشقیں بہت کامیاب رہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ گہرے سمندروں میں بہت متوازن رہا ہے۔ سابق نیول سٹاف ایڈمرل نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مستقبل میں بھی ایک کامیاب جہاز ثابت ہو گا۔
ارن پرکاش نے کہا کہ انڈیا میں فیصلے لینے کے غیر مربوط طریقہ کار کی وجہ سے بحری جہاز کی تیاری کے منصوبے اور اس پر تعینات کیے جانے والے جنگی ہوائی جہازوں کے فیصلے علیحدہ علیحدہ کیے گئے اور ہوائی جہاز خریدنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا جا سکا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم جانتے تھے کہ جہاز کو اس سال بحریہ میں شامل کیا جانا ہے اور اس کے لیے ہوائی جہازوں کے انتخاب اور ان کی خریداری کے معاہدے پر بات چیت وقت پر شروع ہو جانی چاہیے تھی، غالباً تین چار سال پہلے۔‘
بین الاقوامی دفاعی انٹیلی جنس کمپنی جینز میں بحری افواج کے ماہر پراتھامش کارلی کہتے ہیں کہ بحریہ کی طرف سے وکرانت کی جو تصاویر جاری کی گئی ہیں ان میں وکرانت پر نیول راڈار سسٹم بھی ابھی نصب ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

،تصویر کا ذریعہIndian Navy
انھوں نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ وکرانت کے پوری طرح کام شروع کرنے اور بحری بیڑے میں متحرک ہونے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔
انڈیا کی بحریہ کے پاس فی الوقت 40 روسی ساختہ مگ 29 طیارے ہیں جو اس کے دوسرے طیارہ برادر جہاز وکرمادتیہ پر تعینات ہیں۔ ان میں سے کچھ طیارے عارضی طور پر وکرانت پر منتقل کر دیئے جائیں گے۔
نئی دہلی میں قائم نیشنل میری ٹائم فاؤنڈیشن کے ماہر کملیش کمار اگنہوتری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’کسی بھی طیارہ برادر بحری جہاز کا سب سے اہم جز اس کا ’ایئر ونگ‘ ہوتا ہے۔ لہذا یہ ایک بڑی کمی ہے۔‘
بحری کارروائیوں کے لیے وکرانت کے دستیاب ہونے کے بعد انڈین بحریہ کو یہ صلاحیت حاصل ہو جائے گی کہ وہ بحیرہ ہند میں مغرب اور مشرق دونوں اطراف میں اپنے طیارہ بردار جہاز تعینات کر سکتا ہے اور یوں اس کو بہت وسیع علاقے تک پہنچ حاصل ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت حاصل ہو جانے کے باوجود انڈیا کی نیوی ابھی بھی اپنے مدمقابل چین کی بحری قوت کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔

،تصویر کا ذریعہIndian Navy
چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی بحریہ کے پاس 355 بحری جہاز ہیں جن میں دو طیارہ بردار جہاز، 48 ڈسٹرائر، 43 فریگیٹس اور 61 کورویٹز شامل ہیں۔
اس سال جون ہی میں چین کی بحریہ میں تیسرا طیارہ بردار جہاز شامل کیا گیا ہے جس میں اس کا ’فلائٹ ڈیک‘ یا پورا عرشہ جہازوں کی جدید ترین ’کیٹاپلٹ‘ نظام کی مدد سے پرواز کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس انڈیا کے طیارہ بردار جہازوں کا عرشہ نسبتاً چھوٹا ہے۔
انڈیا کا بحری بیڑہ دو طیارہ بردار جہاز، 10 ڈسٹرائر، 12 فریگیٹس اور 20 کورویٹز پر مشتمل ہے۔
صلاحیت کے لحاظ سے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اور بھی طیارے ہیں جن میں زیادہ طیارے رکھے جا سکتے ہیں، جیسے کہ آئی این ایس وکرمادتیہ۔ برطانیہ کی رائل نیوی کی ملکہ الزبتھ 40 اور امریکی بحریہ کا نیمٹز کلاس کیریئر 60 سے زیادہ طیارے لے جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہIndian navy
ہندی سروس نے جہاز پر موجود سینئر انجینئرنگ افسر، لیفٹیننٹ کمانڈر سائی کرشنن سے بات کی جنھوں نے بتایا کہ اس کے چار انجن ہیں جو 88 میگاواٹ برقی توانائی فراہم کرتے ہیں جو ایک چھوٹے شہر کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
لیفٹیننٹ کمانڈر وجے شیوران نے بی بی سی ہندی سروس کو بتایا کہ ’اسے ایک پارکنگ لاٹ کی طرح سمجھیں۔ وہاں ایک ٹیم ہے جو مرمت اور دیکھ بھال کرتی ہے۔ طیارے لفٹ کے ذریعے فلائٹ ڈیک تک لے جائے جاتے ہیں۔‘
لیفٹیننٹ کمانڈر سدھارتھ سونی فلائٹ ڈیک آفیسر ہیں اور ہیلی کاپٹر پائلٹ بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا فلائٹ ڈیک تقریباً 12500 مربع میٹر ہے، یعنی تقریباً ہاکی کے ڈھائی میدانوں کے برابر اور یہاں سے ہم ایک وقت میں 12 لڑاکا طیارے اور چھ ہیلی کاپٹر چلا سکتے ہیں۔ یہ ہمارے پہلے کے طیارہ بردار جہازوں سے بہت بڑا ہے۔ آپ کے پاس زیادہ جگہ ہے تو ظاہر ہے آپ کے پاس زیادہ ہوائی جہاز ہو سکتے ہیں۔‘
وکرانت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روسی، امریکی اور انڈین طیاروں کو ایک ہینگر میں رکھ سکتا ہے۔
لیکن 45 ہزار ٹن کا یہ طاقتور جنگی جہاز دشمنوں کے نشانے پر آ سکتا ہے۔ اپنے طیارہ بردار جہاز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ، چین اپنے ’ایئر کرافٹ کیریئر کلر ہائپرسونک‘ میزائل کو بھی جدید اور تباہ کن بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہIndian navy
یہ کیریئر اپنی حفاظت کیسے کرتا ہے؟
کیپٹن رجت کمار نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’طیارہ بردار جہاز کبھی اکیلا نہیں چلتا، اس کے ساتھ دوسرے جہاز بھی ہوتے ہیں جس میں جنگی جہاز، اینٹی سب میرین وارفیئر کی صلاحیت اور اینٹی ایئر صلاحیت شامل ہے۔ وکرانت خود بھی کئی طرح کی دفاعی خصوصیات سے لیس ہے، یہ ہوائی جہاز اور جہازوں کے درمیان ہم آہنگی کا معاملہ ہے۔
اس جنگی جہاز کی خاصیت یہ ہے کہ یہ مشن کی ضرورت کے مطابق ایک پورے ایئر فیلڈ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا سکتا ہے۔ وکرانت کے آنے سے انڈیا کے پاس اب دو کیریئر ہوں گے۔
لیکن بحریہ کا خیال ہے کہ انھیں کم از کم ایک اور طیارہ بردار جہاز کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل بحریہ کے سربراہان اس بارے میں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔
مرکز کی مودی حکومت دفاعی پیداوار میں خود کفیل ہونے پر زور دے رہی ہے۔ لیکن تیسرے کیریئر کے لیے درکار فنڈز ابھی تک دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔

وائس ایڈمرل اے کے چاولہ (ریٹائرڈ) کہتے ہیں ’80 کی دہائی میں، اقتصادی لبرلائزیشن کے بعد، چین سمجھ گیا تھا کہ بحری طاقت میں اضافہ کیے بغیر، وہ عالمی طاقت کے طور پر نہیں ابھرے گا۔ ہمارے پاس سب سے طاقتور بحریہ ہے اور وہ بہت تیزی سے نئے طیارے بنا رہے ہیں۔‘
’آپ راتوں رات ایک کیریئر نہیں بنا سکتے۔ اس میں وقت لگتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم وکرانت جیسے مزید جہاز لائیں جو ہمارے بیڑے کی دور دور تک حفاظت کر سکیں اور دشمن کے جہازوں کو تباہ کر سکیں۔‘
منصوبے کی تاریخ
پہلی بار حکومت نے اس جہاز کی منظوری جنوری 2003 میں دی تھی۔ سال 2007 میں پہلا معاہدہ ہونے کے بعد کام شروع ہوا۔
لیکن جہاز کی تعمیر کے دوسرے مرحلے میں تاخیر ہوئی، خاص طور پر جب اس میں روس سے ہتھیار اور پروپلشن سسٹم اور ایوی ایشن کمپلیکس نصب کرنے تھے۔
سی ایس ایل کے چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر مدھو نائر کے مطابق اس جہاز کو بنانے میں 13 سال لگے۔ وہ کہتے ہیں، ’13 سال بہترین وقت نہیں ہے، ہم بہتر کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم یہ پہلی بار کر رہے تھے۔‘

وکرانت کی تخلیق کے ساتھ ہی اس شپ یارڈ کا خود پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔ اب وہ مزید صلاحیت حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور انڈیا کا اگلی نسل کا طیارہ بردار بحری جہاز 2024 میں تیار ہو جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ نئے کیریئر کی تعمیر کی منظوری جلد مل جائے گی۔‘
وکرانت کو بنانے کے لیے 20,000 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اس جنگی جہاز کی 76 فیصد آلات انڈیا میں تیار ہوئے۔
بحریہ اور سی ایس ایل دونوں اسے بھارتی دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کے مطابق گزشتہ 13 سالوں میں جہاز سازی کے شعبے میں تقریباً 15 ہزار نوکریوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔










