انڈیا کا پہلا نجی خلائی راکٹ جو ایک نئے دور کا آغاز ہے

سکائی روٹ

،تصویر کا ذریعہSKYROOT

    • مصنف, اروندے مکھر جی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز دلی

ناگا بھرت ڈاکا نے سنہ 2018 میں اپنے دوست پون چندنا کے ساتھ شراکت داری میں سکائی روٹ ایئرو سپیس کمپنی کا آغاز کیا تھا۔

خلائی شعبے میں مواقع سے متاثر ہو کر ان دونوں نے انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر ایک نجی کمپنی کی بنیاد رکھی جو خلا میں جانے والے سیٹلائیٹ کے راکٹ پارٹس بنا سکے۔

ان کا یہ خواب انڈیا کے پہلے نجی خلائی راکٹ وکرم ایس کی شکل میں پورا ہو رہا ہے جسے آئی ایس آر او کے سری ہری کوٹا خلائی سینٹر سے لانچ کیا جا رہا ہے۔

انڈیا اب ان چند ممالک میں شامل ہونے جا رہا ہے جہاں نجی کمپنیاں بھی اپنے بڑے راکٹ لانچ کرتی ہیں۔ اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

سکائی روٹ

وکرم ایس کیا ہے؟

وکرم ایس کا نام اسرو کے بانی ڈاکٹر وکرم سارا بھائی کی یاد میں رکھا گیا ہے۔

وکرم سیریز میں تین قسم کے راکٹ لانچ کیے جانے ہیں، جنھیں چھوٹے سائز کے سیٹلائٹ لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

وکرم-1 اس سیریز کا پہلا راکٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وکرم-2 اور 3 زمین کے نچلے مدار میں بھاری وزن پہنچا سکتے ہیں۔

وکرم ایس تین سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچا سکتا ہے۔

ان تینوں میں سے ایک غیر ملکی کمپنی کا ہے جبکہ باقی دو انڈین کمپنیوں کے سیٹلائٹ ہیں۔

سکائی روٹ کی جانب سے راکٹ کا کامیاب تجربہ مئی 2022 میں کیا جا چکا ہے۔

سکائی روٹ کے مطابق وکرم ایس کو 12 سے 16 نومبر کے درمیان لانچ کیا جانا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے اسے 18 نومبر کو لانچ کیا جائے گا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

انڈیا کی خلائی انڈسٹری

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ انڈیا کی خلائی انڈسٹری کے لیے ایک اہم وقت ہے جس کو کم خرچ میں باہمت مشن مکمل کرنے کی وجہ سے سراہا جاتا ہے۔

خلائی تحقیق پر انڈیا چین اور امریکہ کے مقابلے میں بہت کم پیسہ خرچ کرتا ہے۔ اس وقت انڈیا عالمی خلائی مارکیٹ کا صرف دو فیصد حصہ ہے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ اصلاحات اس سیکٹر کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔

انڈیا نے خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کو 2020 میں راکٹ اور سیٹلائیٹ بنانے کی اجازت دی تھی۔ ان کمپنیوں کو اسرو کی لانچنگ سہولیات استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔

ان سپیس نامی سینٹر، جسے انڈین حکومت نے نجی کمپنیوں اور اسرو کے درمیان رابطے کے لیے بنایا، کے سربراہ پون گوئینکا کہتے ہیں کہ انڈیا عالمی خلائی مارکیٹ میں اہم حصہ بن سکتا ہے جو کم از کم آٹھ سے دس فیصد تک ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسرو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حکومتی اندازوں کے مطابق انڈیا کی خلائی انڈسٹری کی 2019 میں مالیت کا تخمینہ سات ارب ڈالر تھا جو 2024 تک 50 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔

سکائی روٹ وہ پہلی نجی کمپنی تھی جس نے اسرو سے معاہدہ کیا۔ اس کے بعد سے 100 سے زیادہ نئی کمپنیاں شامل ہو چکی ہیں۔

اب تک تقریبا 10 نجی کمپنیاں مصنوعات تیار کر چکی ہیں یا کرنے والی ہیں۔ ڈگانٹرا نامی کمپنی خلا میں موجود ملبے کی جانچ کر رہی ہے جبکہ دھرووا، اگنیکل، بیلاٹرکس اور پکسیل نامی کمپنیاں بھی اپنا نام بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کے داخلے نے نوجوانوں کو بھی ایک موقع دیا ہے کہ وہ باہر جانے کے بجائے ملک میں ہی اپنے خواب پورے کر سکیں۔

25 سالہ ہمانی ورشنے سکائی روٹ میں انجینیئر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ایئروسپیس انجینیئرز کے پاس کافی مواقع ہیں۔

سکائی روٹ

،تصویر کا ذریعہSKYROOT

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرو اب ایک قابل بھروسہ ادارہ بنا چکا ہے۔ خلائی مشن بھیجنے کے ساتھ ساتھ اسرو نے 30 ممالک کو 400 کے قریب سیٹلائیٹ بھجوانے میں مدد کی ہے۔

گوئینکا کا کہنا ہے کہ انڈیا دوسرے ممالک کے لیے کم قیمت پر راکٹ اور سیٹلائیٹ بنا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت انڈیا میں تیار ہونے والا سامان مقامی استعمال کے لیے ہے۔ لیکن دوسرے ملکوں کے لیے مصنوعات کی تیاری ایک بڑا کاروبار بن سکتا ہے۔‘

یوکرین اور روس کے درمیان جنگ نے بھی انڈیا کے لیے نئے راستے کھولے ہیں۔ لندن کی سیٹلائیٹ کمپنی ون ویب، جس کی مالی معاونت انڈیا کی بھارتی ٹیل کمپنی کرتی ہے، نے روسی راکٹس کے استعمال پر پابندی کے بعد انڈیا کا رخ کر لیا ہے۔

اکتوبر میں اسرو کی مدد سے ون ویب کے 36 سیٹلائیٹ خلا میں بھیجے گئے۔ ون ویب مجموعی طور پر 648 سیٹلائیٹ خلا میں بھجوانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

راہول واتس ون یب کے انڈیا میں موجود ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ انڈیا کے لیے اچھا ہوا کیوں کہ ہمیں مواقع مل گئے۔ روس کی کمی کو اسرو کی صلاحیتوں سے پورا کیا جا سکتا ہے۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ کہتے ہیں کہ ایک بار ’جب انڈیا 30-40 سیٹلائیٹ خلا میں بھیج دے گا تو دنیا کی مارکیٹ کا دیکھنے کا انداز بدل جائے گا۔‘

تاہم نجی کمپنیوں کو کئی مسائل کا بھی سامنا ہے۔

لیفٹینینٹ جنرل اے کے بھٹ انڈین سپیس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیاں راتوں رات منافع نہیں کما سکتیں۔

’یہ ایک وقت طلب کاروبار ہے جس میں ایک راکٹ لانچ کا ارادہ بناتے ہیں، پھر اسے ڈیزائن کرتے ہیں، سیٹلائیٹ ڈیزائن کرتے ہیں اور اسے لانچ کرتے ہیں، پھر مارکیٹ تلاش کرتے ہیں اور منافع کمانے کا وقت آتا ہے۔ تو کئی کاروباری لوگ صرف اس وقت آئیں گے جب پیسہ آنا شروع ہو گا۔‘

گوئینکا کا کہنا ہے کہ ’یہ آسان سیکٹر نہیں ہے۔ اس میں کئی سال محنت کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر اس محنت کا پھل ملتا ہے۔‘