سریشا بندلا: خلا میں جانے والی دوسری انڈین خاتون جو ہمیشہ ’آسمان سے عشق میں مبتلا رہی‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
سریشا بندلا کے ارب پتی برطانوی تاجر رچرڈ برینسن کے ساتھ ورجن گیلیکٹک کے راکٹ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر خلا میں جانے پر انڈین شہری بہت خوش ہیں۔
اتوار کے روز رچرڈ برینسن کے ساتھ خلا سے واپس آنے والوں میں سریشا بندلا بھی شامل تھیں۔ انڈیا میں پیدا ہونے والی کلپنا چاولا کے بعد بندلا خلا میں جانے والی دوسری انڈین خاتون ہیں۔
سنہ 2003 میں زمین پر لوٹتے وقت کولمبیا سپیس شٹل ایک حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں کلپنا چاولہ کی موت ہو گئی تھی۔
اتوار کو ورجن گیلیکٹک کا راکٹ امریکہ میں نیو میکسیکو سے روانہ ہوا اور ایک گھنٹے میں ہی زمین پر واپس آ گیا۔ سر رچرڈ برینسن نے اس سفر کو اپنی زندگی کا ایک خاص تجربہ کہا ہے۔
اتوار کے اس خلائی دورے نے برینسن کو خلائی سیاحت کا لیڈر بنا دیا ہے، ایک برطانوی تاجر جو خود اپنے طیارے میں خلا میں گئے۔
اس سفر کے بعد انھوں نے ایمازون کے جیف بیزوس اور سپیس ایکس کے ایلون مسک کو پیچھے چھوڑ دیا جو خود بھی خلائی سیاحت کی سمت کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@priyankac19
بندلہ خلائی سائنس میں دلچسی رکھتی تھیں، اور اب وہ ورجن گیلیکٹک کے سرکاری امور کی نائب صدر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کے دادا نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ’شروع سے ہی وہ آسمان سے عشق میں مبتلا رہی ہے اورہمیشہ آسمان کو دیکھتی رہتی تھی اور سوچتی تھی کہ خلا میں کیسے جایا جائے اور وہاں کیا ہے۔‘
آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور میں پیدا ہوئیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ماہ کے شروع میں بندلا نے ٹویٹ کیا تھا کہ وہ خلا میں جانے والے راکٹ کے پانچ رکنی عملے کا حصہ ہوں گی۔ اس تاریخی دورے نے انڈیا میں خاص طور پر آندھرا پردیش میں کافی جوش و خروش پیدا کیا کیوںکہ سریشا ضلع گنٹور میں پیدا ہوئی تھیں۔
جیسے ہی یہ راکٹ زمین پر واپس آیا سوشل میڈیا پر انھیں مبارکباد کے پیغامات دیے جانے لگے۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا کے نائب صدر وینکیا نائیدو نے ٹویٹ کر کے انھیں مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے لکھا ’سریشا کا یہ کارنامہ انڈیا اور بیرون ملک کی بہت سی نوجوان لڑکیوں کو اپنے کیریئر کے دوران چیلنجز کا سامنا کرنے میں حوصلہ افزائی کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@anandmahindra
صنعت کار آنند مہندرا نے لکھا ہے ’انڈین خواتین نہ صرف نئی بلندیوں پر پہنچ رہی ہیں بلکہ وہ اس زمین کی تمام حدود کو توڑ کرخلا میں قدم رکھ رہی ہیں۔‘
رکن اسمبلی پرینکا چترویدی نے سریشا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کمال کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
’یونٹی‘ نامی یہ راکٹ 85 کلومیٹر کی اونچائی تک گیا تھا۔ سر رچرڈ برینسن نے پرواز سے واپسی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بچپن سے ہی اس لمحے کا خواب دیکھا کرتا تھا لیکن سچ پوچھیں تو ایسی کوئی بھی چیز نہیں جو آپ کو خلا سے زمین کو دیکھنے کے لیے تیار کر سکے یہ پورا ماحول جادوئی لگ رہا تھا۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار برائے سائنسی امور جوناتھن ایموس کا کہنا ہے کہ سر رچرڈ برینسن نے سنہ 2004 میں خلائی جہاز بنانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔
ان کا خیال تھا کہ سنہ 2007 تک وہ اس کی کمرشل سروس شروع کر دیں گے لیکن تکنیکی چیلنجز کی وجہ سے یہ خلائی منصوبہ ان کے کیریئر کی سب سے مشکل کوشش بن گیا تھا۔













