خلائی ملبے زمین پر گرنے میں اضافہ ہوا ہے یہ انسان یا املاک کے لیے کس قدر خطرہ ہے؟

خلائی ملبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رواں سال کے آغاز میں زمین کے غیر متوقع مقامات پر خلائی ملبہ گرنے کے دو الگ الگ واقعات رونما ہوئے۔

چینی لانگ مارچ 5بی راکٹ کے بے قابو ہو کر دوبارہ زمین کے مدار میں داخل ہونے کے بعد جولائی میں اس کے آسٹریلیا کے نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے میں گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان کے بارے میں اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ سپیس ایکس کریو-1 مشن سے گرنے والے ملبے تھے۔

جیسے جیسے خلائی صنعت بڑھ رہی ہے یہ کہنا بے جا نہیں کہ اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہی ہو گا اور ان سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ لیکن خلائی ملبہ زمین پر گرنا کتنا بڑا خطرہ ہو سکتا ہے؟

خلائی ملبے سے مراد خلا میں انسانوں کی جانب سے بھیجے جانے والے نظام ہیں جن کے ناکارہ یا فالتو ہو جانے والے پرزے زمین پر آ گرتے ہیں۔ یہ کوئی سیٹلائٹ بھی ہو سکتی ہے جو اپنی زندگی پوری کر چکی ہو (جیسا کہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن سنہ 2031 میں اپنی آپریشنل زندگی کے اختتام پر پہنچ جائے گا) یا کسی راکٹ سسٹم کے وہ حصے بھی جو خلا میں اپنا کام پورا کر چکے ہوں اور اب متروک کر دیے گئے ہوں۔

اب تک چین نے خلا میں تین لانگ مارچ 5بی راکٹ لانچ کیے ہیں اور تینوں کو دانستہ طور پر بے قابو مدار میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پتا نہیں یہ کب اور کہاں جا کر گریں گے۔

جہاں تک سپیس ایکس کے ملبے کا تعلق ہے جو کہ آسٹریلیا کے برفانی پہاڑوں میں گرے تو اس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سپیس ایکس اپنے راکٹس کو پورے کنٹرول کے ساتھ مدار سے باہر چھوڑتا ہے اور اسے اس طرح ڈیزائن کرتا ہے کہ جب وہ زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہوں تو وہ جل جائیں۔

لیکن جیسا کہ آپ نے تازہ ترین خبروں میں دیکھا کہ یہ کام ہمیشہ منصوبے کے مطابق نہیں ہوتے۔

تو خلائی ملبہ واقعی کتنا خطرناک ہے؟

جہاں تک ہم جانتے ہیں اب تک روئے زمین پر صرف ایک شخص ہی خلا سے گرنے والے ملبے کی زد میں آیا ہے۔ امریکی ریاست اوکلاہوما کی رہائشی لوٹی ولیمز کو سنہ 1997 میں کندھے پر ایک ٹکڑا لگا تھا لیکن انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ گرنے والی یہ ٹکڑا تقریباً ان کے ہاتھ کے سائز کا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ڈیلٹا-2 راکٹ سے آیا تھا۔

مز لوٹی نے اسے اٹھایا، گھر لے کر آئیں اور اگلے دن حکام کو اس کی اطلاع دی۔

لیکن جوں جوں زیادہ سے زیادہ سسٹم، راکٹ اور خلائی سٹیشن خلا میں جا رہے ہیں، ان کے واپس زمین پر آ کر کسی انسان یا املاک سے ٹکرانے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ یہ خاص طور پر لانگ مارچ 5بی جیسی بڑی اور بے قابو اشیا کے بارے میں سچ ہے۔

راکٹ کا یہ ماڈل تین بار لانچ کیا گیا ہے۔ پہلا 11 مئی 2020 کو دوبارہ زمیں کی فضا میں داخل ہوا اور اس کے حصے آئیوری کوسٹ کے دو دیہاتوں پر گِرے۔ دوسرا 9 مئی 2021 کو مالدیپ کے قریب گرا جبکہ تیسرا دوبارہ زمین کی فضا میں انڈونیشیا اور ملائیشیا کے آسمان پر داخل ہوا اور اس کے مبلے ان جزائر کے گرد گرے۔

تو کیا ہمیں پریشان ہونا چاہیے؟

کسی کو خلائی ملبے سے چوٹ لگنے کے امکانات بہت کم ہیں اور اس کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں لیکن زیادہ تر یہ کہا جاتا ہے کہ دس ہزار میں سے یہ کسی ایک کو لگ سکتا ہے۔ یہ دنیا میں کہیں بھی کسی بھی شخص کو لگ سکتا ہے۔ تاہم، اس کے کسی خاص شخص کے لگنے کے امکانات (جیسے آپ یا میں) ایک کھرب میں سے ایک کی ترتیب میں ہے۔

سنہ 2014 میں برازیل کے سیناپولس کے پاس ایک خلائی ملبہ گرا تھا جس پر برطانوی خلائی ایجنسی کا لوگو تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں برازیل کے سیناپولس کے پاس ایک خلائی ملبہ گرا تھا جس پر برطانوی خلائی ایجنسی کا لوگو تھا

ان اندازوں یا تخمینوں کے پس پشت کئی عوامل کارفرما ہیں، لیکن آئیے فی الحال صرف ایک اہم بات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ایک تصویر میں اس راستے کو دکھایا گیا ہے جو حالیہ لانگ مارچ 5بی وائی-3 نے اپنے آخری 24 گھنٹوں میں لیا (مختلف اشیا مختلف مداری راستے اختیار کرتی ہیں) اس کے ساتھ اس کے دوبارہ زمین کی فضا میں داخلے کو سرخ رنگ میں نشان زد کیا گیا ہے۔

اس میں یہ نظر آتا ہے ہے کہ راکٹ زمین کے اوپر کافی وقت تک چکر لگاتا ہے۔

خاص طور پر، ان مداروں میں یہ اپنے وقت کا تقریباً 20 فیصد وقت زمین پر گزارتا ہے۔ ایک وسیع تخمینہ ہمیں بتاتا ہے کہ 20 فیصد زمین آباد ہے، جس کا مطلب ہے کہ کسی آباد علاقے میں لانگ مارچ 5بی کے دوبارہ داخل ہونے کا صرف چار فیصد امکان ہے۔

یہ بہت زیادہ لگ سکتا ہے۔ لیکن جب آپ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ 'آبادی والی زمین' اصل میں کتنے لوگوں سے گھری ہوئی ہے، تو چوٹ لگنے یا موت ہونے کے امکان مین نمایاں طور پر کمی ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دوسری طرف املاک کو نقصان پہنچنے کا امکان زیادہ ہے۔ لانگ مارچ 5بی کے دوبارہ داخل ہونے کی صورت اس کا بھی امکان زیادہ سے زیادہ ایک فیصد ہو سکتا ہے۔

بہر حال خلائی ملبے سے پیدا ہونے والے مجموعی خطرے میں اشیا کی بڑی تعداد میں لانچ کیے جانے اور فضا میں دوبارہ واپس ہونے کے ساتھ اضافہ ہوگا۔ دنیا بھر میں کمپنیوں اور خلائی ایجنسیوں کے موجودہ منصوبوں میں مزید بہت سے لانچ شامل ہیں۔

چین کا تیانگونگ خلائی اسٹیشن سنہ 2022 کے آخر تک مکمل ہونے والا ہے۔ اور جنوبی کوریا حال ہی میں ایک ٹن سے زیادہ وزنی سیٹلائٹ پے لوڈ لانچ کرنے والا ساتواں ملک بن گیا ہے جبکہ وہ اپنے خلائی شعبے کو (جاپان، روس، بھارت اور متحدہ کے ساتھ۔ عرب امارات) کے ساتھ بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

اس کے نتیجے میں اس بات بہت زیادہ امکان ہے کہ ملبے سے چوٹ کھانے کے خدشات صرف بڑھنے ہی والے ہیں (لیکن امید ہے کہ اس کے باوجو یہ بہت کم رہیں گے)۔

ہم بچنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں؟

دو سوالات ذہن میں آتے ہیں: کیا ہم ملبے کے دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہونے کی پیشین گوئی کر سکتے ہیں، اور ہم خطرے کو کم کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

آئیے پیشین گوئیوں کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔ اس معاملے میں پیشین گوئی کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے کہ مدار میں کوئی بے قابو چیز زمین کی فضا میں کہاں داخل ہو گی۔ عام اصول کے مطابق دوبارہ داخلے کا متوقع وقت مدار کے وقت کا دس سے فیصد ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے دس گھنٹے میں دوبارہ داخل ہونے کی پیشن گوئی کا مطلب تقریباً ایک گھنٹے کا غیر یقینی مارجن ہوگا۔ لہذا اگر کوئی چیز ہر 60-90 منٹ میں زمین کے گرد چکر لگا رہی ہے، تو وہ کسی بھی وقت کہیں بھی داخل ہو سکتی ہے۔

اس غیر یقینی صورتحال کے مارجن کو بہتر بنانا ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کے لیے بہت زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ہم 1,000 کلومیٹر (621 میل) کے فاصلے پر کسی چیز کے دوبارہ داخلے کے مقام کی زیادہ درستگی سے پیش گوئی کر سکیں گے۔

خطرے کو کم کرنے کے طریقے

خطرے کو کم کرنا ایک چیلنج ہے، تاہم چند آپشنز موجود ضرور ہیں۔

سب سے پہلے زمین کے مدار میں بھیجی جانے والی تمام اشیاء کو اس طرح ڈیزائن کیا جائے کہ وہ غیر آبادی والے علاقے میں مدار سے نکل کر گرے۔ یہ عام طور پر ایس پی او یو اے (جنوبی بحر الکاہل کا غیر آباد علاقہ) ہے، جسے 'خلائی جہاز کا قبرستان' بھی کہا جاتا ہے۔

اس میں اجزاء کا احتیاط سے ڈیزائن کرنا بھی شامل ہے تاکہ وہ دوبارہ زمین کی حد میں داخل ہونے پر وہ مکمل طور پر ٹوٹ جائیں۔ اگر زمین کی اوپری فضا سے ٹکرانے پر ہر چیز جل جائے تو پھر کوئی خاص خطرہ باقی نہیں رہے گا۔

خلائی ملبے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے پہلے سے ہی کچھ رہنما خطوط موجود ہیں جیسے کہ بیرونی خلائی سرگرمیوں کی طویل مدتی پائیداری کے لیے اقوام متحدہ کے رہنما خطوط، لیکن ان کے طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

مزید یہ کہ، یہ رہنما اصول بین الاقوامی سطح پر کیسے لاگو ہوتے ہیں، اور کون ان کو نافذ کر سکتا ہے؟ ایسے سوالات ابھی بھی جواب طلب ہیں۔

خلاصہ یہ کہ کیا آپ کو کسی خلائی ملبے کی زد میں آنے کی فکر کرنی چاہیے؟ تو اس کا جواب ابھی کے لیے، نہیں ہے۔ کیا مستقبل کے لیے خلائی ملبے پر مزید تحقیق ضروری ہے؟ تو اس کا جواب بالکل ہاں ہے۔