لاہور کی پرندہ مارکیٹ ’راتوں رات‘ مسمار: ’جانوروں کے ملبے تلے دبنے کا دعویٰ درست نہیں‘

پرندہ مارکیٹ، ایل ڈی اے

،تصویر کا ذریعہLDA

،تصویر کا کیپشنلاہور ڈیوپلمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ’جانوروں اور پرندوں کی ہلاکت کی خبر بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے‘
    • مصنف, نازش ظفر
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر لاہور میں واقع داتا دربار کے قریب واقع پالتو جانوروں کی ایک مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران درجنوں دکانیں مسمار کی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ بلڈوزر چلائے جانے سے پہلے انھیں اپنی دکانوں سے سامان نکالنے کا موقع نہیں دیا گیا جبکہ بعض نے الزام لگایا کہ دکانوں میں موجود پرندے اور جانور 'ملبے تلے زندہ دب گئے۔'

اگرچہ کچھ ویڈیوز میں پرندہ مارکیٹ میں موجود دکانداروں کو ملبے سے جانور نکالتے دیکھا جا سکتا ہے تاہم لاہور ڈیوپلمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران 'جانوروں اور پرندوں کی ہلاکت کی خبر بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔'

ان کا مزید کہنا ہے کہ 'سوشل میڈیا انفلویئنسرز کی جانب سے ایسی منفی باتیں کرنے کا مقصد ریٹنگ اور ویورشپ حاصل کرنا ہے۔'

پرندہ مارکیٹ کے خلاف آپریشن کیوں کیا گیا؟

پانچ نومبر کو لاہور میں علی الصبح دربار اور بھاٹی چوک ری ماڈلنگ اور توسیعی منصوبے کے تحت ایل ڈی اے، ٹیپا، محکمہ اوقاف اور پولیس کے تعاون سے مارکیٹ گرائے جانے کی کارروائی کی گئی تھی جس میں مقامی میڈیا کے بقول قریب 165 دکانیں مسمار کی گئیں۔

ایل ڈی اے کے مطابق داتا دربار ’ری ماڈلنگ منصوبے‘ میں 16 کنال سرکاری جگہ کا حصہ ہے اور اس پر موجود تجاوزات گرا کر جگہ کلیئر کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف لاہور میں تاجر رہنما اور سرکلر روڈ بورڈ کے عہدیدار عادل منیر نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دکانداروں کو ’لہر‘ پروگرام کے تحت متبادل جگہ دی جانی تھی۔

لاہور، پرندہ مارکیٹ

،تصویر کا ذریعہLDA

،تصویر کا کیپشندکانداروں کے احتجاج کے بعد سوشل میڈیا پر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد اور تنظیمیں بھی پنجاب حکومت کے اس اقدام پر شدید ردعمل دے رہی ہیں۔

اس سرکاری منصوبے میں ٹکسالی گیٹ سے قلعے تک کے علاقے 'چابی کے بدلے چابی' یعنی تجاوزات میں دکان سے ہٹا کر نئی تعمیر شدہ انڈر گراؤنڈ مارکیٹ میں جگہ دی جانی تھی۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ راتوں رات داتا دربار توسیع پروگرام کے تحت مارکیٹ بغیر کسی وارننگ کے گرا دی گئی۔

دوسری جانب ایل ڈی اے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مارکیٹ غیر قانونی تھی اور اسے خالی کرنے کے لیے کئی بار نوٹسسز دیے گئے تھے۔

آپریشن کی وجہ سے جانوروں کے ملبے تلے دبنے کے دعوؤں سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ بیانات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔

ادھر دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ انھیں دکانیں خالی کرنے کی مہلت نہیں دی گئی اور ان کے لاکھوں مالیت کے پالتو جانور زندہ ہی ملبے تلے دب گئے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ریسکیو کیے گئے جانوروں میں سے اکثر زخمی، بھوکے اور صدمے سے بے حال ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

’کسی کو رحم نہیں آیا‘

دکانداروں کے احتجاج کے بعد سوشل میڈیا پر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد اور تنظیمیں بھی پنجاب حکومت کے اس اقدام پر شدید ردعمل دے رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دکانیں تجاوزات میں شامل تھیں یا غیر قانونی تھیں، تب بھی جانوروں کو وہاں سے نکالنے کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔

لاہور میں جانوروں کے ریسکیو اور تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ٹاڈز ویلفیئر سوسائٹی نے اس واقعے کی مذمت کی اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی۔

اس حوالے سے بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر ایل ڈی اے کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر موجود اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے ایسی ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ دکاندار سرکاری اہلکاروں کی مدد سے جانوروں کو دکانوں سے نکال کر ایک ٹرک میں منتقل کر رہے ہیں۔