لاہور میں چلنے والی گاڑیوں کا دُھواں چیک کرنے کا حکومتی منصوبہ کیا ہے اور یہ کتنا قابل عمل ہے؟

لاہور ایمیشن ٹیسٹنگ، گاڑیاں، دھواں
،تصویر کا کیپشنلاہور میں چلنے والی لگ بھگ 13 لاکھ گاڑیوں کے کاربن اخراج کو کم کرنے کے منصوبے کے تحت شہر بھر میں ایمیشن ٹیسٹنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں لگ بھگ 13 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی ہیں اور اب صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ اُن میں ہر ایک گاڑی سے نکلنے والے دھوئیں میں نقصاندہ ’کاربن مونو آکسائیڈ‘ کی شرح چھ فیصد سے کم ہو۔

صوبائی حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ اس ضمن میں اُس کے پاس ہر وقت مصدقہ اطلاعات موجود ہوں تاکہ وہ اس پابندی پر عملدرآمد یقینی بنا سکے۔

مگر شہر میں چلنے والی ہر گاڑی سے خارج ہونے والی ’کاربن مونو آکسائیڈ‘ کی شرح چھ فیصد سے کم رہے اور حکومت اس سے باخبر رہے، آخر یہ کیسے ممکن ہے؟

اس کے لیے پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں چلنے والی ہر گاڑی کے لیے اس کے سائلنسر یا ایگزاسٹ سے نکلنے والے دھوئیں کا تجزیہ کروانا لازمی ہے۔ جو گاڑی یہ ٹیسٹ نہیں کروائے گی اس کو جرمانے کا سامنے کرنا پڑے گا۔

جرمانے کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے دی گئی مدت ختم ہونے کے بعد ایسی گاڑیوں کو سڑک پر نہیں آنے دیا جائے گا۔

تاہم پنجاب میں پہلے سے ہی اس حوالے سے قوانین بھی موجود ہیں اور ادارے بھی، لیکن ان احکامات پر عملدرآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ تو سوال یہ ہے کہ اس مرتبہ لوگ ان نئے احکامات پر عملدرآمد کیوں کریں گے؟

اس کے لیے حکومت کا منصوبہ ہے کہ ہر گاڑی پر ایک تصدیقی سٹیکر لگانا لازم ہو گا۔ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد جس گاڑی پر یہ سٹیکر نہیں ہو گا، اس کو جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور آگے چل کر اسے سڑک پر آنے سے بھی روک دیا جائے گا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ابتدا میں سٹیکرز لگوانے کی آخری تاریخ 30 جون مقرر کی گئی تھی تاہم بعدازاں اسے بڑھا کر 31 اگست کر دیا گیا ہے۔

ٹیسٹ اور سٹیکر لگانے کے کام کی ذمہ داری ماحولیاتی تحفظ کے محکمے یعنی ’انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی‘ (ای پی اے) کو دی گئی ہے۔ ای پی اے میں حال ہی میں بننے والی ایک نئی انوائرنمنٹ پروٹیکشن فورس ابتدائی طور پر یہ کام کر رہی ہے۔

ای پی اے نے شہر میں مختلف مقامات پر سینٹرز قائم کیے ہیں جہاں ان دنوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ یہاں سے شہری اپنی گاڑی کا ٹیسٹ کروا کر تصدیقی سٹیکرز لگوا رہے ہیں۔

انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عمران حامد شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’اس وقت تک ایک لاکھ سے زیادہ گاڑیوں کو ’ایمیشن ٹیسٹ‘ کے سٹیکرز لگائے جا چکے ہیں۔‘

تاہم سوال یہ ہے کہ حکومت یہ کام کیوں کر رہی ہے اور وہ یہ کیسے یقینی بنائے گی کہ وہ اس منصوبے پر مکمل طور پر عملدرآمد کروانے میں کامیاب ہو؟ وہ یہ کیسے یقینی بنائے گی کہ دیگر کئی حکومتی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی شروع ہونے کے کچھ عرصہ بعد بند نہیں ہو جائے گا؟

بہت سے سوالات ایسے بھی ہیں جو گاڑیاں چلانے والوں کے ذہن میں ہوں گے۔ مثال کے طور پر اس ٹیسٹ کی ضرورت کیوں ہے اور کس قسم کی گاڑی اس ٹیسٹ میں پاس ہوتی ہے؟ کیا پرانی گاڑیاں یہ ٹیسٹ فیل کریں گی؟

کاربن مونو آکسائیڈ کا اخراج چھ فیصد سے کم کیوں ہونا چاہیے؟

لاہور ایمیشن ٹیسٹنگ، گاڑیاں، دھواں
،تصویر کا کیپشنایمیشن ٹیسٹ کے دوران گاڑی کے ایگزاسٹ کے ساتھ ایک آلہ لگایا جاتا ہے جو چند سیکنڈز میں اس سے نکلنے والے دھوئیں کا تجزیہ کر دیتا ہے

پاکستان کے دوسرے بڑے گنجان آباد شہر لاہور کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ موسم سرما میں انتہائی مضر صحت سموگ لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ہے اور اس کی بنیادی وجہ لاہور میں حد سے بڑھی فضائی آلودگی ہے۔

حکام کے مطابق اس فضائی آلودگی میں سب سے بڑا حصہ ٹرانسپورٹ کے دھوئیں کا ہے۔ اس دھوئیں میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ فضا کو آلودہ کرتی ہے۔

ڈی جی ای پی اے پنجاب عمران حامد شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومتی قوانین کے مطابق گاڑیوں کے دھوئیں کے اخراج میں کاربن مونو آکسائیڈ کی شرح چھ یا اس سے کم ہونا لازمی ہے۔ اگر یہ چھ سے زیادہ ہو تو وہ فضا کو انتہائی آلودہ کرتی ہے۔

’ہم یہ چاہتے ہیں کہ لاہور میں چلنے والی گاڑیاں کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج کے چھ فیصد کے اندر رکھیں تاکہ ہمیں یقین ہو کہ وہ فضا کو آلودہ کرنے کا سبب نہیں بن رہے۔ تو یہ لاہور میں فضائی آلودگی کم کرنے کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔‘

ایمیشن ٹیسٹ کے دوران گاڑی کے ایگزاسٹ کے ساتھ ایک آلہ لگایا جاتا ہے جو چند سیکنڈز میں اس سے نکلنے والے دھوئیں کا تجزیہ کر دیتا ہے۔ اگر اس میں کاربن مونو آکسائیڈ کی شرح چھ فیصد سے کم ہو تو گاڑی پر سٹیکر لگا دیا جاتا ہے۔

اگر یہ شرح چھ فیصد سے زیادہ ہو تو گاڑی کو فیل کر دیا جاتا ہے۔ اس صورت میں گاڑی چلانے والے کو انجن کی ضروری دیکھ بھال کروا کر دوبارہ ٹیسٹ کے لیے آنا ہوتا ہے۔

ایسا منصوبہ کتنا پائیدار ہو گا؟

لاہور ایمیشن ٹیسٹنگ، گاڑیاں، دھواں
،تصویر کا کیپشنسینٹرز پر ان دنوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں

حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ اس عمل کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ لاہور میں چلنے والی کوئی گاڑی فضائی آلودگی کا سبب تو نہیں بن رہی اور حکومت اس حوالے سے مکمل طور پر آگاہ رہنا چاہتی ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ ایک مرتبہ اگر یہ عمل کامیابی سے مکمل ہو بھی جاتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کچھ عرصہ بعد بھی یہ منصوبہ اسی طرح چلتا رہے گا۔

ڈی جی ای پی اے عمران حامد شیخ کہتے ہیں کہ ان کے محکمے کے لیے اس منصوبے کی پائیداری ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ اس کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کی پائیداری کو یقینی بنایا گیا ہے۔

’ابتدائی مرحلے میں گاڑیوں کی جانچ پڑتال اور انسپیکشن کا کام ای پی اے کر رہا ہے تاہم آگے چل کر ہم مستند ٹیسٹنگ نجی لیبارٹریز اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں۔ پھر یہ کام پرائیویٹ سیکٹر کے پاس چلا جائے گا اور ای پی اے صرف انفورسمنٹ کرے گا۔‘

عمران حامد شیخ نے بتایا کہ جوں جوں گاڑیاں پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے تصدیقی سٹیکرز لگواتی جائیں گی ویسے ہی ای پی اے انفورسمنٹ کی طرف جاتا جائے گا جو اس کا بنیادی کام ہے۔

’ای پی اے پھر یہ دیکھے گا کہ جن گاڑیوں پر سٹیکر نہیں لگے ہوئے ان کو جرمانہ کرے اور ان کی گاڑیاں بند کرے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح یہ منصوبہ چلتا رہے گا جس میں اس کا انحصار کسی حکومتی ادارے پر نہیں ہو گا۔

ایسی صورت میں شفافیت کیسے ممکن ہو گی؟

لاہور ایمیشن ٹیسٹنگ، گاڑیاں، دھواں
،تصویر کا کیپشناگر کاربن مونو آکسائیڈ کی شرح چھ فیصد سے کم ہو تو گاڑی پر سٹیکر لگا دیا جاتا ہے

اس قسم کے منصوبوں کی تکمیل میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج شفافیت کو برقرار رکھنے کا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کیا اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ کوئی گاڑی ٹیسٹ فیل کرنے کے باوجود پاس ہونے کا تصدیقی سٹیکر لگوا لے۔

اور جب یہ منصوبہ پرائیویٹ سیکٹر کے پاس چلا جائے گا تو حکومت اس بات کو کیسے یقینی بنائے گی کہ وہاں کسی مصلحت کے تحت غلط گاڑیوں پر سٹیکر نہیں لگائے جا رہے؟

ڈی جی ای پی اے کے مطابق انھیں ان تمام امکانات کا ادراک تھا اس لیے اس منصوبے کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

’اس میں کوئی بھی کاغذی کارروائی نہیں ہے۔ اس میں تمام تر ڈیٹا ڈیجیٹل ہے۔ ہر قسم کا ڈیٹا ڈیجیٹلی ٹرانسفر ہوتا ہے اور اس کی ہر زاویے سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ہر سٹیکر کے اوپر ایک کیو آر کوڈ دیا گیا ہے۔ اس کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ گاڑی کہاں پر، کس وقت اور کب ٹیسٹ کی گئی۔ اس کا ایمیشن لیول کیا تھا اور کتنے عرصے بعد اس کو دوبارہ ٹیسٹ ہونا تھا۔

،ویڈیو کیپشنلاہور کا 14 ملین ٹن کوڑے کا ڈھیر کہاں غائب ہو گیا؟

عمران حامد شیخ کے مطابق گاڑی کو موقع پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کی نمبر پلیٹ کی تصویر اور اس کے ٹیسٹ کی تصویر لے کر یہ تمام ڈیٹا ایک موبائل ایپ میں داخل کی جاتی ہے۔ اس ایپ میں صرف لائیو تصویر ڈالی جا سکتی ہے، لائبریری سے لے کر تصویر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اسی طرح ایپ اس گاڑی کے جی پی ایس کواڑڈینیٹس بھی ریکارڈ کر لیتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ گاڑی پر بغیر ٹیسٹ کروائے سٹیکر نہیں لگایا جا سکتا۔ اسی طرح اس کی ٹیسٹنگ کے تصاویری شواہد ایپ میں محفوظ ہو جاتے ہیں جن کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

’ساتھ ہی ہم اپنے انسپکٹرز کو صرف اتنے ہی سٹیکرز دیتے ہیں جتنے اس دن میں لگائے جا سکتے ہیں اور ان کا ریکارڈ انھوں نے شام میں آ کر جمع کروانا ہوتا ہے۔‘

ڈی جی ای پی اے کے مطابق اس نظام میں تصدیق کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس منصوبے کے ’ہوسٹنگ رائٹس‘ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے پاس ہیں۔ وہ ایک تھرڈ پارٹی کے طور پر اس تمام ڈیٹا کی تصدیق کر کے اس میں سے کسی بھی قسم کی کوتاہی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

کون سی گاڑی ٹیسٹ فیل کرتی ہے؟

لاہور ایمیشن ٹیسٹنگ، گاڑیاں، دھواں
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق بغیر گاڑی ٹیسٹ کروائے سٹیکر نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ ٹیسٹنگ کے تصاویری شواہد ایپ میں محفوظ ہو جاتے ہیں جن کی تصدیق کی جا سکتی ہے

ڈی جی ای پی اے عمران حامد شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پرانی گاڑی ہر حال میں ایمییشن ٹیسٹ میں فیل ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق گاڑی کے پرانے یا نئے ہونے سے نہیں ہے۔

’اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ گاڑی کی دیکھ بھال وقت پر اور کتنے اچھے طریقے سے کی گئی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا آئل وغیرہ وقت پر تبدیل کیا جائے اور اس کے فلٹرز وغیرہ اور دیگر پرزہ جات وقت پر بدلے جائیں۔‘

عمران حامد شیخ کے مطابق ان کے مشاہدے میں ایسی بہت سی گاڑیاں آئی ہیں جو نئی ہونے کے باوجود ٹیسٹ پاس نہیں کروا سکیں جبکہ کئی پرانی گاڑیوں کے ایمیشن لیول انتہائی موزوں تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کی گاڑی ایمیشن ٹیسٹ میں فیل ہو جاتی ہے تو وہ دوبارہ اس کو ٹھیک کروا کر واپس آ کر ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔

ڈی جی ای پی اے عمران حامد شیخ کے مطابق گاڑیوں کے ایمیشن لیول غلط آنے میں ایک بڑا حصہ ان میں استعمال ہونے والے ایندھن یا فیول کا بھی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ادارہ گاڑیوں کو چیک کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کے پیٹرول پمپس کو بھی چیک کر رہا ہے تاکہ فیول کی کوالٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔

لاہور ایمیشن ٹیسٹنگ، گاڑیاں، دھواں
،تصویر کا کیپشنحکام کے مشاہدے میں ایسی بہت سی گاڑیاں آئی ہیں جو نئی ہونے کے باوجود ٹیسٹ پاس نہیں کر سکیں

اس سے فضائی آلودگی کو کتنا کم کیا جا سکے گا؟

لاہور میں لگ بھگ 13 لاکھ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ تقریباً 50 لاکھ کے قریب موٹر سائیکلیں بھی سڑکوں پر چل رہی ہیں جبکہ بھاری گاڑیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے جو ہر روز ایک بڑی تعداد میں باہر سے بھی لاہور میں داخل ہوتی ہیں۔

ڈی جی ای پی اے عمران حامد شیخ کے مطابق بھاری گاڑیاں فضائی آلودگی پھیلانے کا ایک بڑا سبب ہیں کیونکہ یہ ایندھن کے طور پر ڈیزل استعمال کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان گاڑیوں کو چیک کیے بغیر ٹرانسپورٹ کے دھوئیں میں آلودگی پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ای پی اے لاہور میں داخل ہونے والی تمام بھاری گاڑیوں کو ایمیشن کے لیے ٹیسٹ کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ اس کے مطابق شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے ہر آنے والی گاڑی کو ٹیسٹ کیا جائے گا۔

’اس کے بعد انھیں سات روز کا وقت دیا جائے گا کہ وہ اپنی گاڑی کو ٹھیک کروائیں اور اگر اس کے بعد بھی وہ ایمیشن ٹیسٹ فیل کریں گے تو ان کو لاہور میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔‘

ڈی جی ای پی اے کے مطابق یہ تمام اس بڑے منصوبے کے حصے ہیں جس کا مقصد لاہور میں گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پانا ہے۔