’خاندان کو 45 سال دیے، اب اپنا شوق پورا کرنا چاہتی ہوں‘: خاتون جو جیب خرچ جمع کر کے سکوٹر پر تنہا سیاحت کرتی ہیں

،تصویر کا ذریعہJaspreet Kaur
- مصنف, نوجوت کور
- عہدہ, بی بی سی نیوز
’میں نے اپنی زندگی کے 45 سال اپنے خاندان، شوہر اور بچوں کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے گزارے ہیں اور اب وقت ہے کہ میں تنہا گھومنے پھرنے کا اپنا شوق پورا کرنا چاہتی ہوں۔‘
46 سالہ جسپریت کور نے حال ہی میں انڈین پنجاب سے تامل ناڈو تک تقریباً 6,000 کلومیٹر کا سفر اپنی سکوٹر ایکٹیوا پر کیا وہ بھی تن تنہا۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر لیہہ اور لداخ تک کا سکوٹر پر اکیلے سفر کرنے والی جسپریت کور کہتی ہیں کہ ’اب میں اپنے شوق پورے کرنا چاہتی ہوں۔‘
’مجھے سفر کا شوق تھا اس لیے میں اپنی ایکٹیوا لے کر کبھی لداخ جاتی اور کبھی جنوبی شہر رامیشورم۔‘
یاد رہے کہ انڈین پنجاب سے لداخ کا سفرتقریباً 1400 کلومیٹر ہے۔
اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ ضلع موہالی کے شہر کھرار میں رہنے والی جسپریت کور کچھ عرصے قبل تک ایک مکمل گھریلو خاتون رہی ہیں لیکن پھر انھوں نے اپنے شوق پورے کرنے کی ٹھانی۔
جسپریت کور ایکٹیوا پر اکیلے دو بار لداخ کا سفر کر چکی ہیں۔ اپنے لداخ کے پہلے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنا لداخ کا سفر کھرار سے شروع کیا۔ میں ایک دن میں کم از کم 250 کلومیٹر ایکٹیوا چلاتی ہوں۔‘
’لداخ جانے کے لیے میں منالی، پانگ اور سرچو کے راستے لداخ گیی اور سری نگر اور جموں کے راستے واپس کھرار پہنچی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہJaspreet Kaur
حال ہی میں سوشل میڈیا پر شہرت رکھنے والے کشور نے جسپریت کور کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اکیلے سوٹ پہنے ایکٹیوا پر لداخ کی پہاڑیوں میں گھوم رہی ہیں
اس ویڈیو میں کشور نے جسپریت کور سے ان کے سفر کے شوق کے بارے میں بات چیت کی۔ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
جسپریت نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں اپنی ایکٹیوا پر دور دور تک سفر کرنے میں دلچسپی کے بارے میں بتایا۔
سفر میں دلچسپی کی وجہ کیا بنی

،تصویر کا ذریعہJaspreet Kaur
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سپریت کور کا کہنا ہے کہ نوجوانی سے ہی انھیں شوق تھا کہ وہ سکوٹر چلا کر دنیا کی سیر کریں تاہم شادی کے بعد وہ گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے یہ شوق پورا نہ کر سکیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے سفر کرنا پسند ہے لیکن کار، ٹرین یا بس میں سفر کرنا پسند نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ ٹرین یا بس کے ذریعے سفر میں ان راستوں سے لطف اندوز نہیں ہوں گے جو آپ کوآپ کی منزل تک لے جاتے ہیں۔ یہ مزار مجھے ایکٹیوا سے ملتا ہے۔‘
’دوسری بات یہ کہ میں سکوٹر کو اچھی طرح سے چلانا جانتی ہوں۔ اسی لیے میں نے اپنی پسند کی سواری پر پورے انڈیا کا سفر کرنے کی ٹھانی۔‘
جسپریت کہتی ہیں کہ وہ پہلے ایکٹیوا پر اکیلی لداخ گئیں۔ اب انھوں نے لداخ کے دو ٹور کیے ہیں جبکہ تمل ناڈو اور پریاگ راج بھی جا چکی ہیں۔
جسپریت نے گوا، ممبئی، لداخ، آگرہ، جموں و کشمیر، لیہہ،لداخ، رامیشورم جیسے کئی مقامات پر خود تن تنہا سفر کیا اور لطف اندوز ہوئیں۔
جسپریت کہتی ہیں کہ وہ گھر کا سامان لانے کے لیے ہمیشہ ایکٹیوا کا استعمال کرتی ہیں لیکن پہلی بار انھوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ سکوٹر پر 70 سے 80 کلومیٹر کا سفر کیا تھا۔
اس سفر کے بعد سے ان کے بیٹے نے ان کی مسلسل حوصلہ افزائی کی کہ وہ اسکوٹی پر سفر کیا کریں۔ اس کے بعد ماں اور بیٹا دونوں سکوٹر پر اتراکھنڈ کے ہیم کنٹ صاحب گئے۔
پھر یہ سلسلہ شروع ہوا اور تقریباً چار سال پہلے جسپریت نے اکیلے لداخ جانے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے اپنے بیٹے اور شوہر سے بات کی۔ شوہر نے سکیورٹی کلیئرنس دینے کے بعد جانے سے انکار کردیا لیکن بیٹا مان گیا۔ جس کے بعد بیٹے نے اپنی ماں کو اکیلے لداخ جانے کی ترغیب دی اور اس سفر کی منصوبہ بندی میں بھی مدد کی۔
تیاری میں شامل ضروری لوازمات

،تصویر کا ذریعہJaspreet Kaur
جسپریت کہتی ہیں کہ سکوٹر کو طویل فاصلے تک سفر کے لیے استعمال کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس میں خرچا بھی کم آتا ہے۔
ان کے مطابق ’سکوٹر کے پیٹرول کی قیمت کم ہے، کئی جگہوں پر ٹول ٹیکس بھی نہیں دینا پڑتا جبکہ اس کی مرمت یا مینٹینس کم خرچ ہے۔‘
جسپریت کہتی ہیں کہ ہر نئے ٹور پر جانے سے پہلے وہ گھر پر رہ کر سب سے پہلے ہر ماہ اپنے شوہر سے ملنے والے جیب خرچ میں سے پیسے بچاتی ہیں۔ چار سے پانچ مہینے بچت کے بعد ٹور پر جانے کی تیاری کرتی ہیں۔
ان کے بیٹے ارشدیپ کے مطابق جسپریت جہاں بھی جاتی ہیں اس کی پلاننگ میں یو ٹیوب سے بھی مدد لیتی ہیں۔
’ہم ایک روٹ میپ تیار کرتے ہیں کہ رات کو کہاں رہنا ہے، کہاں جانا ہے اور پھر روانگی سے ایک یا دو دن پہلے سکوٹر پوری طرح سے سروس کروائی جاتی ہے۔‘
راستے کی مشکلات
تو کیا اکیلی عورت کا سکوٹر پر گھومنا محفوظ ہے، کیا انھیں کبھی ڈر نہیں لگتا؟
اس کے جواب میں جسپریت کور نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں پنجابی ہوں، اگر کوئی الزام لگاتا ہے تو میں اس کا خیال رکھوں گی۔
تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ ’پہلے تو وہ اکیلے سکوٹر کو نئی جگہ لے جانے سے ڈرتی تھیں لیکن اب انھوں نے خود ہی سب کچھ ہینڈل کرنا (سنبھالنا) سیکھ لیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’لداخ کی پہاڑیوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے سکوٹر لے جانا کبھی کبھی مشکل لگتا ہے لیکن راستے میں آپ کی مدد کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی ہوتا ہے۔‘
تاہم جسپریت کا دعویٰ ہے کہ جب بھی ان کی سکوٹر میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے، وہ خود ہی اسے حل کرتی ہیں۔
’میں اپنی سکوٹر میں ایئر پمپ، انجن آئل، میڈیکل کٹ، پنکچر کٹ، خشک خوراک اور پانی کی بوتلیں رکھتی ہوں۔ جہاں بھی رات آتی ہے وہاں میں ٹھہرجاتی ہوں، میں رات نو بجے کے بعد سکوٹر نہیں چلاتی اور صبح پانچ بجے دوبارہ سفر شروع کرتی ہوں۔‘
’بیوی کا خواب پورا کرنا میرا فرض ہے‘
جسپریت کہتی ہیں کہ ان کا شوق اپنی جگہ تاہم صرف اپنے خاندان کے تعاون سے وہ اس خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
ان کے بیٹے ارشدیپ کا کہنا ہے کہ ’میں اپنی والدہ کو فون استعمال کرنے کا طریقہ سمجھاتا ہوں اور جب وہ گھر پر نہیں ہوتیں تو میں اور میرے والد اپنا کھانا اور سبزیاں خود بناتے ہیں۔‘
جسپریت کور کے شوہر دیویندر سنگھ ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں مشکل وقت سے گزر رہا تھا تو میری اہلیہ ہی میرے ساتھ کھڑی تھیں اور اب جب ان کے خواب پورا کرنے کی باری ہے تو میرا فرض ہے کہ میں اس کا ساتھ دوں اور اسے دنیا کی سیر کا شوق پورا کرنے دوں۔‘
دونوں باپ بیٹے فخر سے کہتے ہیں کہ جب جسپریت کور 10 دن گھر سے باہر ہوتی ہیں تو وہ دونوں گھر کے سارے کام ایک ساتھ کرتے ہیں۔
’ہم میں سے ایک شخص روٹی بناتا ہے اور ایک سبزی تیار کرتا ہے۔ لیکن کوئی بھی جسپریت کور کو جلدی گھر واپس آنے کو نہیں کہتا۔ ہر روز ہم دونوں فون پر جسپریت کور کی صحت دریافت کرتے ہیں۔‘













