انڈین وزیر خارجہ: 'آج چین کے ساتھ سرحد پر جتنی انڈین فوج ہے پہلے کبھی نہیں تھی'

ایس جے شنکر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ ملک نے چین کے ساتھ متنازع سرحد پر فوجیوں کی تعیناتی میں غیر معمولی سطح تک اضافہ کیا ہے۔

ایس جے شنکر نے مزید کہا کہ انڈیا چین کو سرحد پر موجود صورت حال کو 'یکطرفہ طور پر تبدیل' نہیں کرنے دے گا۔

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں سرحد کے ساتھ ایک متنازع علاقے میں انڈین اور چینی افواج کے درمیان جھڑپوں کے چند بعد دن ان کا یہ بیان بعد سامنے آیا ہے۔

انڈیا نے کہا ہے کہ یہ تصادم چینی فوجیوں کی طرف سے 'تجاوزات' کی وجہ سے شروع ہوا۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق سرحد پر صورتحال 'عام طور پر مستحکم' ہے اور دونوں فریق اس معاملے پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انڈیا اور چین کے درمیان 3,440 کلومیٹر (2,100 میل) طویل ڈی فیکٹو سرحد ہے جسے مشترکہ طور پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول یا ایل اے سی کہا جاتا ہے اور اس کی ناقص حدبندی ہے۔ دونوں طرف کے سپاہی کئی مقامات پر آمنے سامنے رہتے ہیں، اور بعض اوقات کشیدگی بڑھ کر تصادم یا جھڑپوں میں بدل جاتی ہے۔

دونوں فریق جون سنہ 2020 میں مغرب کی طرف لداخ کے علاقے وادی گلوان میں ہونے والے شدید پرتشدد جھگڑے کے بعد سے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تصادم میں 20 انڈین فوجی اور کم از کم چار چینی فوجی مارے گئے تھے۔

انڈین فوجی

،تصویر کا ذریعہANI

تازہ جھڑپ

کشیدگی کی تازہ ترین لہر ایک سال سے زیادہ عرصے میں پہلی بار 9 دسمبر کو اٹھی، اور اس کے نتیجے میں چند فوجیوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ انڈین فوج نے کہا کہ فریقین فوری طور پر علاقے جھگڑا بند کر دیا اور الگ الگ ہو گئے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مسٹر جے شنکر سوموار کو میڈیا کمپنی انڈیا ٹوڈے کی طرف سے منعقد ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے اس واقعہ سے متعلق سوالات کا جواب دے رہے تھے۔

انھوں نے کہا: 'آج چین کی سرحد پر انڈین فوج کی جنتی تعیناتی ہے اس سے قبل کبھی نہیں تھی۔ یہ چینی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گيا ہے۔ انڈین فوج آج ایل اے سی کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کرنے کے لیے تعینات ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

چین نے ابھی تک ان کے تبصروں کا جواب نہیں دیا ہے۔

تازہ ترین تصادم نے گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک سیاسی ہنگامہ برپا کر دیا تھا، حزب اختلاف کی جماعتوں جماعتوں کی جانب سے سرحدی صورتحال پر فوری بحث کے مطالبے کو مسترد کیے جانے کے بعد انھوں نے پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔

انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے حکومت پر چین کی دھمکی کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ چین کی افواج سرحد پر انڈین فوجیوں کو 'مار پیٹ' رہی ہیں۔

سوموار کو پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر جے شنکر نے کہا کہ مسٹر گاندھی کے الفاظ نے انڈین فوجیوں کی 'بے عزتی' ہیں اور اس بات سے انکار کیا کہ حکومت صورتحال سے لاتعلق ہے۔

انہوں نے کہا: 'اگر ہم چین سے لاتعلق تھے تو انڈین فوج کو سرحد پر کس نے بھیجا؟ اگر ہم چین سے لاتعلق تھے تو آج ہم چین پر کشیدگی کم کرنے اور تخفیف کے لیے دباؤ کیوں ڈال رہے ہیں؟'