انڈیا میں ہولی کے دوران جاپانی لڑکی کو ہراساں کرنے والے’تین نوجوان گرفتار‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہندوؤں کے تہوار ہولی کے موقع پر ایک جاپانی لڑکی کے ساتھ بدتمیزی اور ہراسانی کا معاملہ سامنے آیا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولس نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے ایک لڑکا نابالغ بھی ہے۔
اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں کچھ نوجوان لڑکی کو غلط انداز سے رنگ لگاتے نظر آ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کافی بحث اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وائرل ویڈیو میں یہ نوجوان لڑکی کے سر پر انڈے توڑتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں جبکہ لڑکی بھی ان حرکتوں سے کافی بے چین اور پریشان نظر آ رہی ہے۔
دلی کی خواتین کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال کہتی ہیں کہ ’انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں کچھ مرد ایک جاپانی خاتون پر ہولی کے رنگ لگا رہے ہیں، جس سے وہ ہراساں ہوئیں اور انھوں نے مدد کے لیے پکارا لیکن وہ مرد نہیں رکے۔ ہم دلی پولیس کو نوٹس بھیج رہے ہیں۔ ان مردوں کو پہچان کر جیل میں ڈالنا چاہیے۔‘
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق معاملہ سامنے آنے کے بعد دہلی سینٹرل ڈسٹرکٹ پولیس نے جانچ شروع کر دی ہے اور اس معاملے میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اے این آئی کے مطابق ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنجے کمار سین نے بتایا کہ ویڈیو دہلی کے پہاڑ گنج علاقے کے قریب کی لگتی ہے۔
’اس کا نوٹس لیا گیا اور یہ جاننے کے لیے تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ کب اور کہاں ہوا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بہرحال دلی پولیس کے مطابق ہولی کے دن کسی بھی غیر ملکی سیاح نے پہاڑ گنج پولس سٹیشن میں کسی بھی طرح کے ناروا سلوک کی شکایت نہیں کی تاہم اے این آئی کی خبر کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ایک نابالغ سمیت تین لڑکوں کو حراست میں لیا گیا اور ان نوجوانوں سے واقعے کی تصدیق بھی کر لی گئی ہے۔
خبر کے مطابق ’ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ سبھی پہاڑ گنج علاقے کے رہنے والے ہیں اور ہولی کی مستی میں یہ حرکت کر بیٹھے۔‘
ان نوجوانوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
اے این آئی کے مطابق خاتون سے رابطہ کرنے کے لیے پولیس نے جاپانی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے اور ای میل کے ذریعے لڑکی کی شناخت اور واقعے کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں مقیم جاپانی شہریوں کی تفصیلات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب انگریزی روزنامہ ’دی ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق متاثرہ لڑکی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش پہنچ چکی ہیں اور انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک سنگین معاملہ بن جائے گا۔
’دی ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق ہولی کے دوران ایسی کئی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں سے کئی پرانی بھی تھیں۔ لوگوں نے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور پولیس اور خواتین کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔
’زندگی میں پہلی بار میرے ساتھ ہراسانی ہوئی‘
انڈین فیکٹ چیکر محمد زبیر کے مطابق متاثرہ جاپانی لڑکی نے خود اپنے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کی ویڈیو شیئر کی تھی اور بعد میں اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
حذف شدہ ویڈیو میں متاثرہ لڑکی نے کہا کہ ’میں معذرت چاہتی ہوں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ صورتحال اس قدر سنگین ہوجائے گی۔ میں اب ٹھیک ہوں۔ کل اس پر وضاحت دوں گی۔‘
انھوں نے مزید لکھا تھا کہ ’میری زندگی میں پہلی بار مجھ پر انڈا پھینکا گیا اور مجھے ہراساں کیا گیا۔‘
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ لڑکے انھیں رنگ لگاتے ہوئے ان سے بدتمیزی کر رہے ہیں، جس کے بعد وہ ایک لڑکے کو تھپڑ بھی مارتی ہیں۔
سکرین رائٹر رام سبرامنین نے اس جاپانی لڑکی والی وائرل ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک جاپانی سیاح انڈیا میں۔ تصور کریں کہ یہ آپ کی بہن، ماں یا بیوی ہوتی اور اسے دوسرے ملک میں ایسے سلوک کا سامنا ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت آپ کو سمجھ میں آتا۔‘
سویڈن کی اپسلا یونیورسٹی کے پروفیسر اشوک سوائیں نے ایک دوسری وائرل ویڈیو، جس میں دو برقعہ پوش خواتین کو رنگوں والے غبارے سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، شیئر کرتے ہوے لکھا کہ ’انڈیا میں خواتین کے لیے ہولی ڈراؤنا خواب بن کر رہ گئی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اس موقع پر کچھ پرانی ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں جس میں سے ایک میں ایک غیر ملکی خاتون پہلے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو دکھاتی ہیں اور پھر بیان کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کی بدسلوکی کی گئی تھی۔
عارف ایوب نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’وہ اس بارے میں جاننے کے لیے سنجیدہ ہیں کہ رنگ لگانا کب مذہبی اہمیت کا حامل ہو گیا؟ کب یہ ایک ایسی روایت میں بدل گیا، جب بے ہودہ گیت، نعرے بازی اور بغیر اجازت خواتین کے ساتھ جسمانی بدسلوکی کی جائے۔‘
واضح رہے کہ انڈیا میں اور دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو لاکھوں ہندو عقیدت مندوں نے رنگوں کا تہوار ہولی منایا۔ یہ بہار کے آغاز اور ’برائی پر اچھائی کی فتح کا جشن‘ کہلاتا ہے۔ یہ تہوار قمری مہینے کے آخری پورے چاند کے دن منایا جاتا ہے۔
لوگ اس دن کو اپنے دوستوں اور اہلخانہ پر رنگ ڈال کر مناتے ہیں، پوجا کرتے ہیں اور اس دن سے قبل والی رات برائی کو علامتی طور پر ختم کرنے کے لیے الاؤ جلاتے ہیں تاکہ اچھائی کی فتح ہو سکے۔






