’پسند ہو یا نہ ہو، فوجیں رکھنی ہوں گی‘: بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات دنیا کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ کیسے بن رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
- عہدہ, ماحولیات کے نامہ نگار
دنیا بھر کی افواج خبردار کر رہی ہیں کہ انھیں اپنے ہتھیاروں کا از سرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ماحولیاتی تباہی دنیا کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن رہی ہے، حالانکہ ان (فوجوں) کے اپنے کاربن اخراج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ماحولیاتی تباہی کو مزید تیز کر سکتا ہے۔
مزید یہ کہ دنیا بھر میں ممکنہ طور پر طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ سے مستقبل قریب میں فوجی اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے کاربن اخراج میں بھی اضافہ ہو گا۔
ماہرین کو یہ تشویش بھی لاحق ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ اور اس کے اثرات سے ہم آہنگی کے لیے مختص وسائل دفاعی شعبے کی نذر ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZhang Wei/China News Service/VCG via Getty Images
فوجیں اصل میں کاربن کے کتنے فیصد اخراج کی ذمہ دار ہیں؟
دنیا بھر کی افواج کے باعث پیدا ہونے والے اخراج کے اعداد و شمار کے لیے کوئی واحد اور آڈٹ شدہ ذریعہ موجود نہیں ہے، تاہم بعض حکومتیں یہ اعداد و شمار رضاکارانہ طور پر جاری کرتی ہیں۔
کچھ ماہرین نے اندازوں اور حساب کتاب کی بنیاد پر ایک عالمی جائزہ تیار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق: ’موجودہ بہترین اندازے ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر کا فوجی شعبہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے کل اخراج کا تقریباً 3.3 فیصد سے سات فیصد تک ذمہ دار ہے۔‘
اگر دنیا کی تمام افواج کو ایک ملک تصور کیا جائے تو وہ چین، امریکہ اور انڈیا کے بعد دنیا کا چوتھا سب سے بڑا کاربن کے اخراج والا ملک شمار ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ نتیجہ 2022 میں برطانیہ کی ایک تنظیم ’کانفلکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری‘، جو فوجی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات پر تحقیق کرتی ہے، اور ’سائنٹسٹس فار گلوبل ریسپانسبلٹی‘ کی ایک مشترکہ تحقیق میں سامنے آیا تھا۔
دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے فوجی بجٹ اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2024 میں دنیا بھر کے فوجی اخراجات 2.7 کھرب ڈالر تک پہنچ گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.4 فیصد زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا کے 100 سے زائد ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا، جن میں یورپ اور مشرقِ وسطیٰ سب سے نمایاں ہیں۔
اسی سال کے آغاز میں نیٹو نے اعلان کیا کہ اس کے رکن ممالک اپنے دفاعی اور سلامتی کی مد میں اخراجات کو 2035 تک مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے دو فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد تک لے جائیں گے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب 2021 سے 2023 کے دوران نیٹو کے رکن ممالک کے فوجی کاربن اخراج میں تین کروڑ ٹن کا اضافہ ہوا اور اسی مدت میں دفاعی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بین الاقوامی تحقیقی و وکالتی ادارے ٹرانس نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ اضافہ سڑکوں پر آٹھ ملین سے زائد نئی گاڑیاں لانے کے برابر ہے۔
سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والی افواج
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اصل چیلنج یہ ہے کہ بھاری فوجی ہتھیاروں کے نظام جیسے لڑاکا طیارے، ٹینک، جنگی جہاز اور آبدوزوں کو کس طرح ڈی کاربنائز کیا جائے، کیونکہ ان کے چلنے کے لیے بے پناہ ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لڑاکا طیارے سب سے زیادہ توانائی کھانے والی مشینوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک معروف تحقیق کے مطابق امریکی فوج میں گذشتہ پچاس برسوں کے دوران صرف جیٹ ایندھن امریکی محکمہ دفاع (جسے اب امریکی محکمہ جنگ کہا جاتا ہے) کی کل توانائی کھپت کا 55 فیصد رہا ہے۔
2022 میں نیچر جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق امریکی فضائیہ کا ایف-35 لڑاکا طیارہ ہر 100 ناٹیکل میل (185 کلومیٹر) کی پرواز میں اتنا ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جتنا ایک عام برطانوی پیٹرول کار پورے سال میں کرتی ہے۔
تحقیق میں مزید کہا گیا کہ ہر سال امریکی فوج میں جیٹ ایندھن کے استعمال سے ہونے والا اخراج چھ ملین امریکی مسافر گاڑیوں کے برابر ہے۔

،تصویر کا ذریعہHakan Akgun/Anadolu via Getty Images
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اس کے باوجود امریکہ نے 2024 میں اپنے فوجی اخراجات میں پچھلے سال کے مقابلے میں 5.7 فیصد اضافہ کیا اور دفاع پر دنیا میں سب سے زیادہ پیسے خرچ کرنے والے ملک کے طور پر برقرار رہا۔
کانفلکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری سے وابستہ ڈگ ویئر کہتے ہیں ’ہتھیاروں کے ذخائر بڑھانے کے لیے فوجی پیداوار میں اضافہ بے پناہ توانائی کا تقاضا کرتا ہے جبکہ کم کاربن کے اخراج والی فوجی ٹیکنالوجی میں پیش رفت اب تک بہت محدود رہی ہے۔‘
واضح ترجیحات
بی بی سی نے امریکی محکمہ جنگ سے یہ سوال کیا کہ بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کاربن اخراج پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں اور کیا ان کے فوجی شعبے کو ڈی کاربنائز کرنے کے کوئی منصوبے ہیں۔
پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے بی بی سی کو ای میل کے ذریعے جواب دیتے ہوئے کہا: ’امریکی محکمہ جنگ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ان پروگرامز اور اقدامات کو ختم کر رہا ہے جو محکمے کے بنیادی جنگی مشن سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہم اپنی اصل توجہ جنگی صلاحیت میں اضافے، لڑائی کی تیاری اور مہارت بہتر بنانے پر مرکوز کر رہے ہیں۔ یہ تین طریقوں سے کیا جا رہا ہے: جنگجوؤں کے عزم کو بحال کرنا، اپنی فوج کی دوبارہ تعمیرِ نو کرنا اور مزاحمتی قوت کو دوبارہ قائم کرنا۔‘
نیٹو کو بھی اسی نوعیت کے سوالات بھیجے گئے لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کی جانب سے بڑھتے ہوئے کاربن اخراج کو متوازن کرنے کی کوششیں مؤثر نہیں ہیں۔
برسلز میں یورپین آرگنائزیشن آف ملٹری ایسوسی ایشنز اینڈ ٹریڈ یونینز کے سینئر پالیسی افسر دیمترا کوتوزی نے کہا: ’فی الحال، ڈی کاربنائزیشن کی کوششیں دوبارہ ہتھیاروں کی تیاری کے بڑے بجٹ کے مقابلے میں نہایت معمولی ہیں۔‘
انھوں نے خبردار کیا: ’یورپی دفاعی صنعتیں توانائی کی بچت اور پائیداری کو اپنی منصوبہ بندی میں شامل کرنے کا آغاز کر رہی ہیں، لیکن جو نظام آج تیار ہو رہے ہیں ان کے عملی طور پر استعمال کے قابل ہونے میں ابھی کئی سال لگیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہSyed Mahamudur Rahman/NurPhoto via Getty Images
جنگ کی قیمت
اگرچہ اس چیز کا حتمی اندازہ لگانا مشکل ہے کہ تنازعات کے نتیجے میں ماحولیاتی نقصان کی حقیقی قیمت کیا ہے، تاہم کچھ موجودہ جنگیں اس کے اثرات میں شدت کی عکاسی کرتی ہیں۔
2024 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق روس یوکرین جنگ کے پہلے دو سالوں کے دوران تقریباً 1.75 کروڑ ٹن گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوئیں۔

مئی میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق اسرائیل غزہ جنگ کے دوران براہِ راست فوجی سرگرمیوں سے تقریباً 1.9 ملین ٹن کاربن کا اخراج ہوا جو کہ 36 الگ الگ ممالک اور خطوں کے سالانہ اخراج سے بھی زیادہ ہے۔
برطانوی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اور سابق سینئر نیٹو اہلکار رچرڈ نیوجی کہتے ہیں ’چاہے وہ تیز رفتار لڑاکا طیارہ ہو، فریگیٹ ہو یا ٹینک، ہمارے پاس ابھی وہ ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جو کاربن کے اخراج کے بغیر انھیں آپریشنل کر سکے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’اس لیے ہمیں حقیقت کو قبول کرنا ہو گا کہ جب تک یہ ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہوتی، ہم کاربن کے اخراج کو اتنا کم نہیں کر پائیں گے جتنا ہم چاہتے ہیں۔‘
اس کا مطلب ہے کہ دفاع کے لیے زیادہ پیسہ خرچ کرنے کا نتیجہ ماحولیاتی مالی معاونت کے لیے کم رقم کی صورت میں نکلتا ہے۔
ستمبر میں جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے لیے سالانہ مالی خلا پہلے ہی چار کھرب ڈالر ہے، جس کا نصف حصہ خاص طور پر توانائی اور ماحولیاتی ضروریات کے لیے مختص ہے۔
رپورٹ میں مزید انتباہ کیا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ خسارہ بڑھ کر 6.4 کھرب ڈالر ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی فوجی اخراجات 2035 تک 6.6 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا کے سب سے امیر ممالک اپنے فوجی اخراجات پر ان ممالک کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں جو ماحولیاتی بحران سے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSean Gallup/Getty Images
حال ہی میں آذربائیجان میں ہونے والی کوپ 29 ماحولیات کے متعلق مذاکرات کے دوران ترقی یافتہ ممالک نے 2035 تک ہر سال 300 ارب ڈالر (248 ارب پاؤنڈ) فراہم کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ ترقی پذیر ممالک کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے سب سے سنگین اثرات سے نمٹنے کے لیے ہر سال ایک کھرب ڈالر (741 ارب پاؤنڈ) سے زیادہ کی ضرورت ہے۔
پانامہ کے موسمیاتی تبدیلی کے نمائندے جوآن کارلوس مونٹری رے گومیز نے نومبر 2024 میں باکو، آذربائیجان میں کوپ 29 کے مذاکرات کے دوران کہا ’عالمی فوجی اخراجات تقریباً 2.5 کھرب ڈالر (1.9 کھرب پاؤنڈ) سالانہ ہیں۔ ایک دوسرے کو مارنے کے لیے 2.5 کھرب ڈالر بہت زیادہ نہیں، لیکن جانیں بچانے کے لیے ایک کھرب ڈالر غیر منطقی ہے۔‘
لیکن اب یہ شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا پہلے کیے گئے وعدے بھی پورے کیے جائیں گے یا نہیں۔
اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے مطابق، امداد دینے والے 11 ممالک نے 2025 سے 2027 کے لیے اپنی سرکاری ترقیاتی امداد (جس میں ماحولیاتی مالی معاونت بھی شامل ہے) میں کمی کا اعلان کیا ہے۔
مثال کے طور پر برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ دفاعی سرمایہ کاری بڑھائے گا، لیکن امداد کے اخراجات کو مجموعی قومی آمدنی کے 0.5 فیصد سے کم کر کے 2027 تک 0.3 فیصد تک لے آئے گا۔
ریٹائرڈ جنرل نیوجی نے کہا ’چاہے ہمیں پسند ہو یا نہیں، ہمیں فوجیں رکھنی ہی ہوں گی۔‘
’جنگ میں فوجی اخراج کو بڑھنے سے روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے سے مضبوط فوج ہو جو ایک مزاحمتی قوت کے طور پر کام کرے اور نیٹو اور برطانیہ یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
تاہم کچھ لوگ یہ سوال بھی کر سکتے ہیں کہ کیا مضبوط فوجیں واقعی لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے بچا سکتی ہیں، یا اس کے اثرات کو تیز کر دیں گی؟













