سائنسدان قدرت کی نامعلوم پانچویں قوت کو ثابت کرنے کے قریب

،تصویر کا ذریعہREIDAR HAHN / FERMILAB
- مصنف, پلاب گوش
- عہدہ, نامہ نگار برائے سائنس، بی بی سی
سائنسدانوں نے کہا ہے کہ وہ قدرت میں ایک نئی پانچویں قوت کی ممکنہ موجودگی کو دریافت کرنے کے قریب ہیں۔
سائنسدانوں کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ ’میووانز‘ کے نام سے پہچانے جانے والے ذیلی جوہری ذرات اُس طریقے سے برتاؤ نہیں کر رہے ہیں جس کی پیشگوئی سب اٹامک فزکس میں فی الوقت رائج نظریے میں کی گئی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کوئی نامعلوم قوت ان میووانز پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
اگرچہ ان نتائج کی تصدیق کے لیے مزید ڈیٹا کی ضرورت ہو گی تاہم اگر اس نامعلوم قوت کی موجودگی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ فزکس کی دنیا میں ایک انقلاب کا آغاز ہو گا۔
اب تک ہمارا جن قدرتی قوتوں سے واسطہ پڑتا ہے ان کی تعداد چار ہے: کشش ثقل، الیکٹرومگنٹزم (برقی مقناطیسیت)، طاقتور قوت اور کمزور قوت۔ سائنسدانوں کے مطابق کائنات میں تمام اشیا اور ذرات کیسے ایک دوسرے سے برتاؤ اور حرکت کرتے ہیں اس کا تعلق ان ہی چار قوتوں پر ہے۔
فرمی لیب میں پہلی بار سنہ 2021 میں قدرت کی اس پانچویں قوت کی موجودگی کی بات کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے ماہرین نے مزید معلومات حاصل کی جن کی روشنی میں اس نئی قوت کی موجودگی کا امکان مزید پیدا ہوا۔

،تصویر کا ذریعہESA/HUBBLE AND NASA
فرمی لیب کے ایک سینیئر سائنسدان ڈاکٹر برینڈن کیسی کا کہنا ہے ’ہم ایک انجان علاقے میں جا رہے ہیں، ہم (پیمائش) کا تعین اس سے بہتر درستی کے ساتھ کر رہے ہیں جتنا یہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ دو سال میں ان کے پاس مزید ڈیٹا آنے کے بعد وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
میووانز نامی ذرات پر جی مائنس ٹو نامی تجربہ کیا جاتا ہے جس میں ان ذرات کو تقریباً روشنی کی رفتار سے ایک دائرے میں گھمایا جاتا ہے۔ اس دوران ماہرین نے دیکھا کہ ان ذرات کی حرکت اس طرح نہیں تھی جو فزکس کے اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔
اب تک جو فزکس کا سٹینڈرڈ ماڈل ہے اس کے مطابق دنیا میں ہر چیز ایٹم سے بنی ہے اور یہ ایٹم مزید چھوٹے ذرات سے بنے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جب حرکت کرتے ہیں تو قدرت میں پائی جانی والی چار قوتیں بنتی ہیں۔
اور یہ قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اس پر پچاس سال سے ایک اتفاق ہے۔
اگر یہ ثابت ہوا کہ میووانز کی حرکت پر کوئی نامعلوم قوت اثر انداز ہو رہی ہے تو ماہرین کے مطابق یہ بات کسی انقلابی پیشرفت سے کم نہیں ہو گی۔
تاہم ماہرین جانتے ہیں کہ کائنات میں ایسی قوتیں موجود ہیں جن کی فزکس کے سٹینڈرڈ ماڈل کے تحت وضاحت نہیں کی جا سکتی اور اس معمے کو سٹینڈرڈ ماڈل سے ماورا فزکس بھی کہا جاتا ہے۔
ان میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ بگ بینگ سے کائنات کے وجود میں آنے کے وقت سے کہکشاؤں کے ایک دوسرے سے دور جانے کا عمل سست ہونے کی بجائے مسلسل تیز ہوا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں اس عمل کی وجہ نامعلوم قوت ہے جسے ’تاریک توانائی‘ کہا جاتا ہے۔
انسانی معلومات کے مطابق کہکشاؤں کے اپنے مرکز کے گرد گھومنے کی رفتار جتنی ہونی چاہیے اس سے تیز ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ ’تاریک مادہ‘ ہے جو سٹینڈرڈ ماڈل کا حصہ نہیں ہے۔












