مارسیل گروسمین: آئن سٹائن کا وہ دوست جس نے انھیں بے روزگاری سے بچایا

آئن سٹائن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مارگریٹ روڈریگز
    • عہدہ, بی بی سی

البرٹ آئن سٹائن نے اپنی زندگی میں ایک قریبی دوست کی تعریف میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

انھوں نے مارسیل گروسمین کی اہلیہ کو بتایا کہ دونوں سوئٹزر لینڈ میں ہم جماعت تھے اور ’اُن کے نوٹس پرنٹ اور شائع کیے جا سکتے تھے۔‘

’جب امتحانات کی تیاری کا وقت ہوتا، تو وہ ہمیشہ مجھے وہ نوٹ بُکس اُدھار دیتے، جو میرے لیے نجات کا سامان تھے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان کتابوں کے بغیر میں کیا کرتا۔‘

فزکس کے شعبے میں سب سے زیادہ ذہین لوگوں میں شمار کیے جانے والے آئن سٹائن کی سوانح عمری ’آئن سٹائن، ان کی زندگی اور کائنات‘ میں، جو والٹر آئزیکسن نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔

دوسری طرف مارسیل بھی آئن سٹائن کی مہارت سے واقف تھے۔ وہ اپنے والدین سے کہتے تھے کہ ’آئن سٹائن ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گا۔‘

دونوں اکثر بات چیت کے لیے کافی شاپ جایا کرتے تھے۔ یہ وہ دوستی تھی جو محض طالب علمی کی زندگی سے آگے نکل گئی تھی۔

آئزیکسن کے مطابق وہ آئن سٹائن کے ’گارڈین اینجل‘ تھے۔ گروسمین کے مطابق ’آئن سٹائن اور میں اکثر عام حالات کا نفسیاتی جائزہ لیا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک گفتگو کے دوران انھوں نے مجھے کہا کہ آپ کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ آپ ’نہ‘ نہیں کہہ سکتے۔‘

پولی ٹیکنک میں دونوں نے ایک ساتھ تعلیم حاصل کی

گروسمین سنہ 1878 میں بڈاپسٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان سوئٹزر لینڈ سے تھا جو انھوں نے اپنے والدین کے ساتھ 15 سال کی عمر میں چھوڑ دیا۔

مارسیل گروسمین

،تصویر کا ذریعہETH-BIBLIOTHEK ZÜRICH, BILDARCHIV

،تصویر کا کیپشنگروسمین کا خاندان سوئٹزر لینڈ سے تھا جو انھوں نے اپنے والدین کے ساتھ 15 سال کی عمر میں چھوڑ دیا

انھوں نے زیورخ پولی ٹیکنک سے تعلیم حاصل کی جسے آج ای ٹی ایچ کہا جاتا ہے۔ وہاں ان کی ملاقات آئن سٹائن سے ہوئی جو فزکس اور ریاضی کے استاد بننے کے لیے پڑھ رہے تھے۔

جرمنی کی مینز یونیورسٹی میں ریاضی اور قدرتی علوم کی تاریخ کے پروفیسر ٹلمین سوئر کا کہنا ہے کہ ’ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ آئن سٹائن نے کلاسز چھوڑ دیں۔ مجھے اس کے بارے میں یقین نہیں، مجھے اس پر شک ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آئن سٹائن اچھے طالب علم تھے۔ وہ کلاسوں میں جاتے تھے لیکن ہم جانتے ہیں کہ امتحانات کی تیاری کے لیے انھوں نے گروسمین کے نوٹس استعمال کیے تھے۔‘

انھیں گروسمین کی شکل میں ایک بہترین ساتھی ملا۔ جب وہ گھر آتے تو گروسمین اپنے نوٹس پر کام کر رہے ہوتے تھے۔

آئزیکسن کے مطابق ’اکتوبر 1898 میں اپنے مڈٹرم امتحانات میں انھوں (آئن سٹائن) نے کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ کل چھ مارکس میں سے ان کی اوسط 5.7 تھی۔ دوسری پوزیشن گروسمین کی تھی جن کی اوسط 5.6 تھی اور ان کی ذمہ داری ریاضی کے نوٹس لینا تھی۔‘

آئن سٹائن کو جب پیٹنٹ آفس میں نوکری دلوائی گئی

اس بات پر اب یقین کرنا مشکل لگتا ہے کہ آئن سٹائن کو پڑھائی کے بعد ملازمت تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

کتاب کے مصنف نے لکھا کہ ’درحقیقت 1900 میں زیورخ پولی ٹیکنک سے گریجویشن کے نو سال بعد تک انھیں کسی یونیورسٹی میں پروفیسر کی نوکری نہیں ملی تھی۔ فزکس میں انقلاب برپا کرنے کے چار سال بعد ان کا ڈاکٹریٹ تھیسس منظور ہوا اور انھیں یونیورسٹی میں پروفیسر کی نوکری کی پیشکش ہوئی۔‘

1900 کے موسم خزاں کے دوران انھوں نے ایک پرائیویٹ استاد کے طور پر تقریباً آٹھ عجیب و غریب ملازمتیں کیں اور یورپی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں کو کئی خطوط بھیجے جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ انھیں نوکری دینے پر غور کریں۔

ٹلمین نے آئن سٹائن کے خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ ٹیچر اسسٹنٹ بننا چاہتے تھے۔ آئزیکسن کا کہنا ہے کہ ’گروسمین نے انھیں خط لکھا کہ اس بات کا امکان ہے کہ برن میں واقع سوئس پیٹنٹ آفس میں سرکاری ملازم کے طور پر کوئی عہدہ ملے۔ گروسمین کے والد ڈائریکٹر کو جانتے تھے اور وہ آئن سٹائن کی سفارش کرنے کے لیے تیار تھے۔‘

آئن سٹائن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآئن سٹائن، ان کی پہلی اہلیہ اور گروسمین تینوں ہم جماعت تھے

آئن سٹائن نے خط کے جواب میں کہا ’پیارے مارسیل! کل جب مجھے آپ کا خط ملا تو میں آپ کی عقیدت اور شفقت سے بہت متاثر ہوا جس نے آپ کو اپنے پرانے بدقسمت دوست کو بھولنے نہیں دیا۔‘

آئن سٹائن کو یہ ملازمت سنہ 1902 میں ملی تھی۔ اب یہ پیٹنٹ آفس خاصا مشہور ہے۔ یہیں کام کرتے ہوئے اس نامعلوم 26 سالہ ’جینیئس‘ نے تھیوری آف سپیشل ریلیٹیویٹی پر اپنا پیپر شائع کیا۔

اسی عہدے پر کام کرتے ہوئے انھوں نے سائنس کے پانچ تحقیقاتی مقالے لکھے جس نے 20ویں صدی کے آغاز میں فزکس کی دنیا میں انقلاب برپا کیا۔

نوکری دلوانے پر آئن سٹائن نے مارسیل کا شکریہ کچھ یوں ادا کیا: ’مارسیل گروسمین نے ایک دوست کے طور پر میرے لیے یہ اب تک کا بہترین کام کیا۔‘

اسی سال ماہر طبیعیات نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ ان کے لیے وقف کر دیا۔

انھوں نے 1909 میں زیورخ یونیورسٹی میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر ایک پوزیشن حاصل کی اور 1911 میں وہ پراگ یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئے۔

پروفیسر گروسمین

شروع سے ہی گروسمین نے علمی دنیا میں اپنا مضبوط مقام بنایا۔ ریاضی کے استاد کے طور پر فارغ التحصیل ہونے کے فوراً بعد، وہ ای ٹی ایچ میں ہی استاد کے معاون کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

ایک استاد اور درس گاہ کے طور پر ان کی لگن ان کے پورے کیریئر کی خصوصیت رہی، جیسا کہ کتاب ’مارسیل گروسمین: فار دی لو آف میتھمیٹکس‘ میں بتایا گیا ہے، جسے ان کی پوتی کلاڈیا گراف گروسمین نے لکھا۔

آئن سٹائن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس میں بتایا گیا کہ ’آپ کو کبھی بھی گھنٹوں تک پڑھانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ آپ کے طلبہ یہ سب سمجھ رہے ہیں جو آپ انھیں سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے اساتذہ نے بھی بڈاپسٹ ہائی سکول میں ان کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔‘

’انھیں اپنے سکول کے تجربے سے معلوم تھا کہ سیکھنے کی خوشی اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی اسی وقت زیادہ ہوتی ہے جب مواد کو دلچسپ اور آسانی سے سمجھے جانے والے طریقے سے پڑھایا جائے۔‘

سال 1905 میں وہ باسل چلے گئے جہاں انھوں نے جیومیٹری پر دو درسی کتابیں پڑھائیں اور شائع کیں۔ ان سے طلبا کی کئی نسلوں سے علم حاصل کیا۔ سنہ 1907 میں وہ ای ٹی ایچ میں ڈسکرپٹیو جیومیٹری کے پروفیسر مقرر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹلمین کے مطابق ’گروسمین کے پاس اب ای ٹی ایچ میں اہم عہدہ تھا۔ یہ حیرت کی بات نہیں کہ وہ آئن سٹائن کو زیورخ واپس لانے میں حصہ دار تھے۔‘ انھوں نے اس کا ذکر اس مضمون میں کیا جہاں وہ بتاتے ہیں کہ جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی میں ان کا بھی کردار تھا۔

1912 میں آئن سٹائن کو اس ادارے میں تھیوریٹیکل فزکس کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔ انھوں نے گروسمین سے ملاقات کی اور اپنے نظریہ خاص اضافیت کو عام کرنے کے لیے اپنے خیالات کے بارے میں بتایا۔ آئن سٹائن نے ان سے کہا ’آپ کو میری مدد کرنا ہو گی ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔‘

بطور ایک رہنما

ریاضی دان، جان جوزف او کونر اور ایڈمنڈ فریڈرک رابرٹسن پر ایک مضمون، جو سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے پروفیسرز تھے، کے مطابق 1912 میں آئن سٹائن ’اپنے نظریہ خصوصی اضافیت میں گریویٹیشن (کشش ثقل) کو شامل کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔‘

اور انھوں نے اپنے دوست میں ایک عظیم رہنما پایا۔

برنارڈ ریمن 19ویں صدی کے جرمن ماہر تھے

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنبرنارڈ ریمن 19ویں صدی کے جرمن ماہر تھے

2020 میں پلائی ماؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ میک ملن نے بتایا کہ ’سپیس ٹائم کی یوکلیڈین وضاحت سے آگے جانے کی ضرورت سب سے پہلے گروسمین نے بیان کی تھی۔ انھوں نے آئن سٹائن کو قائل کیا کہ تھیوری آف جنرل ریلیٹیویٹی کو بیان کرنے کی یہی صحیح زبان ہے۔‘

گروسمین نے جرمن برن ہارڈ ریمن کے کام اور ٹینسر کیلکولس کی تجویز پیش کی جسے اطالوی سائنسدانوں گریگوریو ریکی کرباسٹرو اور ٹولیو لیوی سیویٹا نے تیار کیا تھا۔

وہ خود ٹینسر کیلکولس کے ماہر تھے اور ان کی وضاحتوں نے آئن سٹائن کو قائل کیا۔

آئزیکسن کے مطابق ’ای ٹی ایچ میں جیومیٹری کے دو کورسز میں آئن سٹائن کو چھ میں سے 4.25 مارکس ملے جبکہ گروسمین کو چھ ملے۔

آئن سٹائن نے سنہ 1912 میں نظریاتی طبیعیات دان آرنلڈ سومرفیلڈ کو لکھا کہ ’میں کشش ثقل کے مسئلے پر خصوصی طور پر کام کر رہا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ میں یہاں ایک ریاضی دان دوست کی مدد سے تمام مشکلات پر قابو پا سکتا ہوں۔‘

’لیکن ایک بات یقینی ہے: میں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی بھی اتنی محنت نہیں کی تھی اور میں اب ریاضی کا بہت زیادہ احترام کرنے لگا ہوں۔ اس کے خصوص پہلوؤں نے میری اب کافی مدد کی ہے جنھیں میں پہلے ایک مشکل سمجھتا تھا۔‘

’اس مسئلے کے مقابلے میں اصل نظریہ اضافیت بچوں کا کھیل ہے۔‘

غیر یوکلیڈین جیومیٹری

سائنس کے پروفیسر مینوئل ڈی لیون بی بی سی کو بتاتے ہیں ’19ویں صدی کے دوسرے نصف میں غیر یوکلیڈین جیومیٹریز اور ریمن کے جیومیٹری کا تصور تیار ہونا شروع ہوا جسے آئن سٹائن کو عمومی نظریہ بنانے کی ضرورت تھی۔‘

وہ رائل اکیڈمی آف سائنسز آف سپین سے منسلک ہیں۔ انھیں اس کی پیچیدگیوں کا زیادہ علم نہ تھا۔

کارل فریڈرک گاس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتاریخ کے عظیم ریاضی دانوں میں سے ایک: کارل فریڈرک گاس

’گروسمین کا کام آئن سٹائن کے لیے راستہ صاف کرنے اور ریاضی کے میدان میں پیدا ہونے والی ہر چیز کی وضاحت کرنے میں بنیادی حیثیت تھا۔‘

آئن سٹائن نے زور دیا کہ طبیعیات پر ان کے خیالات کو ’ریاضی کے ماڈل کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے اور یہ ماڈل غیر یوکلیڈین جیومیٹری نے دیا تھا۔‘

اس جیومیٹری میں ہائپربولک یا سفیریکل استعمال ہوتے ہیں جو کہ سیدھی لکیر کے برعکس ہیں۔

عمومی اضافیت کے اپنے نظریہ کی وضاحت میں آئن سٹائن کو محسوس ہوا کہ اسے تفریق جیومیٹری کا استعمال کرنا ہے جو کہ 19ویں صدی کے عظیم ریاضی دانوں جیسے گاس، بولائی، لوباچوسکائی، ریمن، ریکی اور لیوی نے تیار کی تھی۔

پروفیسر کا کہنا ہے کہ ’آئن سٹائن کا خیال یہ ہے کہ ماس اپنے اردگرد چیزوں کو گھومنے پر مجبور کرتا ہے لیکن یہ اسے کیسے تخلیق کرتا ہے؟ ماس ہونے کی صورت میں کون سا ریاضیاتی ماڈل اس کو ظاہر کرسکتا ہے؟ اس کے لیے مجھے تفریق جیومیٹری کی ضرورت تھی۔‘

’آئن سٹائن کے بارے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو ایک ساتھ رکھنے کے قابل تھے اور اپنی جسمانی وجدان کے ساتھ فیلڈ اکویژن کو تلاش کرتا تھا۔‘

لیکن اس تک پہنچنے سے پہلے انھوں نے سخت محنت کی۔ ٹلمین کے مطابق ’1913 میں دونوں دوستوں نے ایک مقالہ شائع کیا۔ اس میں آئن سٹائن کی فزکس اور گروسمین کی ریاضی کا سہارا لیا گیا۔‘

آئن سٹائن

،تصویر کا ذریعہMarcell Grossmann

’ہم دوست تھے اور ساری زندگی دوست رہے‘

اس مضمون کو عمومی نظریہ اضافیت کا اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ ’انھوں نے ایک ساتھ مل کر ریاضی کو اس تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی کہ آئن سٹائن کو اپنے نظریے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے۔‘

تاہم وہ کشش ثقل کے لیے درست مساوات تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

1914 میں انھوں نے ایک اور مشترکہ مضمون شائع کیا لیکن اسی سال ان کا تعاون ختم ہو گیا۔ آئن سٹائن نے برلن میں بطور پروفیسر عہدہ قبول کیا۔ وہاں انھوں نے کشش ثقل کے مسئلے پر کام جاری رکھا۔

1915 کے آخر میں وہ اپنے نظریے کی حتمی تشکیل پر پہنچے، اسے شائع کیا اور سائنس کی تاریخ اور کائنات کو سمجھنے کے طریقے میں انقلاب برپا کیا ۔

آئن سٹائن نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا عمومی نظریہ اضافیت ریاضی کی ’دنیا کے ماہرین گاس اور ریمن کے کام پر بنایا گیا تھا۔‘

لیکن ’آئن سٹائن کوئی جینیئس نہیں‘ نامی مضمون میں مشیل جانسن اور جورجن رین بتاتے ہیں کہ اس میں طبیعیات کی سرکردہ شخصیات، جیسے میکسویل اور لورینٹز، اور غیر معروف محققین جیسے گروسمین، بیسو، فرینڈلچ، کوٹلر، نورڈسٹروم، اور فوکر کے کام سے بھی مدد لی گئی تھی۔

ٹلمین کے مطابق آئن سٹائن نے اپنے کام کی اشاعت کے بعد لکھا کہ ’میں اپنے دوست، ریاضی دان گروسمین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جس کی مدد نے نہ صرف میں متعلقہ ریاضیاتی ادب کے مطالعے سے بچا بلکہ کشش ثقل کے میدان کی مساوات کی تلاش میں انھوں نے میری مدد کی۔‘

1920 کی دہائی میں، گروسمین کی صحت ایک سے زیادہ سکلیروسیس کی وجہ سے خراب ہونے لگی۔ ان کی وفات 1936 میں سوئٹزر لینڈ میں ہوئی۔

1955 میں آئن سٹائن نے ایک سوانح عمری کے متن میں گروسمین کو شکر گزاری کے ساتھ یاد کیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن1955 میں آئن سٹائن نے ایک سوانح عمری کے متن میں گروسمین کو شکر گزاری کے ساتھ یاد کیا

تعزیت کے اظہار کے لیے ایک خط میں آئن سٹائن نے اپنے دوست کی اہلیہ کو لکھا: ’وہ ایک ماڈل طالب علم۔ میں بُرا اور بس خواب دیکھنے والا تھا۔‘

انھوں نے گروسمین کی تعریف کی کہ وہ اساتذہ کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رکھتے اور ہر چیز کو آسانی سے سمجھتے، جبکہ ’میں بہت دور تھا، زیادہ مقبول بھی نہیں تھا۔‘

’لیکن ہم اچھے دوست تھے اور میٹروپول میں ہر چند ہفتوں میں آئسڈ کافی پر ہماری گفتگو میری سب سے خوشگوار یادوں میں شامل ہے.‘

’جب ہم فارغ التحصیل ہوئے میں اچانک اکیلا ہو گیا۔ بے بسی کی زندگی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ میرے ساتھ تھا اور اس کے (اور اس کے والد) کے ذریعے میں کچھ سال بعد پیٹنٹ آفس میں (فریڈرک) ہالر کے پاس پہنچا۔‘

وہاں ہونا ایک طرح کی ’لائف لائن تھی جس کے بغیر میں مر نہیں سکتا تھا لیکن میں یقیناً فکری طور پر مرجھا جاتا۔‘ انھوں نے ’عام نظریہ اضافیت کی رسمیت پر مشترکہ اور تیز سائنسی کام‘ کو جنم دیا۔

’یہ مکمل نہیں ہوا، جب میں برلن چلا گیا، جہاں میں نے اپنے طور پر کام جاری رکھا۔‘

انھوں نے اپنے دوست کی بیماری کے اثرات پر افسوس کا اظہار کیا۔

’لیکن ایک چیز خوبصورت ہے۔ ہم دوست تھے اور ساری زندگی دوست رہے۔‘