سٹیفن ہاکنگ: بیٹی کی فیس اور مالی مسائل کے باعث لکھی گئی کتاب جس نے اُنھیں راتوں رات مشہور کر دیا

سٹیفن ہاکنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, بلال کریم مغل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

'یہ کتاب لکھنے کے پیچھے میرا ایک مقصد یہ تھا کہ مجھے اپنی بیٹی کے سکول کی فیس ادا کرنی تھی، مگر میرا بنیادی مقصد یہ بتانا تھا کہ کائنات کے بارے میں ہمارے علم میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے۔'

اسّی کی دہائی کے اوائل میں پروفیسر سٹیفن ہاکنگ تھیوریٹکل فزکس کی دنیا میں پہلے ہی سپرسٹار بن چکے تھے لیکن بیرونی دنیا میں ابھی لوگ اُن سے اور اُن کے کام سے آہستہ آہستہ روشناس ہو رہے تھے۔

چاہے اسے قسمت کہیں یا کچھ اور کہ 1983 میں جن دنوں سٹیفن ہاکنگ کے ذہن میں یہ کتاب لکھنے کا تصور پنپ رہا تھا، اُن ہی دنوں پیٹر گزارڈی نامی ایک ایڈیٹر نے 1983 میں نیو یارک ٹائمز میگزین میں سٹیفن ہاکنگ کی پروفائل اور اُن کی وہیل چیئر پر تصویر دیکھی۔

بی بی سی کی لوئز ہڈالگو سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا تھا کہ وہ اُن کے کام سے بہت متاثر ہوئے اور سٹیفن ہاکنگ سے رابطہ کر کے اُن سے معلوم کیا کہ کیا وہ ایسی کتاب لکھنا چاہیں گے جو کسی عام آدمی کو کائنات کی ابتدا کے بارے میں بتاتے ہوئے ایٹم کے اندر موجود دنیاؤں کے سفر پر لے جائِے؟

اور قسمت کی بات یہ ہے کہ ان ہی دنوں میں سٹیفن ہاکنگ بھی ایسی ہی ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کر رہے تھے۔

اُن کی خواہش تھی کہ اُن کی کتاب امریکہ اور برطانیہ کے ایئرپورٹس پر ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو، یعنی یہ عام لوگوں میں مقبول ہو۔

اور یہ کتاب واقعی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی اور نیو یارک ٹائمز کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب میں 147 ہفتوں تک سرِ فہرست رہی اور اگلے پانچ سالوں تک اس فہرست کا حصہ رہی۔

یہ بات آج بھی زیرِ بحث ہے کہ کتنے لوگوں نے یہ کتاب مکمل پڑھی اور کتنے لوگوں نے صرف یہ خرید کر رکھ دی لیکن یہی وہ کتاب ہے جس نے سٹیفن ہاکنگ کو تحقیقی حلقوں سے باہر پوری دنیا میں متعارف کروایا۔

ہاکنگ کا شمار ہمارے دور کے مشہور ترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے جن کا علمِ کائنات (کوسمولوجی) پر کیا گیا کام اس شعبہ سائنس میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

ابھی وہ پی ایچ ڈی کے طالبعلم ہی تھے کہ اُنھیں اعصاب کی ایک ایسی بیماری نے گھیر لیا جو اُنھیں بتدریج معذور بناتی گئی، تاہم اُنھوں نے اسے اپنی کمزوری نہیں بننے دیا اور اپنی تحقیق پر کام کرتے رہے۔

یہ کتاب اُنھوں نے اسی عرصے میں لکھی۔

سٹیفن ہاکنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اُس دور میں سٹیفن ہاکنگ کیمبرج یونیورسٹی میں لوکیزیئن پروفیسر آف میتھمیٹکس تھے۔ یہ وہی عہدہ ہے جس پر اُن سے پہلے کششِ ثقل کا نظریہ دینے والے مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن بھی فائز رہ چکے ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی پریس میں اس وقت کے ڈائریکٹر سائنس پبلشنگ ڈاکٹر سائمن مِٹن کے مطابق سٹیفن ہاکنگ اس دور میں اپنے مالی حالات کی وجہ سے کچھ پریشان تھے اور اپنی بیماری کی نوعیت کی وجہ سے وہ کسی قسم کی انشورنس حاصل کرنے کے اہل نہیں تھے۔

اس لیے اُنھوں نے اپنے تحقیقی کاموں سے وقت نکال کر کتاب لکھنے کی ٹھانی۔

ڈاکٹر مِٹن بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے کتاب کا پہلا مسودہ دیکھا تو وہ سائنسی فارمولوں سے بھرا ہوا تھا جس پر اُنھوں نے اُنھیں کہا کہ ہر ایک فارمولہ کتاب کی فروخت میں کمی کا باعث بنتا جائے گا۔

اُن کے مطابق سٹیفن ہاکنگ نے جب اُنھیں یہ بتایا کہ وہ یہ کتاب امریکہ اور برطانیہ کے ایئرپورٹس میں موجود کتابوں کے سٹالز پر سب سے اوپر دیکھنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر مِٹن نے اُن سے اسے مزید سہل بنانے پر زور دیا یہاں تک کہ اس کتاب میں آئن سٹائن کا صرف تین حروف پر مبنی ایک سائنس فارمولہ باقی رہ گیا۔

پیٹر گزارڈی بتاتے ہیں کہ کچھ ہی عرصے میں سٹیفن ہاکنگ نے 100 صفحات پر مبنی اپنا مسودہ جمع کروا دیا جسے دیکھ کر اُن کے ناشر بینٹم پریس نے اُنھیں ڈھائی لاکھ ڈالر ایڈوانس کی پیشکش کی۔

مگر کمپنی کے وکلا بیچ میں آ گئے اور کہا کہ ایسی سنگین بیماری کے حامل شخص کو اتنی بڑی رقم کے ساتھ کتاب لکھنے کا کنٹریکٹ دیا جا رہا ہے مگر ہمیں کیا معلوم ہے کہ وہ یہ کتاب لکھ بھی پائیں گے یا نہیں۔

لیکن پیٹر گزارڈی کے مطابق کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ہم یہ رسک لینے کو تیار ہیں۔

پھر ایک ڈرامائی موڑ تب آیا جب سنہ 1985 میں نمونیا کے باعث سٹیفن ہاکنگ قریب المرگ ہو گئے اور اُنھیں بچانے کے لیے کی گئی سرجری کی وجہ سے اُن کی آواز مکمل طور پر ختم ہو گئی، لیکن اُنھوں نے کمپیوٹر کی مدد سے اپنا یہ پراجیکٹ جاری رکھا۔

سٹیفن ہاکنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سٹیفن ہاکنگ ایک مسودہ لکھ کر پیٹر گزارڈی کو بھیجتے اور وہ اس میں بے تحاشہ تبدیلیاں کرنے کی ہدایت کر کے واپس کر دیتے۔ خود سٹیفن ہاکنگ کے نزدیک اُنھیں لگتا تھا کہ یہ مرحلہ کبھی ختم نہیں ہوگا، مگر جب مارچ 1988 میں یہ کتاب ریلیز ہوئی تو پیٹر گزارڈی کے مطابق اس نے وہی کامیابی حاصل کی جو وہ اور سٹیفن ہاکنگ دونوں ہی چاہتے تھے۔

اس کتاب کا آغاز ہماری زمین اور کائنات میں اس کے مقام کے متعلق زمانہ قدیم کے یونانی نظریات سے ہوتا ہے جس کے بعد یہ جدید فزکس میں البرٹ آئن سٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی (عمومی نظریہ اضافیت) پر آتی ہے اور پھر کوانٹم مکینکس پر۔

آئن سٹائن کی ریلیٹویٹی تھیوری اور کوانٹم مکینکس (جس پر متعدد سائنسدانوں نے کام کیا ہے)، وہ دو نظریات ہیں جو کائنات کی ایک مکمل تصویر فراہم کرتے ہیں۔

مگر یہ دونوں نظریات ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں اور انھیں ہم آہنگ کر کے ایک ہی سائنسی نظریے میں سمونے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایسے کسی بھی متوقع نظریے کو تھیوری آف ایوری تھنگ کہا جاتا ہے اور سٹیفن ہاکنگ نے اس کتاب میں جہاں اس معاملے پر سیر حاصل بحث کی ہے وہیں اس کتاب کے آخری پیراگراف میں اس کے متعلق اُن کا تبصرہ بے حد مشہور ہوا اور اس نے عوام میں اس موضوع کے متعلق بے انتہا دلچسپی جگائی۔

اُنھوں نے کتاب کے آخری پیراگراف میں لکھا تھا کہ اگر کوئی ایسا مکمل نظریہ ہم دریافت کر لیں تو یہ انسانی عقل و منطق کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ پھر ہم خدا کے ذہن کو سمجھ جائیں گے۔

خود سٹیفن ہاکنگ نے بعد میں کہا تھا کہ اگر یہ پیراگراف نکال دیا جاتا تو شاید اس کتاب کی فروخت نصف رہ جاتی۔

آکسفرڈ یونیورسٹی میں کوانٹم فزکس کے پی ایچ ڈی طالبعلم اور ٹیوٹر محمد حمزہ وسیم اس کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی کامیابی کی بڑی وجوہات میں سے ایک خود سٹیفن ہاکنگ کے حالات ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے بتایا کہ سٹیفن ہاکنگ کی معذوری کے دوران لکھی گئی اس کتاب کا سامنا آنا بذاتِ خود لوگوں کے لیے بہت دلچسپی کا سامان بنا کیونکہ جسمانی معذوری کے حامل کسی شخص کا فزکس میں اعلیٰ درجے کی تحقیق کرنا لوگوں کے لیے حیرت کے ساتھ ساتھ اُمید کا باعث بھی تھا۔

سٹیفن ہاکنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اور یہ بات درست ہے کہ کسی بھی شخص کے ذہن میں سٹیفن ہاکنگ کا نام سنتے ہی اُن کی کوئی تحقیق ذہن میں آئے یا نہ آئے، یہ کتاب اور اُن کی بیماری ضرور ذہن میں آتے ہیں۔

مگر حمزہ کی رائے میں ہاکنگ کو خود یہ بات پسند نہیں تھی کہ اُن کی بیماری کو اُن کی وجہ شہرت بنا کر کسی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔

خود سٹیفن ہاکنگ نے بھی وال سٹریٹ جرنل کے لیے اپنے ایک مضمون میں اس نکتے پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا کہ جن لوگوں نے یہ کتاب اس زاویے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے خریدی ہوگی وہ مایوس ہوئے ہوں گے۔

پروفیسر ہاکنگ نے اس کتاب کے بارے میں کیے گئے تبصروں کے بارے میں بتایا ہے کہ کیسے ہر تبصرے میں سب سے پہلے اُن کی بیماری اور معذوری کا ہی تذکرہ کیا جاتا۔

مگر کیا پروفیسر ہاکنگ کی یہ کتاب وہ اولین سائنسی کتاب تھی جس نے ان موضوعات کو چھیڑا؟

پاکستان کے نامور ماہرِ فزکس ڈاکٹر پرویز ہودبھائے کے نزدیک اس کتاب میں جن مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ مقبول سائنس کی کتابوں میں پہلے بھی سامنے آئے ہیں لیکن سٹیفن ہاکنگ کی شخصیت اور اُن کے انداز نے اس کتاب کو بے حد مقبول بنایا ہے۔

پرویز ہودبھائے کہتے ہیں کہ کوانٹم مکینکس فزکس کا ایک بنیادی ستون ہے اور اسے سمجھنے میں کئی سال لگتے ہیں، اس لیے اُن کے مطابق یہ کتاب حتمی طور پر کسی ایسے شخص کے لیے نہیں جس کی پہلی سائنسی کتاب یہی ہو، تاہم وہ اس نکتے کی جانب بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ سٹیفن ہاکنگ کو عوام کے لیے لکھی گئی سائنسی کتابوں کے لیے نہیں بلکہ بنیادی طور پر علمِ کائنات میں اُن کے کام اور اُن کی تحقیق کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔