ناسا: ہماری کہکشاں سے باہر کسی پہلے سیارے کے وجود کا نشان

ایکسرے بائنری (آرٹسٹ کی نظر سے)

،تصویر کا ذریعہESO / L. Calçada

،تصویر کا کیپشنماہرین نے اس تحقیق کے لیے ایکسرے بائنریز کا مطالعہ کیا ہے
    • مصنف, پال رِنکن
    • عہدہ, مدیرِ سائنس، بی بی سی نیوز

ماہرین فلکیات کو پہلی مرتبہ ہماری کہکشاں سے باہر کچھ ایسے اشارے ملے ہیں جو ممکنہ طور پر ’مِلکی وے‘ سے باہر ایک سیارے کے وجود کا پتہ دیتے ہیں۔

اب تک ماہرین ہمارے سورج سے آگے تقریباً پانچ ہزار ’ایکسو پلینٹ‘ یا خلائی اجسام کا سراغ لگا چکے ہیں جو مختلف مداروں میں چکر لگا رہے ہیں، لیکن یہ تمام سیارے بہرحال اسی کہشاں کے اندر ہی ہیں جس میں ہمارا شمسی نظام موجود ہے۔

سیٹرن یا زحل کے حجم کا یہ نیا ممکنہ سیارہ امریکی خلائی ادارے کی دوربین ’چندرا ایکس رے‘ کی مدد سے دریافت کیا گیا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ سیارہ ’میسیئر 51‘ نامی کہکشاں میں پایا جاتا ہے۔

یہ کہکشاں ہماری کہکشاں (مِلکی وے) سے تقریباً دو کروڑ 80 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

خلائی تحقیق کے جریدے ’نیچر ایسٹرانومی‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق نئے ممکنہ سیارے کے وجود کا اندازہ ’ٹرانزِٹس‘ کے ذریعے لگایا گیا ہے۔

جب کوئی سیارہ کسی ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو اس ستارے سے نکلنے والی شعاعوں کو کسی حد تک روک دیتا ہے جس سے کچھ وقت کے لیے روشنی کم ہو جاتی ہے۔ طاقتور دوربینوں کی مدد سے روشنی میں کمی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

ماضی میں بھی ہزاروں ایکسو پلینٹس یا خلائی اجسام کا سراغ لگانے کے لیے یہی تکنیک استعمال کی جا چکی ہے۔ ملکی وے سے بہت دور اس ممکنہ سیارے کا سراغ لگانے کے لیے ڈاکٹر روزانے ڈی سٹیفانو اور ان کے ساتھیوں نے ایکسریز (شعاعوں) میں کمی کا مطالعہ کیا ہے۔

نئے ممکنہ سیارے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ خلاء کا وہ حصہ جہاں سے ایکسریز خارج ہو رہی ہیں وہ چھوٹا ہے، اس لیے اگر اس کے سامنے سے کوئی سیارہ گزرتا ہے تو زیادہ تر شعاعوں کو روک لیتا ہے جس کی وجہ سے ٹرانزِٹ کا پتہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر سٹیفانو کہتی ہیں کہ ’ہم نے دوسری کہکشاؤں میں موجود سیاروں کا سراغ لگانے کے لیے جو طریقہ اپنایا ہے وہ واحد ایسا طریقہ ہے جسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک خاص طریقہ ہے، اس لحاظ سے خاص ہے کہ ہم اس سے ایکسرے بائنریز کے ارد گرد موجود سیاروں کا سراغ لگانے کے لیے سیارے سے منعکس ہونے والی روشنی کو بہت دور سے بھی ماپ سکتے ہیں۔‘

Chandra X-Ray Observatory

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنچندرا دوربین 1999 میں خلاء میں بھیجی گئی تھی اور اس کا مقصد کائنات کے گرم ترین حصوں سے نکلنے والی گیسوں اور حرارت کا مطالعہ کرنا ہے

مستقبل میں سیاروں کی تلاش

نئے ممکنہ سیارے والی ایکسرے بائنری کے اندر ایک سیاہ دائرہ یا نیوٹرون سٹار موجود ہے جو ایک بڑے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے اور یہ بڑا ستارہ ہمارے سورج سے تقریباً 20 گنا بڑا ہے۔

ماہرین کے خیال میں نیوٹرن سٹار اصل میں ایک بہت بڑا ستارہ تھا جو دم توڑ گیا اور اس سے سیاروں کے اس نظام کا مرکز وجود میں آیا۔

ناسا کے ماہرین کے مطابق ان کے مشاہدے میں آیا ہے کہ روشنی میں کمی (ٹرانزِٹ) تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی جس دوران ایکسریز کا اخراج کم ہوتے ہوتے صفر تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ان مشاہدات اور دیگر معلومات کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ نیا ممکنہ سیارہ تقریباً زحل جتنا بڑا ہے اور یہ سیارہ اپنے مرکز یا نیوٹرون سٹار سے جس فاصلے پر چکر لگا رہا ہے وہ زحل اور ہمارے سورج کے باہمی فاصلے سے دوگنا زیادہ ہے۔

ڈاکٹر سٹیافانو کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ ہمارے نظام شمسی سے باہر کے خلائی اجسام یا ایکسو پلینٹس کی دریافت میں بہت کامیاب ثابت ہوا ہے کیونکہ جب ہماری کہکشاں (ملکی وے) کے اندر توڑ پھوڑ ہو رہی ہوتی ہے تو دوسری کہکشاؤں میں جھانکنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دوسری کہکشاؤں کا ہم سے فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ دوربینوں تک آنے والی روشنی کم ہوتی جاتی ہے جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ (ہماری زمین سے دیکھا جائے تو) دوسری کہکشاؤں میں تھوڑی سی جگہ پر بہت سے سیارے جمع ہیں اور ہر ایک سیارے کو الگ کر کے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

Messier 51

،تصویر کا ذریعہNASA / ESA / S. Beckwith / HHT

،تصویر کا کیپشنمیسیئر 51 نامی کہکشاں کو اس کی مخصوص شکل کی وجہ سے 'گردابی کہکشاں' بھی کہا جاتا ہے

اس تحقیق میں شامل ماہرین کو یہ تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ انھوں نے ایک نئے سیارے کی موجودگی کے حوالے سے جو اندازہ لگایا ہے اس کی تصدیق کے لیے مزید اعداد و شمار اور تحقیق کی ضرورت موجود ہے۔

ڈاکٹر سٹیافانو مزید بتاتی ہیں کہ ایکسرے میں کمی سے معلوم ہوتا ہے کہ ’شاید پوری کہکشاں میں محض چند درجن ہی ایسے خلائی اجسام موجود ہوں جن سے یہ روشنی نکل رہی ہو، اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان خلائی اجسام کو الگ الگ دیکھنا ممکن ہو جائے۔

’اس کے علاوہ چند خلائی اجسام سے خارج ہونے والی ایکسریز اتنی روشن ہیں کہ ان سے نکلنے والی روشنی جب منعکس ہوتی ہے تو اسے ماپا جا سکتا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’اور آخر میں یہ امکان بھی ہے کہ ایکسریز کی اتنی بڑی مقدار ایک چھوٹی سے جگہ سے نکل رہی ہوں اور جب ایک (ہی) سیارہ اس کے سامنے سے گزرتا ہو تو اس کی تمام روشنی کو روک دیتا ہو۔‘