21ویں صدی کا بڑا سائنسی منصوبہ: تیس برسوں میں تیار ہونے والی خلائی دوربین مشن کے لیے تیار

Webb

،تصویر کا ذریعہNASA/Chris Gunn

    • مصنف, جوناتھن اموس
    • عہدہ, بی بی سی سائنس نامہ نگار

انجنیئرؤں نے جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کو مدار میں بھیجنے کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

دس ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو فرنچ گیانا میں کورو سے اٹھارہ دسمبر کو مدار میں روانہ کیا جائے گا۔

جیمز ویب ٹیلی سکوپ ہبل ٹیلی سکوپ کی جگہ لے گی جسے 1990 میں ناسا نے خلا میں بھیجا تھا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ایک ٹیلی سکوپ کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے

جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو جسے امریکہ میں تیار کیا گیا کنٹینر سے اتار کر سیدھا کھڑا کر دیا گیا ہے اور مدار میں روانگی سے پہلے اس کے ضروری چیک کیے جا رہے ہیں۔

جمیز ویب اکیسویں صدی کا ایک بڑا سائنسی پراجیکٹ ہے۔

JWST

،تصویر کا ذریعہESA/CNES/Arianespace/P.Piron

آریان فائیو راکٹ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو زمین سے پندرہ لاکھ میل دور خلا میں چھوڑے گا جہاں سے وہ کائنات کے ان حصوں کی دیکھنے کی کوشش کرئے گی جہاں تک ہبل ٹیلی سکوپ نہیں پہنچ سکی ہے۔

جمیز ویب ٹیلی سکوپ کا شیشہ ہبل ٹیلی سکوپ کے مقابلے تین گنا بڑا ہو گا اور وہ انفراریڈ سے مطابقت رکھے گا۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ جیمز ٹیلی سکوپ خلا میں ان ستاروں کو ڈھونڈ پائے گی جو ساڑھے 13 ارب سال پہلے کائنات میں سب سے پہلے روشن ہوئے۔

Annotated view of James Webb

جمیز ویب ٹیلی سکوپ امریکی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے اور کینیڈین خلائی ادارے کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

اس کے ابتدائی خیال سے لے کر اس کی تیاری میں تین عشرے لگے ہیں۔ رواں برس اگست میں اس کو آخری بار کیلیفورنیا ریڈانڈو ساحل پر قائم نارتھروپ گرومین فیکٹری میں جوڑا گیا جس کے بعد اسے فرانسیسی گیانا روانہ کیا گیا جہاں پہنچنے میں اسے سولہ دن لگے ہیں۔

2500 کلو میٹر لمبے سفر کے دوران جیمز ویب ٹیلی سکوپ پاناما نہر سے گزری ہے۔

Size of mirror

یورپ کی سپیس پورٹ پر ماہرین یہ جائزہ لیں گے کہ دوران سفر ٹیلی سکوپ کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا ہے۔

اس کے بعد ٹیلی سکوپ میں ایندھن بھرا جائے گا اور اس آریان فائیو کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔

حالیہ ہفتوں میں فرنچ گویانا میں کارگو جہازوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا جن میں ٹیلی سکوپ پر کام کرنے کے ضروری آلات کو لایا جا رہا تھا۔

رواں ہفتے آریان فائیو راکٹ دو ٹیلی کمیونیکیشن سٹیلائٹس کو خلا میں پہنچانے کے لیے روانہ ہوگا۔

جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو لانچ کرنے کے لیے جگہ خالی کرانا ضروری ہے۔

Box

،تصویر کا ذریعہESA/CNES/Arianespace/P.Piron

،تصویر کا کیپشنسمندری سفر کے دروان ٹیلی سکوپ کو محفوظ رکھنے کے لیے مخصوص بکسوں میں بھرا گیا
Webb

،تصویر کا ذریعہESA/CNES/Arianespace/P.Piron

،تصویر کا کیپشنٹیلی سکوپ کو خصوصی بکسوں سے نکالا جا رہا ہے