’ویلکم ٹو پاکستان کرکٹ، کسی بھی دن کچھ بھی ہو سکتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سڈنی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ اور مینٹور میتھیو ہیڈن کو یقینی طور پر اب یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم سب کو کس طرح حیران کر سکتی ہے۔
میتھیو ہیڈن کہتے ہیں ’جب ہم اپنا آخری گروپ میچ کھیل رہے تھے تو ڈگ آؤٹ میں شاداب خان نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ویلکم ٹو پاکستان کرکٹ۔ ان کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ کسی بھی دن کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘
میتھیو ہیڈن کہتے ہیں ’ہالینڈ کی جنوبی افریقہ کے خلاف جیت ہمارے لیے یادگار لمحہ تھی۔ ہمیں اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ پاکستانی عوام ہمارے لیے دعا کر رہے تھے۔‘
’بابر اعظم اور محمد رضوان کی جوڑی ورلڈ کلاس ہے‘
میتھیو ہیڈن سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا بابراعظم کو اوپنر کے بجائے ون ڈاؤن پر نہیں کھیلنا چاہیے تو انھوں نے اس کا جواب ایڈم گلکرسٹ کی مثال سے دیا۔
ہیڈن کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ بابراعظم اور محمد رضوان کی جوڑی ورلڈ کلاس ہے۔ جہاں تک بابراعظم کے بڑا سکور نہ کرنے کی بات ہے تو مجھے 2007 کا ورلڈ کپ یاد ہے جب میں اور ایڈم گلکرسٹ اوپنرز تھے اور گلکرسٹ کامیاب نہیں ہو رہے تھے لیکن ٹیم کا ان پر اعتماد قائم تھا اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے سری لنکا کے خلاف سنچری بناڈالی۔‘
’کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے کہ بابر بڑے میچ میں بڑا سکور کردیں۔ اتارچڑھاؤ ہر کرکٹر کے کریئر میں آتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محمد حارث سپیشل ٹیلنٹ
میتھیو ہیڈن محمد حارث کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’حارث ٹیم میں شامل نہیں تھے لیکن بعد میں وہ ٹیم کا حصہ بنے۔ یہ بہت ہی دلچسپ کہانی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ حارث کو پہلے ہی ٹیم میں شامل ہونا چاہیے تھا۔‘
میتھیو ہیڈن کہتے ہیں ’محمد حارث کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ٹیم کے ہر پریکٹس سیشن میں بیٹنگ کے لیے موجود ہوتے ہیں جہاں وہ تمام فاسٹ بولرز کی بولنگ کا سامنا کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہ بڑی اہم بات ہوتی ہے کیونکہ ان بولرز کو کھیل کر آپ خود کو میچ کے لیے تیار کرتے ہیں جیسا کہ میں اپنے دور میں مک گرا، گلیسپی، بریٹ لی اور شین وارن کو نیٹ پر کھیلا کرتا تھا۔ حارث کی باؤنسی وکٹ پر بیٹنگ تکنیک بہت اچھی ہے۔‘
ہیڈن فخریہ انداز میں پاکستان کے پیس اٹیک کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ’چاروں فاسٹ بولرز کمال ہیں۔ شان ٹیٹ نے ان فاسٹ بولرز پر بہت محنت کی ہے۔ پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے بڑے میچوں میں کم بیک کرنا آتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ خطرناک حریف
میتھیو ہیڈن نیوزی لینڈ کو ایک خطرناک ٹیم سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’نیوزی لینڈ کا پیس اٹیک خطرناک اور تجربہ کار ہے۔ ٹم ساؤدی میرے ساتھ کھیل چکے ہیں۔ ان کے پاس بولنگ کو تتر بتر کرنے والے بیٹسمین بھی ہیں۔‘
’نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف 205 رنز کرکے میچ جیتا ہے لیکن آسٹریلیا میں اگر کوئی گراؤنڈ برصغیر کی ٹیموں کے لیے اچھا رہا ہے تو وہ سڈنی ہی ہے۔‘
میتھیو ہیڈن کی اس وقت مکمل توجہ پاکستانی ٹیم پر مرکوز ہے لیکن وہ اپنے ملک کی ٹیم کی کارکردگی پر خوش نہیں ہیں۔
وہ کہتے ہیں آسٹریلیا کو اپنی کرکٹ میں بہتری لانی ہوگی۔ ’میرے لیے حیران کن بات یہ تھی کہ مچل سٹارک کو افغانستان کے خلاف میچ میں نہیں کھلایا گیا۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ آسٹریلیا کوابھی سے اگلے ورلڈ کپ کی تیاری شروع کردینی ہوگی۔‘










