’قدرت کا نظام‘ پاکستان کی تائید کر پائے گا؟ سمیع چوہدری کا کالم

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

پاکستانی ڈریسنگ روم اس وقت بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ فقط اپنے زورِ بازو پر بھروسہ اس کے لیے ناکافی ہو چکا ہے اور ٹورنامنٹ میں بقا کا سوال درپیش ہے جبکہ بقا صرف ’قدرت کے نظام‘ کی تائید سے ہی ممکن ہے۔

پاکستانی شائقین کے ذہنوں میں بھی 1992 کے ورلڈ کپ کی معجزاتی بارشیں منڈلا رہی ہیں اور وہ کسی بھی طرح پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس رسائی کا دارومدار آج کھیلے جانے والے تینوں میچز پر ہے۔

جنوبی افریقہ اور نیدرلینڈز ایڈیلیڈ میں مدِ مقابل ہوں گے اور اگرچہ اس میچ سے پہلے ایڈیلیڈ میں بارشیں برستی رہی ہیں مگر اس میچ کے لیے مطلع صاف رہنے اور میچ مکمل ہونے کا قوی امکان ہے۔

اس ورلڈ کپ میں اگرچہ کافی اپ سیٹ ہوئے ہیں اور نیدرلینڈز بھی کوئی ایسا ہی جادو جگانے کی کوشش کرے گی مگر زمینی حقائق ان توقعات کو قدم نہیں جمانے دے رہے۔

جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف ڈیوڈ ملر کو معمولی انجری کی بنا پر آرام دیا مگر اس ایک فیصلے سے ٹیم ایسے پریشر میں آئی کہ بیٹنگ تو درکنار، بولنگ بھی فراموش کر بیٹھی۔

ڈچ بلے باز یقیناً محمد حارث کی طوفانی اننگز سے سیکھتے ہوئے جنوبی افریقی بولنگ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب بنگلہ دیشی کوچ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی ٹیم انڈیا کو مشکل میں ڈال سکتی ہے تو پھر پاکستان بھی ان کے لئے کوئی تگڑا حریف نہیں ہو گا اور وہ بھرپور کرکٹ کھیلنے کے لیے پرعزم ہیں۔

بنگلہ دیش

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@T20WorldCup

بنگلہ دیش کی ورلڈ کپ تاریخ میں حالیہ مہم ان کی کامیاب ترین رہی ہے جہاں وہ سپر 12 مرحلے کے دو میچز جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔

پاکستان اگرچہ حالیہ ٹرائی سیریز میں اسی بنگلہ دیشی ٹیم کو دو بار مات کر چکا ہے مگر ورلڈ کپ کے میچ میں محض صلاحیت اور قوت پر ہی سب منحصر نہیں ہوتا، پریشر اور دیگر عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں۔ پاکستان کو بہرطور اپنا بہترین کھیل پیش کرنا ہو گا۔

بابر اعظم کے لیے یہ ورلڈ کپ ان کے کیرئیر کا مایوس ترین لمحہ رہا ہے اور یہاں ان کے پاس آخری موقع ہو گا کہ وہ اپنی فارم کو مہمیز دیں۔

دوسری جانب تسکین احمد بھی چاہیں گے کہ وہ بابر کی حالیہ فارم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اہم ترین وکٹ اپنے نام کر کے پاکستانی اننگز میں رخنے ڈالیں۔

اگر نیدرلینڈز اور جنوبی افریقہ کا میچ موسم کی نذر ہو جائے تو یکساں پوائنٹس کے باوجود پاکستان بنگلہ دیش پر فتح پانے کے سبب سیمی فائنل تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہو پاتا تو پھر پاکستان کی امیدوں کا رخ زمبابوے کی جانب ہو گا کہ وہ انڈیا کو بھی ویسے ہی حیران کر ڈالے جیسے کچھ روز پہلے پاکستان کو متحیر کیا تھا۔

زمبابوے

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@T20WorldCup

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ بھی پڑھیے

مگر زمینی حقائق اس معاملے میں بھی پاکستان کی امیدوں کو زیادہ تقویت نہیں دیتے۔ اس ٹورنامنٹ میں انڈیا نے بہترین کرکٹ کھیلی ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف بیٹنگ کی ناکامی کے سوا ان کی باقی ساری مہم بہت حوصلہ افزا رہی ہے۔

اب تک جتنے ٹی ٹؤنٹی ورلڈ کپ کھیلے گئے ہیں، رواں ٹورنامنٹ اپنے نتائج کے اعتبار سے بہترین رہا ہے۔ اگرچہ آسٹریلوی ٹیم اپنی ہوم کنڈیشنز میں کھیل رہی تھی اور اس کا پیس اٹیک بلا مبالغہ دنیا کا تجربہ کار ترین اٹیک ہے مگر اپنی ہی کنڈیشنز میں وہ ایسا بے اثر ثابت ہوا کہ ٹائٹل کے دفاع کی امیدیں دم توڑ گئیں۔

پاکستانی ڈریسنگ روم میں اب یہ احساس شدت سے موجود ہے کہ انڈیا اور زمبابوے کے خلاف شکست نے ان کے امکانات کو گزند پہنچائی۔ اگرچہ ان دو حوادث کے بعد ٹیم اپنے اصل کی طرف لوٹی ہے مگر اب پیش قدمی فقط زورِ بازو پر ہی موقوف نہیں، قدرت کے نظام کی تائید بنیادی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔