محمد حارث نے گویا نئی روح پھونک دی: سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
چیمپیئنز ٹرافی میں جس روز پاکستانی ٹیم سرفراز احمد کی قیادت میں میدان میں اتری تو ایک ان کہے سے دباؤ کا شکار نظر آتی تھی۔ بیٹنگ لائن ٹامک ٹوئیاں مار رہی تھی اور پہلے ہی میچ میں انڈیا کے خلاف خفت آمیز شکست نے ڈریسنگ روم کو مضطرب کر چھوڑا تھا۔
پاکستانی بولنگ نے بہترین کاوش دکھلائی اور کوئنٹن ڈی کوک، ہاشم آملہ، فاف ڈوپلیسی، جے پی ڈومنی، اے بی ڈی ولیئرز اور ڈیوڈ ملر پہ مشتمل جنوبی افریقی بیٹنگ لائن کو برمنگھم کی وکٹ پہ پچاس اوورز میں 219 رنز تک محدود کر ڈالا۔
مگر اصل دباؤ ایک بار پھر ناقابلِ اعتبار پاکستانی بیٹنگ لائن پہ تھا جو انڈیا کے خلاف اندوہناک شکست کا صدمہ سہنے کے بعد شدید دباؤ کا شکار تھی۔
مگر جونہی فخر زمان نے پارنیل کے خلاف اپنے بازو کھولے، پاکستانی اننگز کی سمت بدلنے لگی۔ فخر زمان کا کریز پہ قیام زیادہ طویل نہیں تھا مگر اس محدود سے وقت میں انھوں نے نہ صرف جنوبی افریقی اٹیک پہ دباؤ دوگنا کر دیا بلکہ اپنی بے خطر کرکٹ سے اپنے ساتھی بلے بازوں پہ بھی توقعات کا بوجھ بڑھا دیا۔
جیسے اس اہم جیت نے پاکستان کی چیمپیئنز ٹرافی کی مہم میں نئی روح پھونک دی تھی اور آٹھویں نمبر کی ٹیم سرفراز احمد کی قیادت میں پہلی بار چیمپیئنز ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کر گئی تھی، کچھ ویسا ہی عکس یہاں محمد حارث کی اننگز میں نظر آیا، گو کہ سیمی فائنل تک رسائی اب پاکستان کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہی اور انھیں قدرت کے نظام کا بھی منتظر رہنا ہے۔
فخر زمان کی انجری نے پاکستانی تھنک ٹینک کو مجبور کر ڈالا کہ وہ محمد حارث پہ تکیہ کریں اور حارث نے بھی جواب میں اپنی ٹیم کو بالکل مایوس نہیں کیا بلکہ اپنے پیشرو فخر زمان ہی کی طرح اپنی بیٹنگ لائن کی مہم جوئی کو ایک نئی جہت سے آشنا کر دیا۔
فخر زمان ہی کی طرح ان کا بھی کریز پہ قیام محدود رہا مگر اس مختصر سے دورانئے میں انھوں نے جنوبی افریقی پیس کا وہ حشر کیا کہ ٹیمبا باوومہ کے سبھی عزائم پسپائی اختیار کر کے مدافعت پہ مائل ہونے لگے۔
ربادا کی پیس کو جس طرح حارث نے اپنے مفاد میں استعمال کیا، اس کی بدولت بعد ازاں افتخار احمد کو اننگز کی ابتدا میں سانس لینے کا موقع مل گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ پاکستانی بیٹنگ لائن میں سے افتخار احمد ان کنڈیشنز کے لیے بہترین تکنیک کے مالک ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ جس طرح سے وہ پچھلے قدموں پہ جم کے پیس کے خلاف اپنے زورِ بازو کا استعمال کرتے ہیں، وہ آسٹریلین وکٹوں پہ عموماً بار آور ثابت ہوتا ہے۔ اور پھر جب شاداب خان نے بھی اپنے کیریئر کی ایک یادگار اننگز کھیل ڈالی تو جنوبی افریقی کیمپ میں خدشات کے بادل منڈلانے لگے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جس نئے عزم کا اظہار پاکستانی بیٹنگ نے کیا، عین اسی کا اعادہ بولنگ لائن نے بھی کیا۔ شاہین شاہ آفریدی انجری کے بعد اپنی پیس سے سمجھوتہ کر کے صحیح لینتھ پہ حملہ آور ہوئے اور پہلے ہی اوور میں کوئنٹن ڈی کوک کی وکٹ حاصل کر کے ڈیوڈ ملر کی خدمات سے محروم بیٹنگ لائن پہ بوجھ بڑھا دیا۔
یہ بھی پڑھیے
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ٹورنامنٹ میں ایک مایوس کن آغاز کے بعد دھیرے دھیرے پاکستانی ٹیم اپنے اصل کی طرف لوٹ رہی ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف ایسے خطیر مارجن سے کامیابی ایک بہت مثبت اشاریہ ہے جہاں یہ ٹیم خوف کے بتوں کو پاش پاش کرتی نظر آئی ہے۔
المیہ مگر یہ ہے کہ یہ نشاطِ ثانیہ سیمی فائنل تک رسائی کی کوئی سند نہیں دے سکتی۔ اگر پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف بھی ایسی ہی مکمل کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو بھی اسے زمبابوے اور نیدرلینڈز کی مدد درکار ہو گی۔
پاکستان کی آئی سی سی ایونٹس میں کامیابیوں اور قسمت کا بہت تعلق رہا ہے اور آسٹریلیا میں جاری حالیہ موسمیاتی لہر نتائج کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستانی شائقین کے ہاں ابھی بھی مثبت پسندی کی گنجائش موجود ہے کہ اگر جنوبی افریقہ اور نیدرلینڈز کا میچ بارش کی نذر ہو جائے تو پاکستان سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
لیکن اس ساری اگر مگر کے بیچ اس خوش شگونی سے صرفِ نظر ممکن نہیں کہ سڈنی میں پاکستان ایک یکسر الگ ٹیم نظر آئی۔
بے خوفی چہروں سے عیاں تھی اور کاوش میں ایک واضح عزم تھا۔ پاکستانی شائقین کو نہ صرف ایسی مزید بے خوفی کی دعا کرتے رہنا ہو گا بلکہ دیگر میچز کے نتائج کے لئے بھی آسمان کی طرف تکنا ہو گا۔











