پاکستان کو دوسرے ون ڈے میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 84 رنز سے شکست: ’کم از کم کھیل کر تو ہاریں، تھوڑا تو لڑیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 84 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل کر لی ہے۔
نیوزی لینڈ کے شہر ہملٹن میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر ایک بار پھر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل 29 مارچ کو کھیلے جانے والے پہلے ون ڈے میں بھی پاکستان نے نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی اور اس میں بھی پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بدھ کے روز کھیلے جانے والے میچ میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر292 رنز بنائے۔
ایک موقع پر نیوزی لینڈ کے 132 کے سکور پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے لیکن اس کے بعد مچل ہے اور محد ارسلان عباس کی جوڑی نے ٹیم کو سہارا دیا۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ مچل نے سکور کیا۔ انھوں نے 78 گیندوں پر 99 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ اس سیریز میں نیوزی لینڈ کی جانب سے ون ڈے میں ڈیبیو کرنے والے پاکستانی نژاد بلے باز محمد ارسلان عباس نے ایک بار پھر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 66 گیندوں پر 41 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے سپنر سفیان مقیم نے 10 اوورز میں 33 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کے علاوہ محمد وسیم نے دو جبکہ فہیم اشرف، عاکف جاوید اور حارث رؤف نے ایک ایک کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
293 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا اور آدھی ٹیم 12ویں اوور میں محض 32 کے سکور پر پویلین لوٹ چکی تھی۔
اوپنر عبداللہ شفیق اورامام الحق بالترتیب ایک اور تین رنز بنا سکے جبکہ مڈل آرڈر بھی سکور میں خاطر خوا اضافہ نہ کر سکا۔ بابر اعظم نے ایک اور کپتان محمد رضوان نے پانچ رنز بنائے جبکہ سلمان علی آغا بھی ڈبل ڈجٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہی پویلین لوٹ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد طیب طاہر اور فہیم اشرف نے سکور بورڈ کو کچھ حد تک سنبھالا تاہم طیب طاہر بھی سکور میں محض 13 رنز کا اضافہ کر سکے اور یوں 65 کے مجموعی سکور پر پاکستان کی چھٹی وکٹ گر گئی۔
آؤٹ ہونے والے ساتویں کھلاڑی محمد وسیم تھے۔ ان کے بعد فہیم اشرف کا ساتھ دینے کے لیے فاسٹ بالر حارث رؤف آئے۔ حارث تین رنز کے افرادی سکور پر بیٹنگ کر رہے تھے جب انھیں ہیلمٹ پر گیند لگنے کے بعد گراؤنڈ سے باہر جانا پڑا۔ ان کے بعد عاکف جاوید کھیلنے آئے لیکن وہ بھی 8 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
حارث رؤف کے ریٹائرڈ ہرٹ ہونے کے بعد ان کے متبادل کے طور پر نسیم شاہ کھیلنے آئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فہیم اشرف اور نسیم شاہ نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نویں وکٹ کی شراکت داری میں 60 رنز جوڑے۔ ان دونوں نے اپنے ون ڈے کیریئرز کی پہلی نصف سنچریاں بنائیں۔ فہیم اشرف 73 رنز جبکہ نسیم 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی پوری ٹیم 42ویں اوور میں 208 رنز کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہو گئی۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے بین سیئرز نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مچل ہے 99 رنز بنانے اور چار کیچز پکڑنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
خیال رہے کہ سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 73 رنز سے شکست دی تھی جبکہ اس دورے پر کھیلے جانے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی پاکستان کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
’مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم پر پابندی لگا دینی چاہیے‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے مسلسل ناقص کارکردگی اور دوسرے ون ڈے میں بھی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بھاری شکست کے بعد شائقین پاکستانی کرکٹرز پر سخت تنقید کرتے نظر آئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان ٹیم نے آج تو کمال کر دیا۔ ’اتنی بری پرفارمنس، دل چاہتا ہے کچھ اور ہی کر لیں!‘
احسن نامی ایک صارف لکھتے ہیں ’ہارنا مسئلہ نہیں لیکن کم از کم کھیل کر تو ہاریں۔ تھوڑا تو لڑیں۔‘

،تصویر کا ذریعہX
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے پاکستان ٹیم پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔‘
میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے زرق افضل نامی صارف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم اب چوٹی کی کرکٹ ٹیم نہیں رہی بلکہ اس کا شمار چھوٹی ٹیموں میں کرنا چاہیے۔
اسد خان نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’میں معافی چاہتا ہوں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ آپ لوگ جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر حارث رؤف جیسے کھلاڑی سوچتے ہیں کہ ہم ان پر تنقید کرنے کے منتظر ہیں تو وہ جیت کر کیوں نہیں دکھانا شروع کر دیتے؟‘
جہاں ایک طرف شائقین پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سوال اٹھاتے نظر آئے وہیں لوگ فہم اشرف اور بیٹنگ کی تعریف کرتے دکھے۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ٹیم میں شامل نہ ہونے کے باوجود نسیم شاہ نے ون ڈے کیریئر کی پہلی نصف سنچری سکور کر لی۔
شاہ زیب علی نامی صارف لکھتے ہیں کہ پاکستان کے ٹاپ آرڈر کو فہیم اشرف اور نسیم شاہ کی بیٹنگ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔













