اسلام آباد کے علاقے سیدپور میں تیندووں کی موجودگی: ’لگتا ہے وہ ہمارے خوف کو انجوائے کر رہے تھے‘

تیندوا

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)
    • مصنف, محمد زبیر
    • عہدہ, صحافی

’رات کو تیندوے نے ہمارے گھر کی چھت پر بکریوں کے لیے حملہ کیا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ تیندووں کا ایک پورا خاندان ہے جو ہمارے گاؤں میں آیا ہوا ہے۔‘

یہ کہنا ہے کہ اسلام آباد کے علاقے سید پور کے رہائشی ملک وقاص کا، جن کا گھر گذشتہ رات تیندووں کا نشانہ بنا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمارا گھر پہاڑ کے قریب ہے۔ ہمارے گھر کی چھت پر بکریاں تھیں۔ تیندوے ایک بکری اور ایک مینا کو اٹھا کر لے گئے۔‘

ملک وقاص کا دعویٰ ہے کہ ان کے گھر کی چھت پر بکریوں پر حملہ ایک سے زیادہ تیندووں نے کیا تھا۔

ملک وقاص کا کہنا تھا کہ جب تیندووں نے حملہ کیا تو ہم نے شور شرابہ کیا جس کے نتیجے میں وہ بھاگ کر اوپر پہاڑ پر چڑھ گئے جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سید پور میں کچھ تیندووں کی موجودگی کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

تیندوے کے پاؤں کے نشان

،تصویر کا ذریعہMalik Waqas

،تصویر کا کیپشنتیندوے کے پیروں کے نشانات

’تیندوے پہاڑ سے ہمارے خوف و ہراس کو انجوائے کر رہے تھے‘

سید پور گاؤں کے رہائشی عامر کیانی کہتے ہیں کہ جب سے سردیاں شروع ہوئی ہیں، اس وقت سے سید پور گاؤں کے قریب کے پہاڑ پر لوگوں کے مال مویشی تیندووں کی جانب سے مارے جانے کی اطلاعات آ رہی ہیں، جس کے بعد لوگوں نے اپنے مال مویشی پہاڑ پر بھیجنا بند کر دیے تھے۔

عامر کیانی کا کہنا تھا کہ لوگ اب مال مویشی کو اپنے گھر کی چھت یا اپنی زمینوں سے نہیں جانے دے رہے لیکن گذشتہ رات کا واقعہ پہاڑ کے بالکل قریب گھر کے پاس پیش آیا۔

عامر کیانی کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہوا۔ ’مساجد میں اعلان کیے گے۔ ویسے بھی کئی دن سے شام کے وقت لوگ اپنے بچوں کو باہر نہیں جانے دے رہے۔‘

’میرا تو خیال ہے کہ جب علاقے میں شور شرابہ ہوا تھا تو اس وقت وہ پہاڑ پر اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔ وہ پہاڑ سے ہمارے خوف و ہراس کو انجوائے کر رہے تھے۔‘

’ہو سکتا ہے تیندوے نتھیا گلی سے آئے ہوں‘

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمینٹ بورڈ کے مطابق تیندوے نے گاؤں میں کوئی نقصاں نہیں کیا اور رات کو ہی اس علاقے سے چلے گئے تھے۔

بورڈ کی چیئرمین رعنا ایس خان کہتی ہیں کہ ہمارا عملہ اس وقت گراونڈ پر موجود ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہ کتنے تیندوے تھے، اس بارے میں ابھی کچھ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ ہم ان کے پاؤں کے نشانات جمع کر رہے ہیں۔ ایک خیال تو یہ ہے کہ یہ ایک تیندوا تھا اور دوسرا یہ کہ شاید یہ ایک ماں اور اس کے دو کم عمر بچے تھے۔‘

رعنا خان کا کہنا ہے کہ ہمارے سروے اور کیمرا ٹریپ کے مطابق مارگلہ ہل نیشنل پارک کے علاقے میں لگ بھگ آٹھ تیندوے موجود ہیں۔

’ان آٹھ تیندووں نے مارگلہ ہل نیشنل پارک کے 70 ہزار کلو میٹر سکوائر پر اپنی آماجگاہیں بنا رکھی ہیں، جہاں پر ان کو شکار میسر ہوتا ہے۔

سید پور گاؤں

،تصویر کا ذریعہMalik Waqas

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعہ کیسے پیش آیا اس بارے میں ماہرین کی مختلف رائے سامنے آ رہی ہے۔

’ایک تو یہ کہ بارشیں اور برفباری ہوئی ہیں۔ جس میں جنگلی حیات اور تیندووں کا اوپر سے نیچے آ جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ایسا عموماً سردیوں میں ہوتا ہے۔‘

دوسری رائے یہ بھی ہے کہ یہ تیندوا یا تیندوے گلیات سے آئے ہوں گے کیونکہ وہاں برفباری ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہاں کی کسی آبادی کے قریب جانے کی بجائے تیندووں نے مارگلہ ہل کے اپنے ماحول دوست علاقے میں آنا زیادہ بہتر سمجھا ہو۔ جہاں پر ان کے لیے قدرتی ماحول موجود ہے۔‘

رعنا ایس خان کہتی ہیں کہ یہ جس علاقے میں آئے، وہ علاقہ نیشنل پارک کا علاقہ ہے۔

’آبادی کو نیشنل پارک کے علاقے میں بڑھنے سے روکا جائے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

رعنا ایس خان کہتی ہے کہ سید پور گاؤں بڑھتے بڑھتے مارگلہ ہل نیشنل پارک کے علاقے میں کافی اندر تک جا پہنچا ہے۔

’مونال وغیرہ کے علاقے بھی نیشنل پارک میں ہیں۔ مونال اور اس علاقے میں کئی مرتبہ تیندوے کو دیکھا گیا۔ تیندوا اور جنگلی حیات صرف اور صرف اپنے مسکن تک محدود رہتی ہیں۔ وہ انسانوں کے علاقے کا رخ نہیں کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر تیندوے کے مسکن اور نیشنل پارک کے علاقے میں آبادی بڑھتی گئی تو اس سے ماحول کو نقصان پہنچے گا اور پھر اس طرح کے واقعات کا خدشہ موجود ہے۔

’ویسے بھی عموماً دیکھا گیا کہ آبادی سے ہٹ کر اور پہاڑ کے قریب جو مکانات ہوتے ہں وہاں پر لائیٹس وغیرہ بھی کم ہوتی ہیں۔ اگر وہاں پر لائیٹس وغیرہ بھی ہوں تو تیندوا اس علاقے کا رخ نہیں کرتا۔‘

رعنا ایس خان کہتی ہیں کہ تیندوے کے حوالے سے مارگلہ ہل نیشنل پارک انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یہ علاقہ اس کا انتہائی محفوظ ترین علاقہ ہے۔ یہاں پر اس کا شکا رموجود ہے جبکہ تیندوے کے غیر قانونی شکار ہونے کا بھی کوئی خدشہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسلام آباد اور اس کے نواحی علاقے تیندوا کے پڑوسی ہیں اور ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ کس طرح ہم نے تیندوا کا پڑوسی ہونے کے ناطے زندگی گزارنی ہے۔

’تیندوا انسانوں سے خوفزدہ ہوتا ہے وہ کبھی بھی انسانوں کے قریب نہیں جاتا یہ انسان ہی اس کی حدود میں مداخلت کرتے ہیں۔‘