’محمد زندہ ہیں‘: حزب اللہ کا جنگجو تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے سے پانچ ماہ بعد کیسے زندہ برآمد ہوا؟

- مصنف, كارين طربيہ
- عہدہ, بی بی سی عربی، بیروت
اسرائیلی فوج کی بمباری اور اِس کے نتیجے میں تباہ و برباد ہونے والے لبنان کے ایک گاؤں میں گذشتہ دنوں ایک شور اٹھا کہ ’محمد زندہ ہیں۔‘
محمد داہر حزب اللہ کے ایک جنگجو ہیں۔ حالیہ دنوں میں اُن کی سامنے آنے والی تصاویر میں وہ بڑھی ہوئی داڑھی اور لمبے بالوں کے ساتھ جینز پہنے دکھائی دے رہے ہیں۔
لوگوں نے اُن کے زندہ ہونے کا جشن منانے کی غرض سے انھیں کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا لیکن جشن منانے والوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ محمد داہر نے عمارت کے ملبے تلے چند دن یا ہفتے نہیں بلکہ مہینے گزارے ہیں۔ اس دوران وہ تمام تر اسرائیلی بمباری کے باوجود زندہ رہے اور ملبے اور تباہی سے بھری زمین کے نیچے ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد دوبارہ سورج دیکھنے کے قابل ہوئے۔
وہ لبنان میں حزب اللہ کے لاپتہ جنگجوؤں میں شامل تھے۔ وہ شاید ان ہزاروں جنگجوؤں میں سے ایک تھے جو اسرائیل کے خلاف جنگی مشن پر سرحدی دیہات میں اکیلے رہ رہے تھے۔ اِن جنگجوؤں میں سے بہت سے اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔
اس کے بعد اسرائیلی فوج لبنان کے ان سرحدی قصبوں میں داخل ہوئی اور ان کا کنٹرول سنبھال لیا، اس دوران فوج کی جانب سے پہلے سے تباہ ہونے والی عمارتوں اور گھروں پر بڑے پیمانے پر اس لیے بمباری اور گولہ باری کی گئی تاکہ اِن عمارتوں کے نیچے ممکنہ طور پر موجود حزب اللہ کی سرنگوں کو تباہ کیا جا سکے۔
محمد داہر سرحدی سرحدی قصبے ’کفرکلا‘ میں موجود تھے اور یہ ان چند گاؤں اور دیہات میں سے ایک ہے جو اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہوا ہے۔ یہاں اسرائیل نے ایک بھی عمارت رہائش کے قابل نہیں چھوڑی ہے۔
اسرائیل، حزب اللہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی تعداد فی الحال معلوم نہیں ہے۔ حزب اللہ نے ابھی تک اپنے مرنے والے جنگجوؤں کی حتمی تعداد فراہم نہیں کی ہے اور لاپتہ جنگجوؤں کی باقیات کی تلاش کا کام اب بھی جاری ہے۔

محمد ایسے ہی جنگجوؤں میں سے ایک ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔ گذشتہ ہفتے جب اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد سرحدی پٹی پر واقع قصبے ’کفرکلا‘ کے رہائشی واپس لوٹے تو محمد اپنے دادا کے گھر کے ملبے تلے سے اچھی صحت میں دوبارہ نمودار ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے ملبے تلے سے زندہ برآمد ہونے کی خبر لبنان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور محمد داہر توجہ کا مرکز بن گئے۔
لبنانی فوج ابھی بھی اس سرحدی قصبے کے رہائشیوں کی گاڑیوں کو واپس یہاں داخل ہونے سے روک رہی ہے تاکہ پہلے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہاں کوئی دھماکہ خیز مواد باقی نہیں رہا۔ محمد داہر کے اہلخانہ سمیت کچھ دیگر خاندان پیدل ہی اس علاقے میں واپس داخل ہوئے ہیں۔
بی بی سی محمد داہر یا اُن کے خاندان کے کسی فرد سے براہ راست رابطہ نہیں کر پائی ہے مگر ہم نے اس قصبے کے ایک ایسے رہائشی سے بات کی ہے جو محمد داہر اور ان کے خاندان کو اچھی طرح جانتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ محمد تقریبا پانچ ماہ تک زیر زمین رہے۔
بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ اس قصبے میں واقع محمد داہر کا خاندانی گھر 1950 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت اس قصبے میں بننے والے گھروں کے نیچے زیر زمین پناہ گاہیں تعمیر کی جاتی تھیں جو خوراک اور سامان رسد ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔
اس رہائشی کے مطابق محمد داہر کے گھر کے نیچے بھی ایسا ہی ایک سٹور ہاؤس موجود تھا اور جب اسرائیلی گولہ باری سے یہ گھر تباہ ہو گیا تو محمد نے اپنے گھر کے نیچے موجود اسی پناہ گاہ میں پناہ لی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لبنان کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جب محمد داہر بازیاب ہوئے تو انھوں نے حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے بارے میں دریافت کیا، کیونکہ انھیں اس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ حسن نصر اللہ اسرائیلی حملے میں مارے جا چکے تھے۔
محمد داہر نے مبینہ طور پر وہاں موجود افراد سے کہا کہ ’مجھے ماسٹر (حسن نصر اللہ) کے بارے میں یقین دلاؤ۔‘
عینی شاہدین کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس پورے عرصے کے دوران باہر کی دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے قطعی لاعلم تھے۔
محمد داہر کی کہانی حزب اللہ کی حمایت کرنے والے نوجوانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے جن کے گھر اور علاقے بڑے پیمانے پر ہوئی تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔
محمد کے قصبے کے ایک اور رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ (داہر) ہر چیز سے دور تھا (یعنی فون، ٹی وی وغیرہ) اور شاید اسی وجہ سے اسرائیلی اسے تلاش نہیں کر سکے۔ یہاں تک کہ سراغ رساں کتے بھی اس کی گھر کے ملبے تک موجودگی کا سراغ نہیں لگا پائے تھے۔‘
بی بی سی نے لبنان میں ایسی ماؤں سے بات کی ہے جنھیں اب تک اپنے بچوں کا کوئی سراغ یا باقیات نہیں ملی ہیں۔
ان میں سے ایک کا کہنا تھا ’ہم ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتے لہٰذا مستقبل میں ہم محمد جیسا ماڈل اپنائیں گے۔ ہم ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر ترک کر کے اُن سے لڑیں گے۔ ہم اپنا سراغ چھوڑے بغیر اپنی زمین کا دفاع کریں گے۔‘











