ڈیوڈ کولمین ہیڈلی: ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ، جس نے تاج ہوٹل سے تفریحاً تولیہ اور کافی کپ چرایا

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی
کہا جاتا ہے کہ ستمبر 2006 میں جب ڈیوڈ ہیڈلی پہلی بار تاج ہوٹل میں داخل ہوئے تو وہاں کی شان و شوکت اور وہاں کام کرنے والے سٹاف کے رویے کو دیکھ کر انھیں لگا کہ اس شاندار جگہ کو تباہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔
ممبئی کے اپنے پہلے دورے کے دوران ہیڈلی کے پاس تاج ہوٹل میں قیام کے پیسے نہیں تھے۔ ہیڈلی تاج ہوٹل سے ساڑھے چار میل دور بھولا بھائی روڈ پر اپنا اڈہ قائم کرنے کے بعد تقریباً روزانہ ہی تاج ہوٹل جاتے تھے۔
وہاں موجود ویٹر، مینیجر اور مہمان اکثر انھیں ہاربر بار میں فرانسیسی شیمپین کا گلاس ہاتھ میں لیے دیکھتے تھے۔ ہیڈلی کو کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔
ایڈرین لیوی اور کیتھی سکاٹ کلارک ممبئی حملوں پر اپنی کتاب ’دی سیج، دی اٹیک آن دی تاج‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہیڈلی کا قد چھ فٹ دو انچ تھا۔ ان کے لمبے سنہرے بال پونی ٹیل میں بندھے ہوتے تھے۔ وہ اکثر جینز اور شرٹ میں ہوتے تھے، ان کے کندھوں پر چمڑے کی جیکٹ لٹک رہی ہوتی تھی۔‘
تقریباً 9 لاکھ روپے کی ایک رولیکس گھڑی ان کی کلائی پر ہوتی تھی۔ انھیں ممبئی میں ڈیوڈ کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن اپنی بہن شیری، سوتیلے بھائیوں حمزہ اور دانیال اور بیویوں پورسیا، شازیہ اور فائزہ کے لیے وہ ایک پاکستانی نژاد امریکی تھے، جن کا اصل نام داؤد سلیم گیلانی تھا۔

،تصویر کا ذریعہPenguin Books
والد پاکستان کے مشہور براڈ کاسٹر
داؤد یا یوں کہہ لیں کہ ڈیوڈ کے والد سید سلیم گیلانی پاکستان کے مشہور براڈ کاسٹر تھے۔ جب وہ کچھ سال کے لیے وائس آف امریکہ کے لیے کام کرنے واشنگٹن گئے تو ان کی ملاقات 19 سالہ شیرل سے ہوئی، جو میری لینڈ یونیورسٹی میں گریجویٹ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان آ گئے لیکن یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی اور 1966 میں شیرل اور گیلانی میں طلاق ہو گئی۔
شیرل امریکہ واپس آ گئیں اور داؤد اپنے والد اور سوتیلی ماں کے ساتھ لاہور میں رہے لیکن جب داؤد 16 سال کے ہوئے تو وہ بھی اپنی ماں کے ساتھ امریکہ چلے گئے۔
1984 میں پاکستان آنے جانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ اس دوران وہ منشیات کے سمگلروں سے رابطے میں آئے اور ہیروئن کی سمگلنگ میں ملوث ہو گئے۔
چار سال بعد کسٹم افسران نے انھیں فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر دو کلو ہیروئن کے ساتھ پکڑا اور ان کے والد نے ان سے اپنے تمام تعلقات ختم کر دیے۔
جرمن حکام نے انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا۔ وہاں انھوں نے امریکیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت یہ طے پایا کہ وہ ایک مخبر کے طور پر کام کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہیروئن کے نیٹ ورک کی خفیہ معلومات ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) کو دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
القاعدہ اور لشکر سے ہمدردی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
داؤد اگست 1999 میں پاکستان واپس آئے اور امریکی حکومت نے ان کے لیے اس سفر کا ہوائی ٹکٹ خریدا۔ کیتھی کلارک اورایڈرین لیوی لکھتے ہیں کہ ’ڈیوڈ نے دراندازی کے ایک بہت ہی کتابی طریقہ پر عمل کیا اور ایک پاکستانی خاتون شازیہ احمد سے شادی کر لی۔‘
اپنے والد کی مدد سے، جو اب تک ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بن چکے تھے، انھوں نے لاہور کینال کے قریب کے علاقے میں مکان خریدا۔
سنہ 2000 کے آخر میں، جب القاعدہ نے یمن میں یو ایس ایس کول پر حملہ کیا تو ڈیوڈ نے لشکر جہاد فنڈ میں 50,000 روپے عطیہ کیے اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی تقریر میں شرکت کی۔
اگلے ڈھائی سال تک داؤد کبھی پاکستان اور کبھی امریکہ میں رہے۔ وہ ان دونوں جگہوں پر مختلف زندگی گزار رہے تھے۔
اس دوران وہ لشکر سے مکمل رابطے میں آ چکے تھے اور لاہور سے 15 کلومیٹر دور مریدکے میں لشکر کے کیمپ میں تربیت لے رہے تھے۔
اس دوران انھوں نے شلوار قمیض پہننا شروع کر دی تھی جبکہ شراب، ٹی وی اور موبائل فون سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
ڈنمارک کے مشہور صحافی کیر سورنسن نے اپنی کتاب ’دی مائنڈ آف اے ٹیررسٹ دی سٹرینج کیس آف ڈیوڈ ہیڈلی‘ میں لکھا ہے:
’داؤد کا خواب تھا کہ انھیں کشمیر میں لڑنے کے لیے بھیجا جائے لیکن لشکر طیبہ کے رہنما ذکی الرحمان لکھوی کی نظر میں، داؤد اس مشن کے لیے بہت بوڑھے تھے۔ انھوں نے لشکر طیبہ کے کمانڈر ساجد میر کو بتایا کہ وہ انڈیا میں داخل ہونا چاہتے ہیں لیکن اس میں ہیڈلی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ بڑے حملے کے منصوبے میں لشکر کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو کیمرہ اور نوٹ بک کے ساتھ طویل عرصے تک ممبئی کا سفر کر سکے اور جسے لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہPenguin
ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے نام پر نیا پاسپورٹ
جون 2006 میں داؤد کو باضابطہ طور پر اس مہم میں شامل کیا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ امریکی سیاح کا بھیس بدل کر سیر و تفریح کے لیے ممبئی جائیں گے اور وہاں تمام معلومات جمع کریں گے۔
اس کے لیے داؤد پہلے امریکہ گئے، جہاں انھوں نے داؤد کا نام چھوڑ کر نیا نام ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اختیار کیا اور اس نئے نام سے بنایا ہوا نیا پاسپورٹ حاصل کیا۔
کیر سورنسن نے لکھا ہے کہ ’جب ہیڈلی پاکستان واپس آئے تو ساجد میر نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ نماز میں سجدہ کرتے ہوئے اپنی پیشانی کو آہستہ آہستہ زمین سے چھوئیں تاکہ ان کی پیشانی پر وہ نشان نہ لگے جو پانچ وقت نماز پڑھنے والوں کی پیشانی پربن جاتا ہے۔‘
اس کے بعد ہیڈلی کو اس کردار کے لیے ایک اعلیٰ تربیت دی گئی۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہیڈلی کے ہینڈلرز نے انھیں ممبئی میں اخراجات کے لیے 25,000 ڈالر بھی دیے۔ جب ہیڈلی انڈیا جانے کے لیے تیار ہوئے تو انھیں دس ہندسوں پر مشتمل ایک نمبر دیا گیا، جس کے پہلے تین ہندسے 646 تھے، جو کہ امریکہ میں مین ہٹن کا ایریا کوڈ تھے۔‘
’لیکن اس نمبر کو ڈائل کرنے پران کی کالز پاکستان میں ان کے ہینڈلرز کو جاتی تھیں۔ ہیڈلی کو کہا گیا کہ اگر وہ ان سے رابطہ کرنا چاہیں تو اس نمبر کا ہی استعمال کریں۔

،تصویر کا ذریعہFBI
راہول بھٹ اور ولاس ورک سے دوستی
ہیڈلی نے ستمبر 2006 میں پہلی بار ممبئی میں قدم رکھا اور اے سی مارکیٹ میں اپنا دفتر قائم کیا۔ ہیڈلی نے اپنی کمپنی کا نام ’فرسٹ ورلڈ‘ رکھا تھا جس کا کام لوگوں کو امریکہ کا ویزا حاصل کرنے میں مدد کرنا تھا۔ انھوں نے اخبارات میں اپنی کمپنی کے اشتہارات بھی دیے۔
ہیڈلی نے ’فائیو فٹنس ہیلتھ کلب‘ جانا شروع کیا، جہاں انھوں نے شیو سینا کے رکن ولاس ورک سے ملاقات کی۔
ولاس کے ذریعے ان کی ملاقات مشہور پروڈیوسر مہیش بھٹ کے بیٹے راہول بھٹ سے ہوئی۔ بعد میں راہول بھٹ نے ایک کتاب ’Headley and I‘ لکھی۔
اس کتاب میں انھوں نے لکھا کہ ’ہیڈلی کے بارے میں سب سے پہلی چیز جس نے مجھے متاثر کیا وہ اس کی آنکھیں تھیں۔ ایک بھوری اور دوسری سبز تھی۔ اس کا لہجہ دوستانہ تھا۔ میں اس کے ہاتھوں کی مضبوط اور پراعتماد گرفت سے متاثر ہوا۔ اس نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا۔ اس کے سر پر ٹوپی تھی اور وہ ہالی ووڈ اداکار سٹیو سیگل کی کاربن کاپی لگ رہا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھیل پوری اور پانی پوری کا دیوانہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
تاج ہوٹل سے تولیہ اور کافی کپ چرایا
سیاحت کے بہانے ہیڈلی نے دارالحکومت دلی کا دورہ بھی کیا۔ وہ خصوصی طور پر نیشنل ڈیفنس کالج گئے۔ بعد ازاں وہ ممبئی کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں فیشن شو دیکھنے بھی گئے۔
سورنسن نے لکھا ہے کہ ’ہیڈلی نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو بھی اپنے اہداف کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ انھوں نے گیٹ وے آف انڈیا اور پولیس ہیڈ کوارٹر کی تصاویر بھی لی تھیں۔ انھوں نے ممبئی سے ہی حملے میں ملوث دس لوگوں کے لیے بیگ خریدے تھے۔‘
’وہ تاج ہوٹل میں تین بار ٹھہرے اور صرف تفریح کے لیے ہوٹل سے ایک تولیہ اور کافی کپ ایک یادگار کے طور پر چرایا۔‘
ہیڈلی کی طرف سے لی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا ان کے ہینڈلرز نے بہت باریک بینی سے مطالعہ کیا اور اس کے ذریعہ بیان کردہ ہر جگہ کو گوگل ارتھ میپ سے دیکھا گیا تاکہ اس پورے آپریشن کا جائزہ لیا جا سکے۔
انھوں نے تاج ہوٹل کا ایک ماڈل بھی تیار کیا تھا جس میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے ہر راستے پر تفصیل سے بات کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPenguin
ممبئی میں لینڈنگ کی جگہ کا انتخاب
اس حملے میں ہیڈلی نے اس جگہ کا انتخاب کیا تھا جہاں انتہا پسندوں کو حملے کے لیے ممبئی میں اترنا تھا۔
ہیڈلی نے کئی امریکی اور برطانوی سیاحوں کے ساتھ فیری پر تاج ہوٹل کے آس پاس کے علاقے کے دو چکر لگائے تھے۔ پھر وہ مچھیروں کے ایک گاؤں بھی گئے۔
سورینسن نے لکھا ہے کہ ’ایک ماہی گیر نے ہیڈلی کو اگلے دن جلدی آنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ وہ ممبئی کے آس پاس کے سمندر کا حقیقی احساس حاصل کر سکیں۔‘
ابتدائی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تمام حملہ آور گیٹ وے آف انڈیا کے قریب اتریں گے لیکن ہیڈلی کی نظریں اس علاقے میں کئی بندوق بردار کشتیوں پر گئیں جن کا انتظام سکیورٹی گارڈز کے پاس تھا۔
’ساحل کے کنارے چھوٹا سا گاؤں اترنے کے لیے ایک بہتر جگہ تھی۔ وہاں کچھ لوگ موجود تھے لیکن وہ اس قسم کے نہیں تھے کہ وہ کوئی عجیب چیز دیکھ کر سوال پوچھیں یا پولیس کو فون کریں۔ ہیڈلی نے اس گاؤں کا انتخاب اس لیے کیا کہ وہ ایک دور دراز علاقہ تھا اور وہاں سے تیزی سے مین روڈ پر اتر کر بغیر کسی رکاوٹ کے منٹوں میں ٹیکسی لی جا سکتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہPenguin
ابتدائی طور پر جب حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی تو اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا تھا کہ حملے کے بعد حملہ آوروں کو انڈیا سے باہر لے جایا جائے۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ حملے کے بعد حملہ آور ایک بس کو ہائی جیک کر کے انڈیا یا کشمیر کی شمالی سرحد کی طرف بڑھیں گے یا پھر اندھیرے میں ہنگامہ آرائی کا فائدہ اٹھا کر کشتی کے ذریعے انڈین سرحد سے باہر چلے جائیں گے۔
یہ بھی سوچا جا رہا تھا کہ وہ چند ہفتے ممبئی کے ایک فلیٹ میں چھپے رہیں گے اور بعد میں انھیں وہاں سے نکال لیا جائے گا۔
سورینسن کے مطابق بعد میں ملنے والے سراغ سے پتا چلتا ہے کہ حملہ آور اس مفروضے کے تحت رہ رہے تھے کہ وہ پاکستان واپس چلے جائیں گے۔
’یہی وجہ تھی کہ انھوں نے حکم کے باوجود اس کشتی کو نہیں ڈبویا جس میں وہ سوار ہو کر ممبئی گئے تھے‘ لیکن ان کے ہینڈلرز جانتے تھے کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حملے کی تاریخ دو بار ملتوی کی گئی
ستمبر 2008 میں ہیڈلی کو ساجد میر کی طرف سے پیغام ملا کہ حملہ 29 ستمبر کو کیا جائے گا لیکن جب حملہ آوروں نے ممبئی کا سفر شروع کیا تو ان کی کشتی سمندر میں ڈوب گئی۔
یہ سب بچ گئے کیونکہ انھوں نے لائف جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ کچھ دن بعد جب ایک نئی کشتی اور نئے ہتھیاروں کے ساتھ دوبارہ سفر شروع کیا گیا تو اس میں بھی کچھ رکاوٹ تھی۔
ساجد میر اس بارے میں ہیڈلی کو مطلع کرتے رہے لیکن نومبر کے وسط میں ہیڈلی کو ساجد کی طرف سے ایک نیا پیغام ملا کہ جلد ہی حملے کی تیسری کوشش کی جائے گی۔
26 نومبر کی شام انھیں ایک اور پیغام ملا کہ حملہ شروع ہو گیا ہے۔ ہیڈلی نے اگلے تین دن اپنے ٹی وی کے سامنے گزارے۔
بعد ازاں انھوں نے امریکی جیل میں انڈین تحقیقاتی ایجنسی کے افسران کو بتایا کہ 26 نومبر کو جب میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا تو اچانک خبر آئی کہ ممبئی پر دس افراد نے حملہ کیا ہے۔
ہیڈلی نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے حملہ آوروں کو جگہ کی معلومات اور تفصیلات دی تھیں لیکن وہ کبھی حملہ آوروں سے ملے نہیں۔

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
ہیڈلی امریکہ میں گرفتار
مارچ 2009 میں، حملے کے چار ماہ بعد، ہیڈلی نے دوبارہ ممبئی کا دورہ کیا۔ اس بار وہ چرچ گیٹ کے ہوٹل آؤٹریم میں ٹھہرے جہاں وہ پہلے بھی ایک بار ٹھہر چکے تھے۔
3 اکتوبر 2009 کو ہیڈلی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پاکستان کے لیے فلاڈیلفیا کے ہوائی اڈے پر جہاز میں سوار ہو رہے تھے۔
بعد میں انڈیا کے سابق ہوم سیکریٹری جی کے پلئی نے واضح طور پر کہا کہ ہیڈلی کے ڈبل ایجنٹ ہونے کا امکان قابل اعتبار ہے۔
راہول بھٹ، جو کچھ دن تک ہیڈلی کے دوست تھے، نے لکھا کہ ’اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ ہیڈلی نہ صرف اپنا نام بدلنے میں کامیاب ہوا بلکہ اس نام سے نیا پاسپورٹ بھی حاصل کیا۔
وہ تین چار سال میں آٹھ یا نو بار انڈیا اور پاکستان سے باہر گئے، پوری دنیا جانتی ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ اپنی سیکورٹی کے بارے میں اتنا الرٹ تھا کہ امریکہ سے پاکستان جانے والے ہر مسافر کی نگرانی کی جا رہی تھی لیکن یہ سمجھ سے باہر ہے کہ اس دوران امریکی انتظامیہ نے ہیڈلی سے ایک بار بھی پوچھ گچھ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔‘
انڈیا اور امریکہ کے درمیان حوالگی کے معاہدے میں یہ شرط ہے کہ اگر کوئی شخص انڈیا میں جرم کرتا ہے اور امریکی سرزمین پر پکڑا جاتا ہے تو انڈیا اس کی حوالگی کا مطالبہ کر سکتا ہے لیکن ہیڈلی نے غالباً امریکہ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا بشرطیکہ کہ انھیں انڈیا یا پاکستان کے حوالے نہ کیا جائے۔
سابق ہوم سیکریٹری جی کے پلئی کا کہنا ہے کہ ’یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ہیڈلی کی گرفتاری کے بعد انڈین حکام کو ہیڈلی سے پوچھ گچھ کی اجازت لینے میں کافی وقت لگا اور اس کے باوجود انھیں صرف محدود سوالات کرنے کی اجازت دی گئی۔‘
’امریکیوں کو اندازہ تھا کہ اگر ہیڈلی سے مزید سوالات کیے گئے تو امریکی کردار پر پردہ ڈالنا مشکل ہو جائے گا۔‘
ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اس وقت امریکی جیل میں 35 برس کے لیے قید ہیں۔










