آرین خان کیس: داؤد ابراہیم، اجمل قصاب جیسے ناموں سے جڑی آرتھر روڈ جیل کو خطرناک ترین جیل کیوں کہا جاتا ہے؟

آرتھر روڈ جیل

،تصویر کا ذریعہINDRANIL MUKHERJEE

،تصویر کا کیپشنآرتھر روڈ جیل میں بہت سے بدنام زمانہ غنڈے، شوٹرز اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث قیدی اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں
    • مصنف, میانک بھاگوت
    • عہدہ, بی بی سی مراٹھی

شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان جس جیل میں تین ہفتے سے زائد عرصے تک قید رہے وہ جیل انڈیا میں ایک مرتبہ پھر موضوع بحث ہے۔

آرین کو گذشتہ ماہ کےاوائل میں منشیات کے مبینہ استعمال سے متعلقہ ایک کیس میں انڈیا کے انسداد منشیات کے ادارے، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)، نے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انھیں انڈیا کی خطرناک آرتھر روڈ جیل میں رکھا گیا تھا۔

آرتھر روڈ جیل میں بہت سے بدنام زمانہ غنڈے، شوٹرز اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث قیدی اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔

ماضی میں انڈیا کے کئی مشہور لوگ جیسا کہ کئی فلمی ستارے، انڈر ورلڈ ڈان، سیاستدان، صنعت کار اور سرکاری افسران اس جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔ ایسے ہی ہائی پروفائل قیدیوں کی وجہ سے ہی یہ جیل خبروں میں رہتی ہے۔

اسے ملک کی محفوظ ترین جیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 26/11 حملے کے مجرم اجمل امیر قصاب کا نام بھی اسی جیل سے جڑا ہوا ہے۔

آخر اس جیل کی کیا خاصیت ہے جو اسے انڈیا کی محفوظ ترین جیلوں میں سے ایک بناتی ہے؟

آرتھر روڈ جیل کب بنی؟

آرتھر روڈ جیل
،تصویر کا کیپشن’آرتھر روڈ جیل کا اصل نام ممبئی سینٹرل جیل ہے۔ لیکن آرتھر روڈ پر ہونے کی وجہ سے اسے عام طور پر آرتھر روڈ جیل کے نام سے جانا جاتا ہے‘

اس جیل کا نام سر جارج آرتھر کے نام پر رکھا گیا ہے جو سنہ 1842 سے سنہ 1846 تک بمبئی (اب ممبئی) کے گورنر تھے۔ یہ برطانوی دور حکومت میں سنہ 1925 میں تعمیر کی گئی تھی۔

جب اس جیل کو تعمیر کیا گیا تو اس کا مجموعی رقبہ دو ایکڑ اراضی پر محیط تھا۔ لیکن قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اس جیل میں نئی بیرکیں بنتی رہیں اور اس طرح آج یہ جیل کمپلیکس چھ ایکڑ اراضی پر پھیل گیا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ ممبئی کی سب سے بڑی جیل ہے۔

اسے سینٹرل جیل کا درجہ دینے کے لیے سنہ 1994 میں اپ گریڈ کیا گیا اور اسے موجودہ سرکاری نام 'ممبئی انٹرمیڈیٹ جیل' دیا گیا۔ لیکن یہ اب بھی پولیس، عدالتوں اور عام لوگوں میں یہ آرتھر روڈ جیل کے نام سے ہی مشہور ہے۔

آرتھر روڈ جیل کی تاریخ کے بارے میں اے بی پی نیوز کے کرائم رپورٹر جتیندر ڈکشٹ کہتے ہیں کہ 'آرتھر روڈ جیل کا اصل نام ممبئی سینٹرل جیل ہے۔ لیکن آرتھر روڈ پر ہونے کی وجہ سے اسے عام طور پر آرتھر روڈ جیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔'

ملک کی خطرناک ترین جیل

داؤد ابراہیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنداؤد ابراہیم کے گروپ سے منسلک کئی نشانے باز اس جیل میں قید ہیں

جتیندر ڈکشٹ کا کہنا ہے کہ 'آرتھر روڈ جیل کو ملک کی خطرناک ترین جیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔'

اس کی وجہ یہ ہے کہ سنگین جرائم کے بہت سے ملزمان حتیٰ کہ انڈر ورلڈ سے وابستہ افراد کو یہاں رکھا جاتا ہے۔

12 مارچ 1993 کے ممبئی دھماکوں کے ملزم اور انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم، چھوٹا شکیل، چھوٹا راجن اور ارون گاولی کے جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق رکھنے والے چند نشانے باز ابھی تک اس جیل میں قید ہیں۔

انڈہ سیل

سنگین جرائم یا دہشت گردی کے ملزمان کو رکھنے کے لیے یہاں ایک انتہائی محفوظ سیل تعمیر کیا گیا ہے جہاں انتہائی سنگین جرائم میں ملوث افراد کو قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔

جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سیل کا نام ان کی ظاہری شکل پر 'ایگ سیل' ہے کیونکہ اس کی شکل انڈے کے خلیے سے ملتی ہے۔

بدنام زمانہ غنڈے، شارپ شوٹرز اور دہشت گردی کے ملزمان کو اس سیل میں رکھا جاتا ہے۔سنہ 1993 کے بم دھماکوں کے ملزمان کو بھی یہاں رکھا گیا تھا۔

حکام کے مطابق آرتھر روڈ جیل میں 14 جنرل بیرکیں، ایک ہائی سکیورٹی سیل اور قیدیوں کو رکھنے کے لیے چھ الگ بیرکیں ہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران یہاں بیرکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

گینگسٹر ابو سالم اور داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کی حوالگی کے بعد انھیں بھی یہاں ایگ سیل میں رکھا گیا تھا۔

جیل کے تنازعات

ارون گاولی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنارون گاولی

آرتھر روڈ جیل سے داؤد ابراہیم گینگ، راجن گینگ اور گاولی گینگ کے نام جڑے ہوئے ہیں اور وہ جیل کے اندر اپنی بالادستی کی لڑائی میں ایک دوسرے کے خلاف بہت مرتبہ آمنے سامنے آ چکے ہیں۔

اس جیل میں گینگ وار کے واقعات بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ سنہ 2006 میں پیش آیا تھا۔

جتیندر ڈکشٹ کا کہنا ہے کہ جیل میں ہونے والے ایک حملے میں ابو سلیم اس وقت زخمی ہوئے جب دیگر ملزموں نے جیل میں کھانے کی پلیٹوں اور چمچوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ان پر حملہ کیا۔

گینگ وار کے واقعات کی وجہ سے جیل کے اندر قیدی بھی مارے گئے۔جبکہ جیل میں موجود قیدیوں سے موبائل فون اور منشیات ملنے کی خبریں مسلسل زیر بحث رہتی ہیں۔

’منی مین جنٹل مین، نو منی مینٹل مین‘

'منی مین جنٹلمین، نو منی مینٹل مین'، یہ بات ایک بار آرتھر روڈ جیل کے بارے میں کہی گئی تھی۔

جتیندر ڈکشٹ کہتے ہیں 'اس کا مطلب ہے کہ جن کے پاس پیسہ ہے، ان کے لیے یہ جیل جیل نہیں اور جن کے پاس پیسہ نہیں ہے، ان کے لیے یہ جیل کسی جہنم سے کم نہیں ہے۔'

جیل حکام کا کہنا ہے کہ 'زیادہ خطرے والے اور ہائی پروفائل قیدیوں کو الگ الگ رکھا جاتا ہے اور ایسے قیدیوں کو عام بیرکوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔'

جیل میں گینگ وار کے بارے میں ریاست کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پروین ڈکشٹ کا کہنا ہے کہ 'جیلوں میں گینگ وار جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، اس لیے مختلف گینگ کے قیدیوں کو مختلف جیلوں میں رکھا جانا چاہیے تاکہ یہ قیدی آمنے سامنے نہ آئیں۔'

اجمل قصاب
،تصویر کا کیپشناجمل قصاب

گنجائش سے زیادہ قیدی

جیل میں کل 800 قیدیوں کی گنجائش ہے تاہم جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہاں تقریباً 3000 قیدی فی الحال موجود ہیں۔

آرتھر روڈ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کا مسئلہ گذشتہ برسوں سے بڑھتا جا رہا ہے۔

مہاراشٹر حکومت نے نئی ممبئی کے تلوجا میں ایک نئی جیل بنائی ہے جس کے بعد آرتھر روڈ جیل میں قیدیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن اب بھی یہاں پر بھیڑ سے بھرپور قیدی بیرکیں ہیں۔

ریاست کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پروین ڈکشٹ کہتے ہیں 'ممبئی اور تھانے کی جیلوں میں بڑی تعداد میں قیدی ہیں۔ جبکہ ریاست کی دیگر جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس لیے بڑے شہروں سے قیدیوں کو وہاں بھیجا جانا چاہیے۔'

اکثر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ گنجائش سے زیادہ قیدیوں والی جیلوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی۔

1993 ممبئی دھماکوں کا مقدمہ

ممبئی بم دھماکوں کا کیس آرتھر روڈ جیل میں 12 سال سے زائد عرصے سے زیر سماعت ہے۔

اداکار سنجے دت، جو اس وقت حراست میں تھے، کو آرتھر روڈ جیل میں رکھا گیا تھا۔

سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ممبئی دھماکوں کے مقدمے کی سماعت جیل کے اندر قائم خصوصی ٹاڈا عدالت میں شروع ہوئی تھی۔

جسٹس پی ڈی کوڈے نے اس معاملے میں سنجے دت سمیت 100 ملزمان کو مجرم قرار دیا تھا۔ یہ سب اس آرتھر روڈ جیل میں قید تھے۔

عصمت دری کے الزام میں گرفتار اداکار شائنی آہوجا بھی اسی جیل میں قید رہ چکے ہیں۔

اجمل قصاب کے لیے خصوصی عدالت

انڈیا کی تاریخ میں سب سے بڑا دہشت گرد حملہ سنہ 2008 میں ممبئی میں ہوا تھا جس کے بعد دہشت گرد اجمل امیر قصاب کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

قصاب کو آرتھر روڈ جیل میں سخت سکیورٹی میں رکھا گیا تھا۔ قصاب کے لیے یہاں ایک انتہائی محفوظ بیرک تعمیر کی گئی تھی جبکہ ان کے کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت جیل ہی میں لگتی تھی۔

حکام کو خدشہ تھا کہ سیل سے خصوصی عدالت جانے کے دوران اجمل فرار ہو سکتے ہیں یا انھیں ہلاک کیا جا سکتا ہے اور اسی لیے ان کے سیل سے عدالت تک جانے کے لیے ایک سرنگ تیار کی گئی تھی۔

جب قصاب کو موت کی سزا سنائی گئی تو انھیں اس جیل سے پونے کی یرواڈا جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

سیاستدان اور اعلیٰ حکام

مہاراشٹر کی ٹھاکرے حکومت کے وزیر چھگن بھجبل کو بھی یہاں رکھا گیا تھا جب انھیں منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔

جبکہ پولیس اور سرکاری افسران جن پر بدعنوانی کے الزامات تھے وہ بھی اس جیل کے مکین رہ چکے ہیں۔

آرتھر روڈ جیل رہائشی علاقے میں ہے اس لیے یہاں سکیورٹی کا مسئلہ اہم ہے۔

اس لیے حکومت نے جیل کے ارد گرد تعمیرات کے حوالے سے کچھ قواعد و ضوابط بنائے ہیں۔ ان قوانین میں یہ بھی شامل ہے کہ جیل کے قریب عمارتیں زیادہ سے زیادہ کتنی اونچی ہو سکتی ہیں۔