ممبئی حملے کا مقدمہ: تاخیر کا ذمہ دار انڈیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
نو سال قبل ممبئی میں دہشت گرد حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں آٹھ افراد پر راولپنڈی کی ایک عدالت میں مقدمہ تاحال جاری ہے لیکن ملزمان کے وکیل اس تاخیر کا ذمہ دار انڈیا کو قرار دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ انڈیا کے اقتصادی دارالحکومت کہلائے جانے والے شہر ممبئی میں نو سال قبل 26 نومبر کو ایک حملہ ہوا تھا جو 60 گھنٹے جاری رہا تھا۔
حملے کی نویں سالگرہ پر وکیل دفاع رضوان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہر ہفتے اس معاملے پر سماعت ہو رہی ہے۔
اس جیل میں سات قیدی قید ہیں۔ رضوان عباسی نے کہا: 'ان معاملوں میں ابھی تک 72 گواہوں کی شہادت قلم بند ہوئی ہے۔ ابھی مزید گواہ باقی ہیں۔ لیکن یہ کیس اپنے حتمی مرحلے میں ہے۔'
ان تمام ملزمان کے خلاف سنہ 2009 میں سماعت شروع کی تھی لیکن انڈیا اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی کمی کی وجہ سے سماعت طویل عرصے تک کھنچتی چلی گئی۔
مقدمے میں اس قدر تاخیر کے لیے عباسی انڈیا کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عباسی کا کہنا ہے کہ 'ابتدا میں وقت بہت برباد ہوا۔ ہندوستانی حکام نے بھی تعاون نہیں کیا۔ پاکستانی حکام کو ثبوت جمع کرنے کے لیے انڈیا جانے کی اجازت نہیں ملی۔ اس کے بعد جانچ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا لیکن انڈیا نے شواہد کی جانچ کی اجازت نہیں دی۔'
اب پاکستان نے انڈیا سے 24 گواہوں کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
وکیل دفاع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کے سلسلے میں ہندوستانی حکام کو کئی خطوط بھیجے گئے۔ انھوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے تحقیقات کے تعلق سے ایک مخصوص شخص کو مقرر کیا ہے تاکہ اس مقدمے کو جلد از جلد اپنے انجام تک پہنچایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا اس مسئلے سے متعلق تمام درخواستوں کا جواب نہیں دے رہا۔ رضوان عباسی کا خیال ہے کہ 'انڈیا اپنے گواہوں کو پوچھ گچھ کے لیے پاکستان نہیں بھیجے گا کیونکہ وہ اس کیس کا فیصلہ نہیں چاہتا۔'
انھوں نے کہا کہ 'انڈیا اس معاملے کو زندہ رکھنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف اس کا سفارتی استعمال کیا جا سکے۔'
انڈیا نے تعاون نہیں کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارچ سنہ 2012 اور اکتوبر سنہ 2013 میں پاکستان کے ایک وفد نے انڈیا کا دورہ کیا تھا تاکہ شواہد جمع کرے۔ پہلا دورہ ناکام رہا اور دوسرے دورے میں، آٹھ رکنی وفد کو انڈیا میں گواہوں سے پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دی گئی۔
وفد میں وکلا، تفتیش کار اور عدالت کے حکام شامل تھے۔
اس معاملے میں ہندوستان نے کس قسم کے شواہد فراہم کیے؟ اس سوال کے جواب میں رضوان عباسی نے کہا کہ شواہد کے نام پر الزامات اور چند فائلوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا گيا۔
انھوں نے کہا کہ یہ دستاویزات عدالت میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ وکیل دفاع عباسی نے کہا کہ اس معاملے میں ٹھوس شواہد کی کمی ہے اور انھیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔
انڈیا ان دعووں کو ہمیشہ مسترد کرتا رہا ہے۔
وکیل دفاع کی طرح دوسری جانب کے وکلا کی بھی یہی رائے ہے۔ وکیلِ استغاثہ اکرم قریشی نے کہا: 'اس معاملے سے اہم ثبوت غائب ہیں۔ انڈیا نے اس معاملے میں اہم شواہد پیش نہیں کیے۔ انھوں نے کہا کہ ہتھیاروں، گولیوں اور سیل فونز کو تحقیقات کے لیے پاکستان نہیں بھیجا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں انڈیا کے لاپروا رویے کی وجہ سے اس مقدمے میں کوئی جان نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مقدمہ شروع ہونے کے بعد سے آٹھ ججوں کو کیوں تبدیل کیا گیا تھا؟
اس کے جواب میں وکیل دفاع رضوان عباسی نے کہا کہ یہ معمول کا تبادلہ ہے اور اس میں کچھ خاص بات نہیں ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ اس مقدمے میں ذکی الرحمن کو ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے اور انھیں ضمانت دے دی گئی ہے۔ آخر انھیں ضمانت کیوں دی گئی؟
اس کے جواب میں وکیل دفاع کا کہنا ہے کہ باقیوں کے لیے کسی نے ضمانت کا مطالبہ نہیں کیا۔
چھ مہینے میں مقدمے کا تصفیہ
انھوں نے کہا: 'ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ کیس کو چھ ماہ کے اندر حل کیا جائے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ باقی ملزمان کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ مقدمے کا جلد ہی فیصلہ ہو جائے گا۔'
انھوں نے کہا کہ 'اگر یہ معاملہ انڈیا کے عدم تعاون کے باعث طویل عرصے تک چلتا ہے تو ہم تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے پر مجبور ہو جائيں گے۔ یہ ان کا حق ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رضوان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ زکی الرحمن لکھوی پاکستان میں ہیں اور انھیں سکیورٹی کی وجوہات پر عدالت میں حاضر ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ ان کے بجائے ان کا وکیل عدالت میں پیش ہوتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مقدمہ اب جس مرحلے میں پہنچ چکا ہے وہاں سے انڈیا کے مطالبے پر پھر سے جانچ نہیں کی جا سکتی اور اب عدالت پیچھے نہیں ہٹے گی اور مقدمے کو اس کے انجام تک پہنچائے گی۔
ممبئی حملے کے تعلق سے انڈیا پاکستانی شہری حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہا ہے۔
حافظ سعید کے معاملے میں وکیل دفاع کا کہنا ہے کہ عدالت نے انھیں پہلے ہی تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حافظ سعید کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور ممبئی حملے میں ان کی شمولیت ثابت نہیں کی جا سکتی ہے۔










