ممبئی حملہ آوروں کو دفنا دیا گیا

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی، ممبئی
مہاراشٹر کے ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے منگل کے روز قانون ساز کونسل میں بیان دیا ہے کہ حکومت نے ممبئی پر حملہ آور ہونے والے نو شدت پسندوں کی لاشوں کو دفنا دیا گیا ہے۔
پاٹل کے مطابق اس سال جنوری میں ان کی تدفین عمل میں آئی ہے۔ واضح رہے کہ پاٹل نے یکم جنوری کو ایک بیان میں حکومت پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ ان نو لاشوں کی ذمہ داری قبول کریں۔
چھبیس نومبر سن دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر ہوئے حملوں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی لاشیں مہاراشٹر کے سرکاری ہسپتال کے مردہ خانے میں خصوصی انتظامات کے ساتھ رکھی گئی تھیں۔ مردہ خانے کے اطراف پولیس کا سخت پہرہ بھی تھا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق جو نو شدت پسند ہلاک ہوئے تھے ان کے نام ناصر، بابر عمران عرف ابو اقصی، ابو علی، ابو شعیب ، بڑا عبدالرحمن ابو عمر، فہد اللہ ،عبدالرحمن چھوٹا، اسماعیل خان ہیں۔
پولیس کے مطابق دس حملہ آور پاکستان سے ممبئی میں بحری راستے کے ذریعہ آئے تھے۔ جن میں سے ایک اجمل امیر قصاب کو پولیس نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔ جن پر تقریباً ایک سال تک مقدمہ چلا اور اب تین مئی کو عدالت اس کیس کا فیصلہ سنائے گے۔ ممبئی پر ہوئے حملوں کے نتیجہ میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاٹل کے اس بیان پر تمام سیاسی جماعتوں اور مسلم علماء نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ مسلم کونسل ٹرسٹ کے صدر ابراہیم طائی نے کہاانہیں یقین ہے کہ لاشوں کی تدفین کسی قبرستان میں نہیں ہوئی ہے اور پولیسن ے لاشوں کی کسی گمنام جگہ پر ہی دفن کیا ہو گا۔۔
ابرہیم طائی کےمطابق گمنام جگہ پر تدفین کر کے حکومت نے ایک نیک کام کیا ہے کیونکہ اگر لوگوں کو اس کا علم ہوتا تو شاید یہ ان کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔
جمعیت علماء کے جنرل سکریٹری مولانا مستقیم اعظمی کا البتہ کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ان شدت پسندوں کی تدفین ممبئی میں بڑے قبرستان میں کر دی گئی ہو کیونکہ وہاں اکثر رات میں پولیس لاوارث لاشیں لاتی ہے جن کی تدفین روگھے ٹرسٹ کرتا ہے۔ ان نو لاشوں کی تدفین بھی اگر اسی زمرے میں دفنا دی گئی ہو تو کسی کو کیا پتہ چلے گا۔اعظی کے مطابق حکومت نے لاشوں کی تدفین کر کے ایک اچھا کام کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







