’عماد وسیم نے راہ سُجھا دی‘: سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
بڑے معرکے بڑے پہلوانوں کا پتہ دیتے ہیں۔ جب دباؤ اعصاب کو معطل کرنے لگے تو عقل کو مشعل رکھنے والے ہی قائدانہ صلاحیتوں کے حامل کہلاتے ہیں۔
مگر بابر اعظم خطا کھا گئے۔
جس ایک اوور پہ یہ میچ آن ٹکا تھا، وہاں یقیناً بابر کو ایسے وسائل میسر تھے کہ بآسانی فتح کی سبیل کر پاتے اور زلمی کو فائنل تک لے جاتے۔ مگر بابر اعظم نے اس اوور کے لئے گیند عامر جمال کو تھما دی۔
حالانکہ یہ واضح ہو چکا تھا کہ اس پچ پہ پیسرز تر نوالہ تھے اور تب تک یہ بھی بابر پہ عیاں ہو چکا تھا کہ عماد وسیم اور حیدر علی پیسرز ہی کو آڑے ہاتھوں لے رہے تھے۔ اگر کوئی چیز ان کے قدم سست کر پا رہی تھی تو وہ صرف سپن تھی۔
اور سپن ڈیپارٹمنٹ میں انھیں عارف یعقوب کی سہولت میسر تھی جو نہ صرف یہاں حیدر علی کے حوصلے پست کر سکتے تھے بلکہ اس سے پہلے ایک میچ میں ایسی ہی صورت حال سے اپنی ٹیم کو نکال کر جیت بھی چکے تھے۔
مگر بابر اعظم کی قائدانہ صلاحیتیں فیصلہ سازی کے بوجھ میں دب سی گئیں اور باؤنڈری کے پرے سے ڈیرن سامی بھی بروقت کوئی صائب مشورہ نہ پہنچا پائے۔
جب شاداب خان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تو تمام کمنٹیٹرز متعجب ہوئے کہ ایسے پریشر میچ میں یہ فیصلہ کیونکر لیا گیا جبکہ ایک ہی شب پہلے یونائیٹڈ ہدف کا دفاع کر کے فتح بٹور چکی تھی۔
اور جب صائم ایوب نے یونائیٹڈ کے بولرز کو آڑے ہاتھوں لیا، تب بھی کمنٹری باکس سے یہ صدا پیہم گونجتی رہی کہ شاداب اپنے فیصلے پہ ضرور پچھتا رہے ہوں گے کہ اگر زلمی یہ میچ جیت گئی تو شکست کا سارا بوجھ شاداب کے اس فیصلے کو ڈھونا پڑے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر زلمی کی ابتدائی یلغار کے بعد مڈل اوورز میں یونائیٹڈ کی بولنگ میچ میں واپس لوٹی۔ نسیم شاہ کا سپیل فیصلہ کن ثابت ہوا کہ انھوں نے 200 کے ہندسے کو بھاگتی بیٹنگ لائن کا وژن مختصر کیا اور پھر بلے بازی کو سازگار حالات میں پشاور ایک تگڑے مجموعے سے کافی پیچھے رہ گیا۔
لیکن جب یونائیٹڈ کی بیٹنگ کا آغاز ہوا تو کمنٹری باکس سے پھر یہ صدائیں اٹھنے لگیں کہ شاداب ایسے پریشر میچ میں ہدف کے تعاقب کی غلطی کر بیٹھے ہیں اور اس صورت حال کا دباؤ اسلام آباد کے بلے بازوں پہ حاوی ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یوں تو صائم ایوب اور مہران ممتاز کے ابتدائی وار تھے ہی ایسے مہلک کہ شاید یونائیٹڈ کی بیٹنگ اس انہدام سے نکل ہی نہ پاتی اور فائنل میں اپنی جگہ ڈھونڈتے رستہ ہی کھو بیٹھتی۔ لیکن یہاں شاداب کا اعتماد کام آیا۔
عماد وسیم کے لئے پی ایس ایل کا یہ سیزن بالکل خوش کن نہیں رہا کہ لیگ سٹیج کے آخری میچ تک ان کی فارم آ کے نہیں دے رہی تھی۔ نہ بولنگ میں کوئی کاٹ تھی اور نہ ہی بلے بازی میں وہ کوئی بوجھ اٹھانے کے قابل دکھائی دے رہے تھے۔
مگر شاداب نے ان پہ اپنا اعتماد برقرار رکھا۔
یہاں جب عماد وسیم بیٹنگ کے لئے آئے تو یونائیٹڈ کی امیدیں ماند پڑ رہی تھیں، زلمی کے بولرز میچ پہ حاوی ہوئے جاتے تھے اور دوسرے کنارے سے بھی عماد کو استحکام کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
مگر کسی زیرک جنگجو کی مانند عماد نے اپنے اعصاب قابو میں رکھے اور سکور بورڈ کو اس مقابلے سے منہا کر دیا۔
وہ یہ جانتے تھے کہ اگر اس میچ کو آخر تک لے جا پائے تو نتیجہ خدشات کے برعکس ہو سکتا ہے۔
انھوں نے صرف اپنی ہی اننگز کی بُنت میں خوبی نہیں دکھائی بلکہ جب حیدر علی بیٹنگ کے لئے آئے تو دوسرے کنارے سے ان کی اننگز کی بھی لمحہ بہ لمحہ رہنمائی کرنے والے عماد ہی تھے۔ یہ عماد کا تحمل اور ارتکاز تھا کہ نہ صرف حیدر علی کی اننگز جوڑ دی بلکہ اپنی ٹیم کو بھی گہری کھائی سے نکال کر جیت کی راہ سُجھا دی۔










